تحریک لبیک کیخلاف آج(جمعہ کو) سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے، شیخ رشید

تحریک لبیک کیخلاف آج(جمعہ کو) سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے، شیخ رشید

ٹی ایل پی کے ارادے بہت خوفناک تھے، قومی اسمبلی میں کوئی قرارداد نہیں آئے گی

فرانس کے سفیر کو نکالتے تویورپی یونین میں حالات بہت پیچیدہ ہو جاتے، اس لیے وہ نہیں ہو سکا

جو قانون کو ہاتھ میں لے گا ،قانون اسے ہاتھ میں لے گا، وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس

ٹی ایل پی پارلیمانی کمیٹی یا متفقہ ڈرافٹ کو لانے کے لیے تیار نہیں تھے اور بضد تھے کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اسے مانا جائے ،پیرنورالحق قادر

اسلام آباد(ویب  نیوز) وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہاہے کہ سپریم کورٹ میں آج(جمعہ کو) تحریک لبیک پاکستان کے خلاف ریفرنس دائر کریں گے، ٹی ایل پی کے حوالے سے قومی اسمبلی میں کوئی قرارداد نہیں آئے گی، فرانس کے سفیر کو نکالتے تویورپی یونین میں حالات بہت پیچیدہ ہو جاتے، اس لیے وہ نہیں ہو سکا۔ اسلام آباد میں وزیر برائے مذہبی امور پیرنورالحق قادری کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ پوری کوشش کی کہ معاملات بات چیت سے حل ہوں جائیں لیکن ٹی ایل پی کے ارادے بہت خوفناک تھے، ٹی ایل پی والے بہت تیاری کے ساتھ آئے تھے، تحریک لبیک پاکستان اسلام آباد آنے پر بضد تھی اور وہ کسی صورت میں 20تاریخ کو اپنے ایجنڈے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہتے تھے۔وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ پولیس اور رینجرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پولیس اہلکاروں نے جانوں کا نذرانہ دے کر امن کو یقینی بنایا، احتجاج کے دوران 580 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، احتجاج کے د وران 30 سے زائد گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں، میں تمام شہدا اور پولیس اہلکاروں کو سلام یش کرتا ہوں۔شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے گھر جائوں گا۔شیخ رشید نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کے حوالے سے نوٹیفکیشن پر وزرا نے دستخط کر دیے ہیں، ہم ٹی ایل پی کو تحلیل بھی کرنے جا رہے ہیں اور آج(جمعہ کو) اس حوالے سے سپریم کورٹ میں ریفرنس داخل کرنے کے لیے کابینہ کو دوبارہ بھیجیں گے۔انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک کو ختم کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 17(2) کو الیکشن ایکٹ کے آرٹیکل 212 کے ہمراہ پڑھ کر کل کابینہ میں دوسری سمری بھی جائے گی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس اور رینجرز نے جس ہمت اور جرات سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے، اس کو وزیر اعظم اور پوری قوم نے بہت سراہا ہے اور پوری قوم نے اس پر سکھ کا سانس لیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ ہم پاکستان کے لیے مسئلے پیدا کرنے کے لیے کسی قیمت پر تیار نہیں تھے،فرانس کے سفیر کو نکالتے تویورپی یونین وغیرہ میں حالات بہت پیچیدہ ہو جاتے، اس لیے وہ نہیں ہو سکا۔ ہمیں یورپی یونین کے ساتھ تمام معاملات کو دیکھنا پڑتا ہے۔ فرانس کے تمام شہری پاکستان میں محفوظ ہیں۔انہوں نے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی اور فیصلے عدالتوں میں ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریک لبیک والے تو 2016 یا 2017 میں سامنے آئے ہیں لیکن پاکستان میں ختم نبوتۖ کے لیے مجھ سے زیادہ کسی نے قربانی دی ہے تو اس کا نام سامنے لائیں، قوم کو اس طریقے سے افرا تفری کا شکار کر کے مشتعل کرنے کا ایجنڈا کبھی بھی کامیاب نہیں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ لاہورمیں یتیم خانہ چوک کے علاوہ پورا پاکستان کھلا ہے۔ جو قانون کو ہاتھ میں لے گا ،قانون اسے ہاتھ میں لے گا۔اس موقع پر وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ میں گزشتہ دو سال سے مسلسل تحریک لبیک سے رابطے میں رہا اور کوشش کی کہ وہ مرکزی دھارے کی سیاسی جماعت کے طور پر نظام کا حصہ بنیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری مسلسل ملاقاتیں ہوئیں اور اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کے حوالے سے ہم کبھی بھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے، قرارداد کے متن اور ڈرافٹ کے حوالے سے حکومت ایک ایسے ڈرافٹ کی تجویز دے رہی تھی جو سفارتی منفی اثرات ملک کے لیے کم سے کم ہوں اور ہم کسی عالمی سطح پر کسی دوسرے بحران کا شکار نہ ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ان سے اس بارے میں بات کررہے تھے تو وہ اپنا متن پیش کررہے تھے اور جب ہمارے اور ان کے مذاکرات جاری تھے تو باوثوق ذرائع سے پتہ چلا کہ 20اپریل کو فیض آباد میں دھرنا دینے کی بھی بھرپور تیارکی جا رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ 20اپریل کو احتجاج کے ویڈیو پیغامات بھی جاری کیے گئے اور ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات منطقی انجام تک نہیں پہنچے تھے تو انہیں اس طرح کی ویڈیو جاری نہیں کرنی چاہیے تھی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے ان سے کہا کہ ہم اسپیکر صاحب سے کہہ کر ایک پارلیمانی کمیٹی کا اعلان کرتے ہیں اور آپ ا ن کے ساتھ بیٹھ کر قائل کریں اور مشاورت سے ایک متفقہ ڈرافٹ تیار کریں لیکن وہ کسی طور پر پارلیمانی کمیٹی یا متفقہ ڈرافٹ کو لانے کے لیے تیار نہیں تھے اور بضد تھے کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اسے مانا جائے اور پارلیمنٹ سے منظور کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومتوں کا کام منت سماجت کرنا نہیں ہوتا لیکن سیاسی جماعت اور منتخب جمہوری حکومت کے طور پر ہم نے ان کو مذاکرات کے ذریعے منانے اور سمجھانے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ رائیگاں گئیں۔نور الحق قادری نے کہا کہ اس سے قبل کئی سیاسی اور مذہبی رہنماں کو گرفتار کیا جاتا رہا ہے لیکن گرفتاری پر جس طرح کا ردعمل دیا گیا وہ کسی صورت شرعی، اخلاقی یا دینی نہیں کہا جا سکتا اور ہم سمجھتے ہیں کہ ناموس رسالتۖ کی حفاظت اسلامی ممالک کے سب سے اہم رکن پاکستان کا کام ہے اور پاکستان دنیا کے ہر فورم پر یہ کام کرے گا۔