Systems Limitedنے پسماندہ طبقے کے طلبہ کی تعلیم کیلئے سٹیزنز فاؤنڈیشن کے ساتھ اشتراک

سسٹمز  لمیٹڈ نے پسماندہ طبقے کے طلبہ کی تعلیم کیلئے سٹیزنز فاؤنڈیشن کے ساتھ اشتراک کرلیا۔

اسلام آباد (ویب نیوز )

سسٹمز  لمیٹڈ کے CEOجناب آصف پیر نے اپنی کمپنی کے سٹیزنز فاؤنڈیشن (TCF)کے ساتھ اشتراک کے نئے اقدام کا اعلان کردیا جس کے تحت پسماندہ طبقے کے طلبہ کو رسمی تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔یہ اقدام کمپنی کی CSRمہم کے تحت بامقصد تعلیم کو فروغ دینے اور کمیونٹی کوسماجی حیثیت سے با اختیار بنانے کیلئے اٹھایاگیا ہے۔

پاکستان کے پریمئیم ٹیکنالوجی کے ادار ے کا پاکستان میں نجی ملکیت کے کم قیمت اسکولوں کے سب سے بڑے نیٹ ورک کے ساتھ اشتراک اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔ اس کا آغاز Systems Limitedکی انتظامیہ اور TCFکے طلبہ کے درمیان عیدمبارک کے خطوط کے تبادلے کے ذریعہ ہوا۔ خطوط کے ذریعے بھیجے گئے گرمجوشی اور مثبت انداز کے پیغامات نے اس مشکل گھڑی میں امید کے دئیے روشن کردئیے جیسے ایک طالب علم نے اپنے قصبے بورے والا، پنجاب میں ایک سیکنڈری اسکول کے قیام کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ وہ اپنا تعلیمی سفر جاری رکھ سکے۔خطوط کے تبادلے کو سوشل میڈیا پر بااثر افراد کو بھی متوجہ کیا جن میں دعا امجد، تسمیہ خان، حبہ وقار، ہدایہ آذر اور کونپل اقبال کے توسط سے Systems Limitedکی انتظامیہ کو معلوم ہوا جس نے ان بچوں کے خوابوں کو تعبیر دینے میں مدد کا فیصلہ کیا۔

سوشل میڈیا پرشعبہ ء تعلیم سے گہر ی وابستگی رکھنے والی معروف شخصیت دعا امجد کوجناب آصف پیر نے ویڈیوپرایک پرخلوص جواب میں کہا،”میں آپ سب سے عہد کرتاہوں کہ ہم بورے والا میں اسکول کی تعمیرکیلئے TCFکے ساتھ شامل ہوں گے جو بڑی تعداد میں ضرورت مند بچوں کی تعلیم کیلئے حیرت انگیز کام کررہے ہیں۔ہم یہ اس لئے کررہے ہیں کہ یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ایک ذمہ دار ادارہ ہونے کی حیثیت سے ہم ایسی CSRسرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔”

خواندگی کسی بھی ملک کی تعمیرو ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ علم نوجوانوں کی شخصیت کو مضبوط بناتا ہے جس سے جدت اور ترقی کے کلچر کوتقویت حاصل ہوتی ہے۔ صرف 58% کی شرح خواندگی کے ساتھ پاکستان اپنے پڑوسی ممالک چین (80%)، انڈیا (74%) اور ایران(85%) سے بہت پیچھے ہے۔اس بناء پر یہاں پیداواریت اور مالیاتی ترقی کے حصول کیلئے مطلوبہ صلاحیتیں اور ٹیکنیکل معلومات حاصل کرنے کے مواقع نمایاں طور پر کم ہیں۔پاکستان کی مجموعی آبادی کا60%سے زیادہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے جن کورسمی تعلیم تک مناسب رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس لئے ایسے اقدام تعلیم کے فروغ اور ملک کی مجموعی خواندگی کی شرح میں اضافے کا ذریعہ ہیں جس کے نتیجے میں ملازمتوں کے بہتر مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی ترقی میں بھی اضافہ ہوگا۔