منقسم اپوزیشن کی موجودگی میں قومی اسمبلی کا  ہنگامہ خیز بجٹ سیشن شروع
سانحہ گھوٹکی کے حوالے سے قاتلو ، جواب دو، خون کا حساب دو،

گو نیازی گو، کے نعرے لگ گئے، وزیراعظم عمران خان کے استعفے کا مطالبہ
دونوں بڑی  اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں بلاول بھٹو زرداری اور احسن اقبال کے درمیان تلخ کلامی
کورم کے معاملے پر اپوزیشن کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا،حکومت قانون سازی میں کامیاب رہی

اسلام آباد( ویب نیوز)منقسم اپوزیشن کی موجودگی میں قومی اسمبلی کا  ہنگامہ خیز بجٹ سیشن شروع ہوگیا، سانحہ گھوٹکی کے حوالے سے قاتلو، جواب دو، خون کا حساب دو، گو نیازی گو، کے نعرے لگ گئے، دونوں بڑی  اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں بلاول بھٹو زرداری اور احسن اقبال کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی، کورم کے معاملے پر اپوزیشن کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، حکومت قانون سازی میں کامیاب رہی، سانحہ گھوٹکی کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے استعفے کا مطالبہ کردیا گیا ہے۔ پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے  مطالبہ کیا کہ معمول کا ایجنڈا معطل کرکے سانحہ گھوٹکی پر بحث کی جائے، عمران خان خود سابقہ حکومتوں سے  اس قسم کے سانحات پر استعفوں کا مطالبہ کرتے تھے۔ وزیراعظم کا استعفیٰ کہاں ہے، وزیر ریلوے کا استعفیٰ کہاں ہے، غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے ڈپٹی اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پہلا حق اپوزیشن کی بڑی جماعت کا  ہے مگر ہمیں بولنے کے حوالے سے نظر انداز کیا جارہا ہے میرا قد 6فٹ 6انچ ہے کیا میں نظر نہیں آرہا۔ ایم ایم اے کے رہنما مولانا اسعد محمود نے بھی سانحہ گھوٹکی پر بحث اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے سانحہ گھوٹکی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ  کراچی میں لشکر کشی کا سلسلہ جاری ہے ایک ہائوسنگ سوسائٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ جئے سندھ کے نعرے لگے، سینکڑوں لوگ جدید اسلحہ سے لیس تھے۔ پاکستان کے خلاف نعرے لگائے گئے ، پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ پولیس کس کے ماتحت ہے سندھ حکومت جواب دے۔ ان نکتہ اعتراضات کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے ایجنڈے کے مطابق کارروائی شروع کی تو اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے  ان کا گھیرائو کرلیا۔بے ضمیروں جواب دو ، خون کا حساب دو، استعفیٰ دو استعفیٰ دو، قاتلوں جواب دو، گو نیازی گو، ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے اور دیگر نعرے لگانے شروع کردئیے۔ فلور وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کو دیدیا گیا ۔ فواد چوہدری نے  سانحہ گھوٹکی پر ابتدائی رپورٹ پیش کی اور کہاکہ آزادانہ تحقیقات کے نتیجہ میں ذمہ دار  سرکاری افسران کا تعین کیا جائے گا۔ انہوں نے  ان واقعات کی ذمہ داری سابقہ حکومتوں پر ڈال دی جس پر ایوان میں شدید ہنگامہ شروع ہوگیا۔ اپوزیشن نے وزیر اطلاعات کو تقریر نہ کرنے دی۔ شور شرابے  اور ہنگامہ آرائی میں فواد چوہدری نے تقریر جاری رکھی اور کہاکہ اداروں کی تباہی کی وجہ سے  یہ سانحات  ہورہے ہیں، چاچے ، مامے لگائے گئے ذاتی مفاد کیلئے اداروں کو استعمال کیا گیا۔ اس دوران مسلم لیگ ن کے جاوید حسین نے کورم کی نشاندہی کردی۔ جنوبی پنجاب اور بلوچستان  عوامی پارٹی کے بعض ارکان بھی   ایوان سے باہر چلے گئے تاہم کورم پورا نکلا کارروائی کے مطابق ایجنڈے کو آگے بڑھایا گیا۔ کراچی اور حیدر آباد میں کاروباری برادری پر کووڈ 19  کے اثرات کے حوالے سے  ایم کیو ایم کے ارکان نے توجہ دلائو نوٹس پیش کیا۔ انجینئر صابر حسین نے کہاکہ خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے اپوزیشن کے شور شرابے کی وجہ سے پارلیمانی سیکرٹری کنول شوزف کا بیان سنائی نہ دیا۔ اسامہ قادری نے کہاکہ ہائوسنگ سوسائٹی پر لشکر کشی کے دوران کراچی میں جدید اسلحہ بردار دندناتے پھرتے رہے پاکستان کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ اقبال محمد علی خان نے کہا کہ کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ ایم کیو ایم کے ارکان نے دھمکی دی۔ کراچی میں راستے روک دئیے جائیں گے ۔ ہماری بات نہ سنی تو ہم ایسی نشستوں کو لات مار دیں گے۔ مستعفی ہو جائیں گے۔ حکومت کی جانب سے کوئی واضح جواب نہ آسکا۔ اپوزیشن سانحہ گوٹھکی پر بحث کا مطالبہ کرتی رہی۔ اس دوران مشیر پارلیمانی امور نے انتخابی دوسرا ترمیمی آرڈیننس 2021پیش کردیا۔ وزیر قانون فروغ نسیم نے  والدین کے تحفظ کا آرڈیننس پیش کی۔ وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے  فوجداری قوانین میں ترمیمی بل پیش کیا۔ تحفظ صحت کی اتھارٹی کا بل بھی پیش کردیا گیا۔ وزیر تعلیم شفقت محمود نے اسلام آباد یونیورسٹی کے قیام کا بل پیش کیا جسے اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجود منظور کرلیا گیا۔ سید نوید قمر نے کہاکہ سانحہ گھوٹکی پر سیاست کی جاریہ ہے خدارا آج کسی یونیورسٹی کے بل کو رہنے دیں۔ گھوٹکی میں لوگ خود آلود ہیں تاہم  ڈپٹی اسپیکر نے کارروائی جاری رکھی۔ نجکاری کمیشن کا بل بھی منظور کرلیا گیا۔ ضروری قانون سازی کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے فلور ایک بار پھر بلاول بھٹو زرداری کو دیدیا جس پر احسن اقبال سیخ پا ہوگئے اور کہاکہ چند ہی لمحوں بعد دوسری بار کیوں فلور دیا گیا جس پر بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر کے آغاز میں احسن اقبال کو کاغذی عہدیدار قراردیدیا۔ یہ کاغذی عہدیدار کون ہوتا ہے مجھ پر بات کرنے والا۔ انہوں نے سانحہ گھوٹکی کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان، وزیر ریلوے کے استعفوں کا مطالبہ کیا۔ فواد چوہدری نے گھوٹکی کے سانحہ کا خون اپوزیشن جماعتوں کی سابقہ حکومتوں کو قراردیدیا اور کہاکہ یہ خون اس طرف بیٹھے ان لوگوں کے ہاتھوں پر ہے۔ وزیر مواصلات مراد سعید کو بلاول بھٹو کی تقریر کا جواب دینے کیلئے فلور دیا گیا انہوں نے بلاول کو پرچی چیئرمین قرار دیا تو اپوزیشن کے سخت ریمارکس اور نعروں کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ آغا رفیع اللہ نے مراد سعید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چاچو جواد چاچوجواد واشل واشل کے نعرے لگائے۔ مراد سعید کو گفتگو کرنا مشکل ہوگیا۔  ڈپٹی اسپیکر نے ایجنڈے کی دیگر کارروائی آگے بڑھائی۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین  بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ ماہ ڈی ایس سکھر ریلوے نے سب کمیٹی کے سامنے13 خطرناک ٹریکس کی نشاندہی کردی تھی اور واضح کیا کہ مرمت نہ کی گئی تو کوئی بھی حادثہ ہوسکتا ہے جس کی ذمہ دار حکومت اور وزیر ریلوے ہوں گے۔ غریبوں کے سفر کی بات ہے اسے محفوظ بنانا ہے۔
am-aa-mz