جسٹس فائزعیسی کیس ، حکومت نے نظرثانی درخواست دائرکردی

سپریم جوڈیشل کونسل کو ایف بی آر رپورٹ پر ازخود کارروائی کرنے دی جائے، استدعا

نظرثانی درخواست صدر، وزیراعظم، وزیرقانون ، معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر کی جانب سے دائر کی گئی

اسلام آباد(ویب  نیوز ) وفاقی حکومت نے جسٹس فائز عیسی کیس میں فیصلہ پر نظرثانی کیلئے  سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔ قابل اصلاح نظرثانی درخواست صدر، وزیراعظم، وزیرقانون ، معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت نظرثانی فیصلے میں ایف بی آر رپورٹ کی حد تک دوبارہ نظرثانی کرے، اور سپریم جوڈیشل کونسل کو ایف بی آر رپورٹ پر ازخود کارروائی کرنے دی جائے۔اس سے قبل بھی حکومت کی جانب سے جسٹس فائز عیسی کیخلاف ایک اور کیس بنانے کی کوشش ناکام ہوگئی تھی، حکومت کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسی کیس کے فیصلے میں نظر ثانی درخواستیں دائر کی تھیں، تاہم  سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف حکومت کی نئی درخواستیں اعتراض لگا کر واپس کر دیں۔ رجسٹرار آفس نے اعتراض لگایا کہ ایک کیس میں دو مرتبہ نظرثانی نہیں ہوسکتی۔واضح رہے کہ حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا جسے سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا، تاہم ٹیکس معاملات ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم دیا تھا۔اس حکم کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسی اور ان کی اہلیہ نے نظر ثانی درخواستیں دائر کیں جو سپریم کورٹ نے منظور کرلیں تھیں جس کے نتیجے میں ان کے خلاف ہونے والی ایف بی آر کی کارروائی، تحقیقات اور رپورٹ کالعدم قرار دے دی گئی۔سپریم کورٹ کی جانب سے اس معاملہ میں ابھی تک تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا تاہم حکومت کی جانب سے نظرثانی درکواست دائر کر دی گئی ہے۔