فصلوں کی پیداوار بڑھا کر غذائی تحفظ  یقینی بنا یا جا سکتا ہے،  ڈاکٹر عارف علوی

عوام عید کے موقع پر کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
صدر مملکت کا تقریب سے خطاب

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ فصلوں کی پیداوا بڑھا کر غذائی تحفظ  یقینی بنانے کے  ساتھ ساتھ مہنگائی پر قابو پایا جا سکتا ہے، آم کی ویلیو ایڈیشن  اور نئی منڈیوں کی تلاش کر کے کثیر زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے، مختلف اقدامات سے پاکستانی آم کو دنیا بھر میں متعارف کرایا جا سکتا ہے،عوام سے اپیل ہے کہ عید کے موقع پر کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ ان خیالات کا ا ظہار انہوں نے منگل کو ایوانِ صدر میں مینگو فیسٹول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی  نے کہاکہ پاکستان میں دنیا کا بہترین نہری نظام موجود ہے۔ ملکی زراعت کو بہتر بنانے کیلئے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ کپا س پر کیڑوں کا حملہ روک کر پیداواربڑھائی جا سکتی ہے۔ دنیا میں اس وقت فصلوں کی دوگنا اور تین گنا پیداوار حاصل کی جار ہی ہے۔ ہمیں دنیا کے تجربات سے استفادہ کرکے  اپنی فصلوں کی پیداوار بڑھانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پنجاب کے کسانوں نے امریکی زراعت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ خوردونوش کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا اہم ہے ۔ ملکی پیداوار بڑھا کر مہنگائی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مینگو فیسٹول میں ملتان، حیدرآباد، سکھر، جھنگ، شکارپور ، خیرپور اوراسلام آباد کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز شریک ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ پاکستانی آم کا ذائقہ دنیا بھر میں مقبول ہے۔ بیرون ملک پاکستانی آم کا فخر سے ذکر کیاجاتا ہے اور دوستوں کو تحفے کے طور پر پیش کیاجاتا ہے۔ بیرون ملک دوستوں کو آم بھیجنے کا مقصد پاکستانی آم کو متعارف کرانا ہے۔ مختلف اقدامات سے پاکستانی آم کو دنیا بھر میں متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ گزشتہ سال 17 ممالک میں آم متعارف کرانے کے لئے اس کا تحفہ بھیجا گیا ، رواں سال 37ممالک میں آم متعارف کرانے کیلئے آم کا تحفہ بھیج رہے ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ  بیرون ملک پاکستانی آم مہنگا ہے تاہم  آم کی پیداوار اور معیار میں اضافے سے قیمتیں کم کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھلوں کی پیدوار بڑھے گی تو ملک میں سرمایہ کاری بھی آئے گی۔چونسہ اور سندھڑی آم کی جیوگرافیکل انڈیکس میں شمولیت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیٹ ٹریٹمنٹ کے ذریعے آم کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  پاکستانی آم کرغزستان برآمد کیا گیا جس کی مٹھاس اور ذائقہ کو واہاں کے عوام نے سراہا ہے۔ انہوں نے کہا  کہ آم کی مختلف اقسام ہوتی ہیں ، اس کا رنگ اور ذائقہ مختلف ہوتا  ہیتاہم جب آم برآمد کیا جائے تو اس کا خیال رکھا جائے ۔ آم کی عالمی منڈیوں میں زیادہ رسائی اور اس کی برآمد میں اضافہ کے لئے گریڈنگ اور ویلیو ایڈیشن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی آم کی برآمدات 2 ملین ٹن ہے ۔ حکومتی اقدامات کے باعث اس میں اضافہ  ہو گا۔ زرعی یونیورسٹی کے تعاون سے اس پر باقاعدہ ریسرچ کر کے اس کی پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ خصوصی اقتصادی زونز میں صنعتوں کا قیام اہم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں۔ ان میں ڈیجیٹل فنانسنگ، کامیاب جوان پروگرام سمیت دیگر پروگرام شامل ہیں۔ خواتین کو آسان شرائط پر قرضے  ئے دیئے جارہے ہیں۔ ملک میں غریبوں کو اوپر اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نیکورونا  وائرس کی وبا کے دوران غریب طبقے کے ریلیف کے لئے اقدامات جبکہ مخیر حضرات نے کھلے دل کامظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ کورونا  وائرس کی وبا کی نئی لہر آئی ہے۔ اس میں ہمیں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عوام  سے اپیل کی کہ  عید کے موقع پر کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت عالیہ حمزہ نے کہا کہ پاکستان کا موسم کئی فصلوں کے لئیساز گار ہے۔ کورونا  وائرس کی وبا کے دوران حکومت کے موثر اقدامات کے باعث اشیائے خوردونوش کی فراہمی میں تعطل نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت آم سمیت دیگر مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کے لئے تمام متعلقہ فریقوں سے مل کر کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آم کی ویلیو ایڈیشن اور نئی منڈیوں کی تلاش پر توجہ مرکوز کی ہے۔ آم کی پیداوار میں اضافے اور ویلیو ایڈڈ سے متعلق ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہے۔ تقریب سے ایوان صنعت و تجارت رحیم یار خان  کے صدر بشیر احمد اور سابق صدر عبدالروف مختیار نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر صدر مملکت نے فیتہ کاٹ کرمینگوفیسٹیول کا افتتاح کیا۔