افغانستان میں حکومت کا اعلان آئندہ 24 سے 48گھنٹے میں متوقع ہے، طالبان

افغانستان میں حکومت کا اعلان آئندہ 24 سے 48گھنٹے میں متوقع ہے، طالبان
نئی حکومت میں خواتین شامل، پرانے چہرے نہیں ہوں گے،ہرقومیت کے نئے اہل افراد کو حصہ بنایا جائے گا، شیر محمد عباس ستانکزئی
کابل ائیرپورٹ کو دو دن میں بحال کر دیا جائے گا،بحالی پر 25 سے 30 ملین ڈالر خرچہ ہوگا، رقم قطر اور ترکی مدد کے طور پر دے گی
قانونی دستاویزات کے حامل افراد ملک سے باہر جا سکیں گے، امریکا بغیر دستاویزات والے 25سو افغانوں کو واپس بھیج رہا ہے
ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی سربراہی میں قندھار میںسپریم کونسل کے تین روزہ اجلاس میں سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر غور و خوص کیا گیا،ذبیح اللہ مجاہد
اجلاس میں اشیائے ضروریہ کی حفاظت کیساتھ شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور ان سے اچھے برتا ئوکا بھی فیصلہ کیا گیا،ترجمان افغان طالبان

دوحہ /کابل(صباح نیوز)افغانستان میں حکومت سازی کیلئے مشاورتی عمل مکمل کر لیا گیا، طالبان حکومت کا اعلان آئندہ 24 سے 48گھنٹے میں متوقع ہے۔ نئی حکومت میں خواتین بھی شامل ہوں گی، طالبان حکومت میں پرانے چہرے شامل نہیں ہوں گے۔ ہرقومیت کے نئے اہل افراد کو نئی حکومت کا حصہ بنایا جائے گا۔ حکومت سازی کے متعلق اہم فیصلے طالبان کی سپریم کونسل کے منعقدہ اجلاس میں کیے گئے۔ دوحہ سیاسی دفتر کے نائب رکن شیر محمد عباس ستانکزئی نے کہا کہ نئی حکومت کا اعلان آئندہ 24 سے 48گھنٹے میں متوقع ہے۔ نئی حکومت میں گزشتہ 20 برس کی حکومت میں رہنے والے افراد شامل نہیں ہوں گے، نئی حکومت میں متقی ، پرہیزگار اور تعلیم یافتہ افراد شامل ہوں گے،انہوں نے مزید کہا کہ حکومت میں خواتین کی کافی تعداد ہوگی، یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ بڑے منصبوں پر فائز ہوں گی یا نہیں۔ شیر محمد عباس ستانکزئی کا کہنا تھا کہ کابل ائیرپورٹ کو دو دن میں بحال کر دیا جائے گا۔ ائیر پورٹ کی بحالی پر 25 سے 30 ملین ڈالر خرچہ ہوگا، بحالی کی رقم قطر اور ترکی کی جانب سے مدد کے طور پر دی جائے گی۔طالبان رہنما نے مزید کہا کہ قانونی دستاویزات کے حامل افراد ملک سے باہر جا سکیں گے،

 

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا بغیر دستاویزات والے 25سو افغانوں کو واپس بھیج رہا ہے۔طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس ضمن میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سپریم کونسل کا تین روزہ اجلاس امیر طالبان ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی سربراہی میں قندھار میں ہوا جو ہفتے سے پیر تک جاری رہا۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں ترجمان طالبان نے کہا ہے کہ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے ساتھ دیگر متعلقہ امور پر غور و خوص کیا گیا۔ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اجلاس میں اشیائے ضروریہ کی حفاظت کیساتھ شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور ان سے اچھے برتا کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ اجلاس میں نئی اسلامی حکومت اور کابینہ کی تشکیل سے متعلق اہم فیصلے بھی کیے گئے ہیں۔ترجمان طالبان نے بتایا کہ سپریم لیڈر نے سب کو مکمل ہدایات دے دی ہیں اور ان کی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کردیا ہے۔ یاد رہے کہ افغانستان سے امریکی اور اتحادی فوجیوں کے انخلا کے بعد طالبان کی مکمل توجہ نئی حکومت بنانے کی طرف ہے۔طالبان رہنما انس حقانی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی افغان حکومت کی تشکیل آخری مراحل میں ہے، قندھار میں طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نے اجلاس کی صدارت کی جس میں ملک کی موجودہ صورتحال، سکیورٹی اور سماجی مسائل پر بات چیت کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئی حکومت کے خدوخال جلد سامنے آجائیں گے۔ادھر پنج شیر میں مزاحمتی اتحاد نے وادی کے داخلی راستے پر طالبان کا حملہ پسپا کرنے کا دعوی کیا ہے۔ مزاحمتی فرنٹ کے ترجمان فہیم دشتی نے کہا کہ حملے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، متعدد مزاحمتی جنگجو بھی زخمی ہوئے ہیں۔دوسری جانب طالبان ترجمان کے معاون نے کہا ہے کہ وادی پر سرے سے حملہ ہی نہیں کیا گیا۔ ان کی افواج نے پنج شیر کا محاصرہ کر رکھا ہے لیکن انہیں امید ہے کہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائے گا۔

#/S