سید علی گیلانی کشمیریوں کی تحریک کی حقیقی آوازتھے، بھارتی افواج کی جانب سے جسد خاکی چھیننے کی شدید مذمت، ترجمان دفتر خارجہ

علی گیلانی کی پاکستان اور کشمیر سے بے مثال وابستگی اور محبت پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، بیان

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے کہا ہے کہ سید علی گیلانی استصواب رائے کی کشمیریوں کی تحریک کی حقیقی آواز اور ہیرو تھے۔دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ترجمان نے کہاکہ حکومتِ پاکستان اور عوام سید علی گیلانی کی وفات پر رنج وغم اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں، اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کی عمر بھر جدوجہد کرنے پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، وہ کشمیریوں کی مزاحمت کی علامت تھے۔انہوںنے کہا کہ سید علی گیلانی طویل عرصہ گھر میں نظر بند رہے، لیکن کشمیر کاز پر غیرمتزلزل عزم سے ڈٹے رہے، بے پناہ ذاتی مشکلات و مصائب اور جبر و استبداد کا کوئی ہتھکنڈا ان کے آہنی عزم کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکا، عمر بھر انصاف اور آزادی کے حصول کی جدوجہد کرنے والے سید علی گیلانی کو قوم شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناجائز بھارتی قبضے اور جبرواستبدا کے خلاف سید علی گیلانی نے اپنی جدوجہد سے کشمیر کی تین نسلوں کو ایک نیا عزم و حوصلہ دیا، وہ استصواب رائے کی کشمیریوں کی تحریک کی حقیقی آواز اور ہیرو تھے، وہ لمحہ بھر کے لئے بھی اپنی نظریاتی سمت سے کبھی غافل نہیں ہوئے، وہ اپنے قلب و روح کی پوری وابستگی کے ساتھ جائز و منصفانہ نصب العین پر کاربند رہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ سید علی گیلانی کی پاکستان اور کشمیر سے بے مثال وابستگی اور محبت پر انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ان کی یاد قابض بھارتی فوج کے ناجائز قبضے کے خلاف اہل کشمیر کے جذبے اور تحریک کو آگے بڑھاتی رہے گی، اللہ تعالی ان کے درجاتِ بلند فرمائے۔ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے قانونی حق کے حصول تک کشمیریوں کی ہرممکن مدد کرتا رہے گا۔

پاکستان کی بھارتی افواج کی جانب سے سید علی گیلانی کا جسد خاکی چھیننے کی شدید مذمت

پاکستان نے قابض بھارتی افواج کی جانب سے عظیم کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی کا جسد خاکی چھیننے کی بہیمانہ حرکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جب اہل خانہ سید علی گیلانی کی آخری رسومات کی تیاریوں میں مصروف تھے تو قابض بھارتی افواج کے بھاری دستے نے سرینگر میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا، اہلخانہ کو ہراساں کیا اور سید علی گیلانی کاجسدخاکی ساتھ لے گئے۔ اہلخانہ نے جب چھاپہ مار ٹیم کو بتایا کہ سید علی گیلانی کی وصیت تھی کہ انہیں سرینگر کے شہدا کے قبرستان میں دفن کیا جائے تو اطلاعات کے مطابق انہیں کہا گیا کہ بھارت سید علی گیلانی کی وصیت کردہ جگہ پر تدفین کی اجازت نہیں دے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کی حکومت سید علی گیلانی اور جس مقصد کے لئے وہ تمام عمر برسر پیکار رہے، سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ ان کی وفات کے بعد یہ غیر انسانی اقدام کیا گیا۔ یہ اقدام قابض بھارتی افواج کی سفاکی و سنگ دلی کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے، اس سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت اپنے ناجائز قبضے کو طول دینے کے لئے تمام شہری اور انسانی اقدار پامال کر رہا ہے۔بھارتی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ سید علی گیلانی کی تدفین کر دی گئی ہے جبکہ وادی میں کرفیو نافذ کر دیاگیا ہے اور تمام انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں اس سنگین اور غیر معمولی صورتحال کا نوٹس لے اور عالمی قانون اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر بھارت کو کٹہرے میں کھڑا کرے۔