غیر ممالک میں تعینات پاکستان کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ افسران کے  کے لیے اہداف متعین کئے جائیں۔ وزیر اعظم

وزیر اعظم کی زیر صدارت ملکی برآمدات کا حجم بڑھانے کے لئے حکومتی اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس
غیر ممالک میں تعینات پاکستان کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ افسران کے  کے لیے اہداف متعین کئے جائیں۔ وزیر اعظم کی کامرس ڈویژن کو ہدایت

اسلا م آباد( ویب  نیوز)وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملکی برآمدات کا حجم بڑھانے کے لئے حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے مختلف اقدامات کے  حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس میں قومی سلامتی کے مشیر  ڈاکٹر معید یوسف، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل،  کامرس ڈویژن اور توانائی ڈویژن کے سیکریٹری صاحبان اور سینئر اہلکار شریک ہوئے،اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کی موجودہ برآمدات کے حجم میں مجموعی طور پر 30 ارب ڈالر کا اضافہ ممکن ہے۔ برآمدات بڑھانے کے ضمن میں  ممکنہ طور پر  آء ٹی، ٹیکسٹائل، ادویات، پولٹری، چاول ، سبزیاں اور میواجات، چمڑا، نمک، سنگ مرمر، سرا میکس اور سرجیکل اوزار سمیت 19 مصنوعات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔کامرس ڈیویژن نے آگاہ کیا کہ تمام شراکت داروں بشمول صنعتکاروں، برآمد کنندگان اور متعلقہ سرکاری اداروں سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کے تمام معاشی اعشارئیے مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں تاہم درآمدات اور برآمدات کے درمیان پائے جانے والے فرق کو کم کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ حکومت برآمد کنندگان کے لیے آسانیاں پیدا کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کامرس ڈویژن کو ہدایت کی کہ غیر ممالک میں تعینات پاکستان کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ افسران کے  کے لیے اہداف متعین کئے جائیں،کامرس ڈیویژن اگلے دو ہفتوں میں آسٹریٹیجک ایکسپورٹ فریم ورک منظوری کے لیے پیش کرے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستانی برآمدات میں اضافے کے ضمن میں  مارکیٹ اور مصنوعات میں تنوع لانا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہیوزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستانی کاروباری برادری میں بیشمار پوٹینشل  موجود ہے۔کاروباری برادری کو موافق فضا  اور کاروبار دوست پالیسیوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کی مشاورت سے پالیسیوں کی تشکیل کے فلسفے پر عمل پیرا ہے اور حکومت اور انڈسٹری کی مضبوط پارٹنر شپ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ایک طرف حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے وہاں حکومت کاروباری برادری سے توقع کرتی ہے کہ وہ ان مواقع کا بھرپور فائدہ اٹھائیں اور ملکی معیشت کے استحکام میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں۔