بجلی بل کے ذریعے ظالمانہ و غیر منصفانہ ” جبری ٹیکس”

بجلی بل کے ذریعے ظالمانہ و غیر منصفانہ ” جبری ٹیکس”

رشوت خوری اور ٹیکس کنسلٹنٹس کے ہاتھوں عوامی خواری کا منصوبہ

فوت شدگان ۔ یتیم ۔ مساجد و مدارس ۔ جھونپڑی ۔ طلباء سمیت سب ایڈوانس ٹیکس دیں گے ۔۔

‏صدارتی آرڈیننس کے زریعے بجلی بلوں میں 5 سے 35 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے ۔

یہ ایک ظالمانہ اور غیر منصفانہ فیصلہ ہے ۔۔۔ مسئلہ کیا ہے ؟

لاہور ( محمد_عاصم_حفیظ )

یہ ٹیکس ہر بجلی بل میں شامل ہو گا ۔ بظاہر حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ یہ ایڈوانس انکم ٹیکس ہو گا ۔ یعنی سال کے آخر پر آپ اپنی ٹیکس ریٹرن جمع کرائیں ۔ اگر آپ کا ٹیکس نہ بنتا ہوا تو یہ واپس ہو جائے گا ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے واپسی تقریبا ناممکن ہی سمجھیں ۔

ایک اہم ترین مسئلہ کرائے پر رہنے والوں کا ہے ۔ کیونکہ بجلی کا میٹر تو مالک مکان کے نام ہو گا ۔ کرایہ دار اس بجلی میٹر کا کلیم کیسے کرے گا ؟ اب کرایہ دار یا تو گھر چھوڑیں یا  رجسٹریاں اپنے نام کرائیں ، پھر ہی  میٹر اپنے نام کرا سکتے ہیں ؟

اسی طرح اگر ایک ہی عمارت میں کئی لوگ رہتے ہیں ۔ وہ "سب میٹر” لگا کر بل کو تقسیم کرتے ہیں ۔ اب اس صورت میں یہ ٹیکس واپس کلیم نہیں کیا جا سکے گا ۔ اگر کرنا ہو تو کون کلیم کرے گا ؟

ہمارے ہاں عموما میٹر باپ کے نام ہوتے ہیں ۔ بیٹوں کے خاندان اکھٹے رہتے ہیں ۔ اب باپ تو ٹیکس فائلر ہی نہیں ۔ ریٹائرڈ زندگی گزار رہا ہے ۔ کیونکہ اس کی آمدن ٹیکس نیٹ میں نہیں آتی ۔ بل اس کے نام آتا ہے تو وہ ٹیکس کلیم کیسے کرے گا ۔؟

اسی طرح اگر جس کے نام میٹر ہے وہ فوت ہو چکا ہو تو یہ ٹیکس کی کاٹی گئی رقم واپس ملنے کا چانس ہی نہیں ہے

یعنی حکومت کا کاررنامہ دیکھیں کے اب وفات شدگان کے نام پر بھی ایڈوانس انکم ٹیکس کٹے گا اور وہ واپس بھی نہیں ہو سکتا ۔ یا تو حکومت فوت شدگان کے بھی فائلر بننے کا بندوست کرے ۔ ہے نہ سیانی گورنمنٹ ۔۔

مدارس مساجد یتیم خانے وغیرہ ٹیکس نیٹ میں نہیں آتے ۔ ان کو بھی یہ ٹیکس ادا کرنا ہو گا ۔ عموما ان کے بجلی بل بھی لاکھوں میں ہوتے ہیں ۔ یہ آمدن ہی نہیں کماتے تو ان پر انکم ٹیکس کیوں ؟؟

جو بیوہ چندہ زکوۃ لیکر گھر کا خرچہ چلاتی ہے وہ بھی انکم ٹیکس دے گی ۔

پرائیوٹ سٹوڈنٹس ہاسٹلز میں طلباء و طالبات کی بڑی تعداد رہتی ہے ۔ یہ لوگ بھی ٹیکس نیٹ میں نہیں آتے ۔انکم نہیں کما رہے لیکن یہ ٹیکس دینا ہو گا ۔ یہ غیر قانونی ہو گا

حتی کہ جھونپڑیاں تک ٹیکس ادا کریں گیں ۔ جن کی آمدن ٹیکس کی مد میں آتی ہی نہیں ہے ۔

شہری علاقوں / رہائشی مکانات میں قائم فلاحی ادارے ۔ دینی و دیگر تعلیم کے چھوٹے مراکز ۔ دفاتر کو بھی یہ ٹیکس دینا ہو گا کیونکہ ان کے بجلی بل بھی مالکان کے نام ہوتے ہیں۔

دوکانوں اور مارکیٹوں پلازوں کے بجلی بل بھی عموما اکھٹے ہوتے ہیں ۔ سب میٹر سے تقسیم ہوتے ہیں ۔ ان کا ٹیکس کلیم کیسے ہو گا ۔؟

اس سے تو یہ ہو گا کہ مارکیٹ پلازے مکان کے مالکان ٹیکس ریٹرن کی مد میں رقوم نکلوائیں گے جبکہ عوام مفت میں بوجھ اٹھائے گی ۔ چھوٹے ٹھیلے ریڑھی والے بھی بجلی استعمال کرتے ہیں ۔ انہیں بھی یہ ٹیکس دینا ہو گا ۔

سرکاری گھر ۔ فلیٹ و پرائیویٹ کمپنیوں فیکٹریوں کے گھر کا بجلی نظام بھی ان کا اپنا ہوتا ہے ۔ سب میٹر ہوتے ہیں ۔ ان کا ٹیکس کلیم تو پھر فیکٹری مالک کھائے گا ۔

اسی طرح پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی وغیرہ والے بھی بجلی تقسیم کرتے ہیں ۔ سب میٹر سے ۔ ان کا کیا بنے گا ؟

حکومت بڑے مگر مچھوں سے تو ٹیکس لیتی نہیں ۔ کمپنیوں فیکٹریوں والے قابو نہیں آتے اب ہر غریب کو پکڑنے کا پلان بنایا گیا ہے ۔ جو لوگ ٹیکس لاگو ہونے کی آمدن سے کم کما رہے ہیں ان سے ٹیکس ایڈوانس وصول کر لینا اور پھر یہ کہنا کہ سال بعد واپس کلیم کر لیں ۔ یہ انتہائی غیر منصفانہ اور ظالمانہ اقدام ہو گا ۔ یعنی ہر غریب سے جبری ٹیکس وصول کرکے بعد میں کہا جائے کہ اب سرکاری دفاتر کے چکر لگاؤ ۔ وکیل سے ٹیکس ریٹرن بھرواؤ ۔ اور اگر واپس لینا ہے تو یہ ساری خواری بھگتو ۔۔۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو گا ۔

ٹیکس کنسلٹنٹس ۔ وکلاء خوب کمائیں گے ۔ ایف بی آر کے اہلکاروں کی موجیں لگیں گیں اور عوام خوار ہوں گے ۔ یا پھر سارا ٹیکس چھوڑنا پڑے گا ۔ یعنی حکومت کو تحفہ ۔

کیونکہ حکومت پہلے ہی ماچس کی ڈبی ۔ دودھ کے پیکٹ ۔ گولی ٹافی تک پر ٹیکس وصول کر رہی ہے ۔ آسان الفاظ میں اسے ” سانس لینے ” روشنی لینے یا پھر پنکھے کی ٹھنڈی ہوا ۔ موٹر کے ذریعے پانی کے حصول پر عائد ٹیکس کہہ سکتے ہیں کیونکہ رہائشی گھروں میں بجلی کا استعمال تو یہی ہوتا ہے ۔ اور اس ٹیکس کا مقصد بھی یہی ہے ۔ بجلی بل کے ذریعے جبری ٹیکس ۔۔۔ خدشہ یہ بھی ہے کہ یہ ٹوٹل بل پر ٹیکس ہو گا ۔ یعنی بجلی بل میں شامل کئی دیگر ٹیکسوں کو بھی شامل کرکے اس رقم کے فیصد پر ٹیکس ۔ یعنی ٹیکس پر ٹیکس ۔۔۔

۔ آئیے ذرا اس ٹیکس کی شرح دیکھتے ہیں

ماہانہ 10 ہزار روپے تک کے بجلی بل میں 5 فیصد ایڈوانس ٹیکس عائد ہوگا

ماہانہ 10 ہزار سے 20 ہزار روپے تک کے بل میں 10 فیصد ٹیکس ہوگا

ماہانہ 20 ہزار سے 30 ہزار روپے تک کے بل میں 15 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا

‏ماہانہ 30 ہزار سے 40 ہزارروپے تک کے بل میں 20 فیصد ٹیکس ہوگا

ماہانہ 40 ہزار سے 50 ہزار روپے تک کے بل میں 25 فیصد ایڈوانس ٹیکس ہوگا

ماہانہ 50 ہزار سے 75 ہزار روپے تک کے بل میں 30 فیصد ٹیکس ہوگا

ماہانہ 75 ہزار روپے سے زائد کے بجلی بل میں 35 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا