سپریم کورٹ، ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کیلئے دائر درخواستیں مسترد

عدالت کے پاس صدارتی نظام کیلئے ریفرنڈم کرانے کا حکم جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں ،عدالت عظمیٰ

 صدارتی نظام کا حکم دینا ہمارے اختیار میں نہیں ، ملک میں متعدد بار صدارتی نظام کامیاب نہیں ہو سکا

درخواستوں میں کی گئی استدعا ئیںسیاسی نوعیت کی ہیں،سیاسی فورم سے رجوع کیاجائے، فاضل ججزکے ریمارکس

اسلام آباد  (ویب ڈیسک)

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کے حوالے سے دائر کی گئی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالت کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنے کیلئے ریفرنڈم کرانے کا حکم دے۔ عدالت نے رجسٹرار سپریم کورٹ کی طرف سے چاروں درخواستوں پر لگائے گئے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے قراردیا ہے کہ درخواستوں میں کی گئی استدعا ئیںسیاسی نوعیت کی ہیں صدارتی نظام کا حکم دینا ہمارے اختیار میں نہیں ۔ ملک میں متعدد بار ہم نے صدارتی نظام دیکھ لیا جوکامیاب نہیں ہو سکا۔ درخواست گزار ٹیکنوکریسی کی باتیں کر رہے ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے احمد رضا قصوری و دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کی تو جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ عدالت کے چار اپریل 2021ء کو دیئے گئے حکم کے خلاف اپیل میں آئے ہیں اور اس عدالت کے سامنے رجسٹرار کے اعتراضات کا معاملہ ہے۔ احمد رضا قصوری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے ہر کونے میں صدارتی نظام کی بحث ہو رہی ہے۔ رجسٹرار کا ان درخواستوں پر اعتراض یہ ہے کہ وزیراعظم سے ریفرنڈم کے لئے رجوع کیا جائے۔ میں نے وزیراعظم کو خط لکھا لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا اس لئے عدالت میں آنا پڑا۔ عدالت نے کراچی کچرے کا نوٹس لے کر اس پر حکم دیا لیکن ہماری یہ درخواست تکنیکی وجوہات کی بنا پر واپس کی گئی۔ مجھے کہا گیا کہ میرا کوئی حق دعویٰ نہیں ہے کہ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت اس معاملے میں آئینی درخواست دائر کروں اور نہ ہی صدارتی نظام کے خلاف معاملے میں عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ملک میں طاقت ور سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ اور دیگر فورمز موجود ہیں تو آپ عدالت کے سامنے کیوں آئے ہیں۔ احمد رضا قصوری نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ ان کے ارکان کیا کرتے ہیں۔ پارلیمان اور ٹاک شوز میں ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں۔ ان کو ملک کی فلاح و بہبود سے کوئی سروکار نہیں ہے اس لئے میں اس عدالت کے پاس آیا ہوں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے آئین کے آرٹیکل 48 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم اگر ضروری سمجھیں تو ریفرنڈم کرا سکتے ہیں۔ وزیراعظم اگر یہ سمجھیں کہ یہ قومی ایشو ہے تو وہ ریفرنڈم کے لئے کہہ سکتے ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی ایک عام آدمی عدالت میں آئے اور چیلنج کر دے کہ وزیراعظم کو حکم دیا جائے کہ صدارتی نظام کے لئے ریفرنڈم کرایا جائے۔ احمد رضا قصوری نے کہا کہ وہ آئین بنانے والوں میں سے ہیں۔ وہ عام آدمی نہیں ہیں۔ انہوں نے آئین بنانے میں بہت کردار ادا کیا۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ نے پارلیمانی نظام کے لئے آئین بنایا اور پارلیمانی آئین پر دستخط کئے کیا اب آپ پارلیمانی نظام پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ احمد رضا قصوری نے کہا کہ انہوں نے پارلیمانی نظام کے کسی کاغذ پر دستخط نہیں کئے۔ پیپلزپارٹی والے جھوٹ بولتے ہیں کہ یہ متفقہ آئین ہے۔ 1973ء کا آئین متفقہ طور پر منظور نہیں ہوا تھا۔ جسٹس منیب اختر نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی بھی شخص عدالت میں آ کر یہ کہہ سکتا ہے کہ عدالت وزیراعظم کو حکم دے کہ ریفرنڈم کرائیں۔ صحت، تعلیم سمیت دیگر بہت سے عوامی مسائل ہیں۔ کیا کوئی عدالت میں آ کر یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ عوامی مفاد کا مسئلہ ہے اس پر حکومت کو حکم جاری کیا جائے۔ جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کیا آپ کا یہ کیس ہے کہ کوئی بھی شخص عدالت میں آ کر استدعا کرے کہ عدالت وزیراعظم کو حکم جاری کر دے؟ عدالت اس صورتحال میں کیا حکم جاری کرے۔ اس دوران احمد رضا قصوری نے مداخلت کی تو جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ تقریر کرنے لگ جاتے ہیں آپ پارلیمنٹ نہیں کھڑے یہ سپریم کورٹ ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے مشترکہ کی منظوری کے بعد ریفرنڈم کرانے کا کہنا ہوتا ہے۔ احمد رضا قصوری نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ اپنا کام نہیں کرتی تو کیا ملک کو ڈوبنے دیا جائے۔ میں سقوط ڈھاکہ کا متاثرہ فرد ہوں۔ میں وہ ساری صورتحال خود اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سیاسی معاملہ دیکھنا ہمارا کام نہیں ہے۔ ہم تنازعات حل کرنے کے لئے بیٹھے ہیں۔ یہ سیاسی سوال ہے آپ سیاسی فورم پر جائیں۔ ہمارا اس سے کوئی کام نہیں ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ حق دعویٰ نہیں رکھتے۔ تمام سیاسی جماعتیں اس معاملے میں حق دعویٰ رکھتی ہیں۔ اس لئے عدالت سے آپ رجوع نہیں کر سکتے۔ ہم آئین و قانون کے تابع ہیں عدالت کے پاس جو بھی اختیار ہے وہ قانونی طریقے سے استعمال ہوتا ہے۔ یہ سیاسی معاملہ ہے سیاسی لوگوں نے قانون تیار کرنا ہے ہمیں ایسا کوئی اختیار نہیں ،ہم یہ درخواست کسی صورت منظور نہیں کر سکتے۔ اس دوران دوسرے درخواست گزار ڈاکٹر صادق علی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت قانون کے تابع نہیں اور پارلیمنٹ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف بناتی ہے تو عدلیہ اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے، جسٹس منیب اختر نے درخواست گزار سے سوال کیا کہ ملک میں صدارتی نظام کب لگا؟  تو انہوں نے جواب دیا کہ صدر ایوب صدارتی نظام نافذ کیا اس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ صدر ایوب نہیں بلکہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1958ء کا آئین معطل کر کے مارشل لاء لگایا اور 1962ء میں نیا آئین دے کر صدارتی نظام نافذ کیا۔ جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ 1984ء اور 2002ء میں بھی صدارتی ریفرنڈم ہوئے اور صدارتی نظام میں ملک کے عوام کے ساتھ جو ظلم ہوا وہ بھی سب نے دیکھاملک بھی 1962 کے صدارتی نظام کے دوران ٹوٹا تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست گزار سے کہا کہ آپ قرآن پاک کا حوالہ دے رہے ہیں تو آئین کے آرٹیکل 2-A میں صدارتی نظام کا ذکر کہاں ہے؟ آپ یہ بتائیں کہ کس حوالے سے اس عدالت کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ صدارتی نظام نافذ کرنے کا حکم دے۔ درخواست گزار ڈاکٹر صادق علی نے کہا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے صنعتوں کو قومی تحویل میں لیا تو اس وقت ڈالر چار روپے 75 پیسے تھا۔ صنعتوں کو قومی تحویل میں لیتے ہوئے ڈالر آٹھ روپے سے اوپر چلا گیا۔ میرا روپیہ چوری ہوا ہے اس لئے میں عدالت کے پاس آیا ہوں یہ قومی مفاد کا معاملہ ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا اگر آئین کے آرٹیکل 2-A کا استعمال بھی کیا جائے تو اسلام میں صدارتی نظام کا تصور کہاں ہے۔ اس نظام میں خرابیاں ہو سکتی ہیں جن کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے لیکن نظام کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ آپ کی خوبصورت خواہش ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کام نہیں ہو سکتا۔ اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

جسٹس عمر عطا بندیال کا درخواست گزاران سے کہنا تھا کہ عدالت میں آنا ظاہر کرتا ہے کہ آپ کو قوم کا بہت درد ہے لیکن صدارتی نظام کا حکم دینا ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ ملک میں متعدد بار ہم نے صدارتی نظام دیکھ لیا جو کامیاب نہیں ہو سکا۔ درخواست گزار ٹیکنوکریسی کی باتیں کر رہے ہیں۔ تیسرے درخواست گزار کے وکیل خالد عباس نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام میں بہت بڑی خامیاں ہیں۔ سب سے بڑی خامی اسمبلی میں خواتین کی 30 فیصد مخصوص نشستیں ہیں۔ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ نے آئین دیکھا ہے۔ مخصوص نشستوں کی خواتین کو پارٹی لائن پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جہاں صدارتی نظام ہے وہاں بھی اکثریت کی بنیاد پر صدر منتخب ہوتا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے درخواست گزاروں سے کہا کہ عدالت کو عام لوگوں کے مسائل حل کرنے دیں۔ ان سیاسی معاملات کو نہ الجھائیں۔ عدالت نے اپنا تحریری حکم لکھواتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزاروں کے سامنے دو سوالات اٹھائے گئے جن میں پوچھا گیا کہ ملک میں سیاسی جماعتوں کی موجودگی میں کیا کوئی انفرادی طور پر آ کر عدالت سے یہ کہہ سکتا ہے کہ سیاسی نظام تبدیل کرنے کا حکم دیا جائے؟ دوسرے سوال میں عدالت نے پوچھا تھا کہ عدالت کے پاس وہ کون سا اختیار ہے جس کے تحت وہ سیاسی نظام تبدیل کرنے کا حکم دے؟ عدالت نے قرار دیا کہ تمام درخواستوں میں جو استدعا کی گئی ہے وہ تمام سیاسی سوالات ہیں۔ ہمیں ان میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی اور نہ ہی ہمیں فریقین کی معاونت سے آئین کی کوئی رہنمائی ملی جس کی بنیاد پر ان درخواستوں کے حوالے سے عدالتی اختیارات استعمال کئے جا سکیں۔ اس لئے یہ درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔