بھارت میں بجلی کا بحران شدید:بلیک آوٹ کا خطرہ …دہلی میں بلیک آوٹ وارننگ

بھارت میں بجلی کا بحران شدید:بلیک آوٹ کا خطرہ
دہلی ( ویب نیوز )بھارت میں بجلی کا بحران گہرا ہو رہا ہے۔ دہلی میں بلیک آوٹ وارننگ جاری کی گئی ہے ، جبکہ اتر پردیش میں آٹھ پلانٹس عارضی طور پر رک گئے ہیں۔ پنجاب اور آندھرا پردیش نے پاور پلانٹس میں کوئلے کی کمی کا اظہار کیا ہے۔ ایسی صورتحال میں ریاستوں کے مطالبات کو پورا کرنا مرکز کے سامنے ایک چیلنج بن گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ وزارت بجلی کی قیادت میں ہفتے میں دو بار کوئلے کے ذخیرے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ اگر مرکز نے جلد از جلد ضروری اقدامات نہ کیے تو دارالحکومت کو بجلی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کیجریوال نے مرکز کو لکھا ہے کہ کوئلے سے چلنے والے 135 پلانٹس میں سے نصف سے زیادہ میں صرف تین دن کا کوئلہ باقی ہے۔ یہ پلانٹس ملک کی آدھی سے زیادہ بجلی فراہم کرتے ہیں۔
وزارت توانائی نے کہا کہ بڑی تعداد میں فیکٹریاں اور کمپنیاں کورونا سے نبردآزمامعیشت کو پٹری پر واپس لانے کے لئے کام کر رہی تھیں ۔ اس کی وجہ سے بجلی کی مانگ اور کھپت بڑھتی چلی گئی۔ ملک میں بجلی کی یومیہ کھپت بڑھ کر چار ارب یونٹ ہو گئی ہے۔ اس طلب کا 65 سے 70 فیصد کوئلے سے چلنے والے پلانٹس سے پورا کیا جا رہا ہے۔
اگست سے ستمبر 2019 کے مہینے میں ، ملک کی کھپت 106.6 بلین یونٹس تھی ، جو 2021 تک بڑھ کر 124.2 بلین یونٹس ہو گئی۔
وزارت کی جانب سے بتایا گیا کہ باہر سے درآمد کیے جانے والے کوئلے کی قیمت ستمبر-اکتوبر میں بڑھ کر 160 ڈالر فی ٹن ہو گئی ، جو مارچ میں 60 ڈالر فی ٹن تھی۔ قیمت میں اچانک اضافے کی وجہ سے باہر سے کوئلے کی درآمد کم ہوئی اور گھریلو کوئلے پر انحصار بڑھتا گیا۔ اس کی وجہ سے درآمد شدہ کوئلے سے بجلی کی پیداوار میں 43.6 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اپریل سے ستمبر کے درمیان گھریلو کوئلے کی طلب میں 17.4 میٹرک ٹن اضافہ ہوا۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ستمبر میں کوئلے کی کان کے علاقوں میں شدید بارشوں کی وجہ سے کوئلے کی پیداوار بھی متاثر ہوئی۔اورباہر سے آنے والے کوئلے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا جس سے پلانٹس میں بجلی کی پیداوار میں کمی آئی۔ طلب کو پورا کرنے کے لیے گھریلو کوئلے پر انحصار بڑھ گیا۔مون سون کے آغاز میں کوئلے کا کافی ذخیرہ نہیں تھا۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر ، راجستھان ، تمل ناڈو ، مدھیہ پردیش ، اتر پردیش جیسی ریاستوں میں کوئلہ کمپنیوں پر بھاری واجبات کی وجہ سے بحران بڑھ گیا۔