وزیراعظم کا رحمت اللعالمین اتھارٹی کا اعلان،اسلام انسانیت کو اکٹھا کرنے کا دین ہے، عمران خان

 اتھارٹی کے پیٹرن انچیف وزیراعظم ہوں گے، سکالرز نبی کریمۖ کی تعلیمات کے بارے بتائیں گے،سکولوں کے نصاب کو مانیٹر کریں گے

قانون کی بالادستی کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی ، اسلامی فلاحی ریاست بننا پاکستان کیلئے ناگزیر ہے یہی ہمارا مقصد اولین ہے

کوئی معاشرہ اخلاقیات کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا ،کرپشن روکنے کیلئے معاشرے کو متحرک ہونا ہوگا ،اکیلی حکومت بدعنوانی کے ساتھ نہیں نبردآزما ہوسکتی

 کرپشن زدہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا، غریب ملکوں کی غربت کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ اس کے ملک کا پیسہ چوری ہوکر باہر چلا جاتا ہے

ایک آدمی پیسہ چوری کرکے لندن بیٹھا ہے اور وہاں سے تقریریں کررہا ہے اور اس کے لوگ اس پر پھول پھینک رہے ہیں تو پھر چوری میں کیا بری چیز ہے

زندگی گزارنے کے دو بڑے راستے ہیں، ایک راستہ ناجائز دولت کمانے کا اور دوسرا راستہ نبی کریمۖ کی سیرت ہے پہلا راستہ تباہی اور دوسرا فلاح کا ہے

موجودہ دور میں نوجوان نسل انتہائی دبائو کا شکار ہے اگر وہ پیارے نبیۖ کو رول ماڈل بنالیں تو زندگی اور آخرت میں کامیاب و کامران ہوں گے

مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلیں گے تو ملک ترقی کرے گا، نبی کریمۖ ساری انسانیت کیلئے رحمت بن کر آئے

میری والدہ نے مجھے ہمیشہ سیدھے راستے پر رہنے کیلئے دعا مانگنے کا کہا،میں روز اپنی زندگی کا تنقیدی جائزہ لیتا ہوں، عشرہ رحمت اللعالمین کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد( ویب  نیوز) وزیراعظم عمران خان نے رحمت اللعالمین اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے اس اتھارٹی کے پیٹرن انچیف وزیراعظم ہوں گے، اتھارٹی میں سکالرز ہوں گے جو نبی کریمۖ کی تعلیمات کے بارے بتائیں گے اور سکولوں کے نصاب کو مانیٹر کریں گے، اسلام انسانیت کو اکٹھا کرنے کا دین ہے۔ عشرہ رحمت اللعالمین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ میری والدہ نے مجھے ہمیشہ سیدھے راستے پر رہنے کیلئے دعا مانگنے کا کہا۔ میں روز اپنی زندگی کا تنقیدی جائزہ لیتا ہوں ۔ زندگی گزارنے کے دو بڑے راستے ہیں، ایک راستہ ناجائز دولت کمانے کا اور دوسرا راستہ نبی کریمۖ کی سیرت ہے پہلا راستہ تباہی اور دوسرا فلاح کا ہے، تباہی اور فلاح دو راستے ہیں یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتا ہے۔نبیۖ کی زندگی سے سیکھو یہی آپ کی عظمت کا راستہ ہے اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریمۖ کی زندگی سے سیکھنے کا حکم دیتا ہے تاکہ تم فلاح پائو۔ مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلیں گے تو ملک ترقی کرے گا۔ نبی کریمۖ ساری انسانیت کیلئے رحمت بن کر آئے۔ لوگ اعلیٰ اخلاق کے حال افراد کی عزت کرتے ہیں اس کا پیسے سے کوئی تعلق نہیں، بڑے بڑے محلات بنانے اور بڑی بڑی مہنگی گاڑیاں رکھنے سے انسان بڑا نہیں ہوتا۔ اسلامی معاشرہ انصاف پر قائم تھا اور سب کیلئے قانون برابر تھا۔ اب انسان نے اپنی لالچ میں کرہ ارض کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ نبی کریمۖ نے 1400 سال پہلے بتایا کہ نظام وہ ہوتا ہے جس میں انسانیت ہو۔ اسلام انسانیت کو اکٹھا کرنے کا دین ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ طاقتور کبھی انصاف نہیں بلکہ این آراو چاہتا ہے ۔قانون کی بالادستی کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ حضرت محمدۖ نے تعلیم حاصل کرنے پر سب سے زیادہ زور دیا آپۖ نے مرد و خواتین دونوں کیلئے تعلیم کے حصول کا حکم دیا۔ ہمارے نوجوانوں کیلئے رول ماڈل نبی کریمۖ ہونے چاہئیں۔ موجودہ دور میں نوجوان نسل انتہائی دبائو کا شکار ہے اگر وہ پیارے نبیۖ کو رول ماڈل بنالیں تو زندگی اور آخرت میں کامیاب و کامران ہوں گے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ اسلامی فلاحی ریاست بننا پاکستان کیلئے ناگزیر ہے یہی ہمارا مقصد اولین ہے۔وہ معاشرہ تباہ  ہو جاتا ہے جن کی اخلاقیات گر جاتی ہیں، کرپشن کا مقصد اقتدار میں آکر پیسہ چوری کرنا ہے انگلینڈ میں اگر کسی پر الزام لگ جائے کہ اس نے عوام کا پیسہ چوری کیا ہے تو وہ کسی پبلک فورم پر نہیں آسکتا۔ ان کا معاشرہ کرپشن کے خلا ف لڑتا ہے کوئی معاشرہ اخلاقیات کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا کرپشن روکنے کیلئے معاشرے کو متحرک ہونا ہوگا اکیلی حکومت بدعنوانی کے ساتھ نہیں نبردآزما ہوسکتی ۔ غریب ملکوں کی غربت کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ اس کے ملک کا پیسہ چوری ہوکر باہر چلا جاتا ہے۔ ایک آدمی پیسہ چوری کرکے لندن بیٹھا ہے اور وہاں سے تقریریں کررہا ہے اور اس کے لوگ اس پر پھول پھینک رہے ہیں تو پھر چوری میں کیا بری چیز ہے جب معاشرہ ہی نہیں لڑے گا تو حکومت کتنے کرپٹ لوگ پکڑ سکتی ہے۔ کرپشن زدہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔چائنہ میں پچھلے 7 سالوں میں 450 لوگ کرپشن کے کیسوں میں جیلوں میں گئے ہیں جو معاشرہ مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلے گا ترقی کر جائے گا۔ چائنہ اسی لئے ترقی کرگیا ہے کہ انہوں نے سب سے زیادہ غریب لوگوں کو اوپر اٹھایا ہے۔فیکٹ آئی پینل کے مطابق ملکوں کے غریب ہونے کی وجہ کرپشن ہے ۔ 1970 کے بعد پاکستان میں ہونے والے تمام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگے ۔ دھاندلی کے الزامات ختم کرنے کیلئے ای وی ایملانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انتخابات میں دھاندلی کرنے والے نہیں چاہتے کہ نظام بہتر ہو۔ حکومت میں آنے سے پہلے دھاندلی کارونا روتے ہیں جب حکومت میں آتے ہیں تو انتخابی اصلاحات کی کوئی بات نہیں کرتا یہ پہلی حکومت ہے جس نے اصلاحات کی بات کی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کی تربیت سے معاشرے میں اخلاقیات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بڑھتی ہوئی طلاق کے رجحان سے معاشرے میں خاندانی نظام تباہ ہورہا ہے ۔ طلاق سے بچوں پربڑے برے اثرات پڑتے ہیں جب فحاشی کی بات ہوتی ہے تو ایک لبرل طبقہ مچانا شروع کردیتا ہے۔قصور میں بڑھتے  ہوئے جنسی زیادتی کے واقعات پر رپورٹ بڑی خوفناک ہے موبائل فون ایک بہت بڑا چیلنج آرہا ہے بچوں کونبیۖ کے راستے پر چلنا سکھایا جائے۔بڑھتے ہوئے جنسی جرائم پر قابو پانے کیلئے پورے معاشرے کو کردارادا کرناہوگا۔ پاکستانی ڈراموں میں بہتری لانے کیلئے ترکی سے ارطغرل ڈرامہ لایا گیا بچوںکو اپنی تہذیب کے مطابق ڈھالنے کیلئے میڈیاکردارادا کرے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ اب ہم رحمت اللعالمین اتارٹی بنانے لگے ہیں جس میں بڑے بڑے سکالرز ہوں جن کاواحد مقصد نبی کریمۖ کی زندگی کے متعلق بتانا ہوگا۔ اس اتھارٹی کا چیئرمین وہ ہوگا جس نے تفسیر پر کتابیں لکھی ہوں گی۔ جس کی دین پر کمانڈ ہوگی۔ اس پائے کا آدمی ہم نے ڈھونڈنا شروع ردیا ۔ اس پر ایک انٹرنیشنل ایڈوائزری بورڈ بنے گا اس  بورڈ میں دنیا کے بڑے بڑے مسلمان سکالروں کو شامل کیا جائے گا۔ رحمت اللعالمینۖ اتھارٹی کے پیٹرن انچیف میں خود بھی وزیراعظم ہوگا۔رحمت اللعالمین اتھارٹی دنیا کے سامنے اسلام کا اصل چہرہ پیش کرے گا۔ رحمت اللعالمین اتھارٹی کا چیئرمین  دنیاکو بتائے گا کہ اسلام اصل میں کیا ہے۔ اتھارٹی کے سب سکالروں کے ذمہ مختلف کام ہوں گے ۔ اس اتھارٹی کے سکالر سکولوں کے نصاب کو مانیٹر کرے گا۔ یہی بورڈ یونیورسٹیوں  میں ریسرچ کروائے گا۔ بورڈ کے ایک سکالر سوشل میڈیا کو مانیٹر کرے گا۔ یعنی میڈیا کے مواد کا جائزہ لے گا۔نبیۖ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو بورڈ کے سکالروں کا زبردست جواب جائے گا۔ بچوں کو اپنے کلچر سے متعارف کرانے کیلئے کارٹون سیریز بنائی جائے گی ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ربیع الاول کو بھرپور طریقے سے منائیں گے۔