وزیر اعظم کی  نئی ماڈل پناہ گاہوں پر تیزی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت

سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی وزیر اعظم کو پناہ گاہوں کے نئے اسٹریٹجک پلان بارے بریفنگ

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

وزیر اعظم عمران خان نے بدھ کواسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں بہتر معیارات اور ڈھانچے کے ساتھ تعمیر کیے جانے والے نئی ماڈل پناہ گاہوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر اسلام آباد کے علاقے ترلائی، ترنول، جی نائن اور منڈی موڑ میں چار نئی پناہ گاہیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ اس تقریب میں، وزیر اعظم نے تعمیر کی جانے والی ان کثیر المنزلہ پناہ گاہوں کے حتمی منصوبوں کی بھی نقاب کشائی کی۔ انہوں نے احساس ٹیم، سی ڈی اے، این سی اے اور تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں کو سراہا اور نئی ماڈل پناہ گاہوں پر تیزی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔وزیر اعظم نے پناہ گاہوں میں معیاری خوراک اور خدمات کی فراہمی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو پناہ گاہوں پر احساس  پروگرام کے تحت خدمات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور پناہ گاہوں  میں ہنر مندی کی تربیت فراہم کرنے پر بھی زور دیا تاکہ مکین معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے والے شہری بن سکیں۔وزیراعظم نے متعلقہ محکموں کی اجتماعی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں صوبوں میں بھی اسی طرز پر ماڈل پناہ گاہوں کی تعمیر کی ہدایت کی۔قبل ازیں ، وزیر اعظم کی معاون خصوصی سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وزیر اعظم کو پناہ گاہوں کے نئے اسٹریٹجک پلان بشمول تعمیرات، فرنشننگ، گورننس، ایگزیکیوشن، ڈیجیٹل مانیٹرنگ، صلاحیت سازی اور فنانسنگ کے بارے میں بتایا۔ڈاکٹر ثانیہ نے کہا، "مزدوروں کے لیے ‘بستر ، ناشتے اور کھانے’ کی سہولیات کے علاوہ، ان پناہ گاہوں میں احساس ون ونڈو سینٹرز بھی قائم کئے جائیں گے، تاکہ مزدوروں اور پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو حکومت کے سماجی بہبود کے پروگراموں سے مستفید ہونے کے قابل بنایا جا سکے۔”سی ڈی اے نے کابینہ کی منظوری کے بعد اس مقصد کے لیے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن کو رعایتی نرخوں پر زمین دی ہے۔ پنڈال میں، ماڈل پناہ گاہوں میں استعمال ہونے والی نئی پناہ گاہوں کے لیے فرنیچر اور فکسچر کے نمونے بھی آویزاں کیے گئے۔ قبل ازیں وزیراعظم نے پناہ گاہ کے نئے ماڈل اور تختی کی نقاب کشائی بھی کی۔ ماڈل پناہ گاہ اور فرنیچر کے ڈھانچے کو دوبارہ ڈیزائن کرنے کے لیے احساس نے نیشنل کالج آف آرٹس (NCA) لاہور کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ پناہ گاہ کے نئے ڈیزائن میں بڑا کچن، کولڈ اسٹوریج، استقبالیہ، لابی، انتظار کی جگہیں، اور ضرورت مندوں کو خوراک اور رہائش فراہم کرنے کی بہتر صلاحیت شامل ہیں۔پناہ گاہوں سے مستفید ہونے والے افراد کو بہترین رہائش اور معیاری کھانا پیش کرنے کے لیے، احساس اور سرینا ہوٹل پہلے سے ہی تعاون کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں اسلام آباد کی تمام پناہ گاہوں کے عملے اور مکینوں کو مہمان نوازی، خوراک ، حفظان صحت ماحول اور ہاوس کیپنگ کے بارے میں تربیت دی جا رہی ہے، سہولیات کی باقاعدگی سے نگرانی کی جا رہی ہے۔احساس نے اب تک ملک کے مختلف علاقوں میں 27 پناہ گاہیں کھولی ہیں جن میں سندھ میں 5، کے پی میں 8، بلوچستان میں 7، اسلام آباد میں 5 اور جی بی اور پنجاب میں ایک ایک پناہ گاہ ہے۔ احساس کے تحت، پناہ گاہیں کھانے، ضروری اشیا، حفظان صحت، کپڑے دھونے اور حفاظتی معیارات کے ساتھ ون اسٹار پلس بیڈ اور ناشتے کی سہولت  فراہم کرتی ہیں۔ ہر پناہ گاہ تقریبا 500 لوگوں کو مفت کھانا فراہم کرتی ہے اور رات کے قیام کے لیے 100 بستروں کی سہولت فراہم کرتی ہے۔