اسلام آباد (ویب نیوز)

وزیراعظم شہباز شریف نے چینی کی قیمت کم رکھنے کے لیے اس کی ایکسپورٹ پر پابندی عائد کردی۔ وزیراعظم شہباز شریف کے زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں بڑے فیصلے کیے گئے۔ وزیراعظم نے چینی کی برآمد پر پابندی عائد کردی جو کہ پورے سال نافذ رہے گی۔ذرائع کے مطابق ملک میں ضرورت کے مطابق چینی کی وافر مقدار کے ساتھ اضافی ذخیرہ بھی موجود ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے کیے گئے اس فیصلے کا مقصد ملک میں چینی کی قیمتوں کو کم کرنا اور عوام کو ریلیف دینا ہے ضرورت کے مطابق ملک میں چینی کا وافر اور اضافی ذخیرہ موجود ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے سرپلس چینی ہونے پر برآمد پر پابندی لگانے کی منظوری دی ہے۔گزشتہ روز وزارت صنعت و پیداوار نے چینی کی قیمتوں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ چینی کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔وزارت صنعت و پیداوار نے ایک بیان میں کہا تھا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے، حکومت ایسی میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید کرتی ہے اور یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اس قسم کا کوئی اضافہ نہیں ہوا جیسا کہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے۔وزارت نے کہا کہ ہماری مانیٹرنگ ٹیموں نے کراچی (جوڑیا بازار)، لاہور (اکبری منڈی)اور اسلام آباد کی مختلف مارکیٹوں کو چیک کیا اور بتایا گیا کہ چینی ریٹیل پر 85 روپے فی کلوگرام جب کہ ہول سیل مارکیٹ میں 82 روپے فی کلوگرام کے ریٹ سے دستیاب ہے۔البتہ میڈیا میں کچھ یوٹیلیٹی اسٹورز پر 94 روپے میں چینی فروخت ہونے کی نشان دہی پر اس کا سختی سے نوٹس لے لیا گیا ہے اور ملوث عناصر کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، ملوث افراد سے سختی سے نمٹا جائے گا۔وزارت نے کہا یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ حکومتی پالیسی کے تحت یوٹیلیٹی اسٹورز پر خریداری کے لیے شناختی کارڈ دیکھنا لازمی ہے تاکہ کثیر مقدار میں اشیائے خورد و نوش کی خریداری کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اور عوام کو اشیا رعایتی قیمتوں پر یکساں طور پر دستیاب ہو۔وزارت کے مطابق ملک بھر میں بشمول یوٹیلیٹی اسٹورز ایک ہی قمیت 85 روپے فی کلوگرام کے حساب سے چینی دستیاب ہے۔وزارت نے کہا حکومت پاکستان چینی اور دیگر اشیائے خورد و نوش کی سپلائی اور رعایتی قمتیوں پر دستیابی کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کے حکم کے مطابق عوام الناس کو رمضان کے مہینے میں تمام اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔