شرقپور (ویب نیوز)

پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکمران نیب، ایف آئی اے کے سربراہوں کو چوری روکنے کے لیے نہیں چوری سے بچانےکے لیے رکھتے ہیں، شہباز شریف، حمزہ شہبازکیس کے چار گواہ مر چکے ہیں، یہ وہ لوگ ہے جو کبھی بھی اداروں کو مضبوط نہیں ہونے دیں گے، ساڑھے تین سال حکومت کی ایک آدمی کا نام بتا دیں جس کومیں نے سفارش پر لگوایا ہو، مجھے اپنا جج اور نہ مجھے اپنا آرمی چیف چاہیے، میں لوگوں کومیرٹ پرلانا چاہتا ہوں جو اداروں کو مضبوط کریں۔چوروں کو مسلط کر کے ان کی چوری معاف کرانا قوم نہیں بھولے گی۔ جن کا پیسہ سب کچھ باہر ہے ان کے لیے آج ہماری ایجنسیز کھڑی ہیں۔

شیخوپورہ کی تحصیل شرقپور میں پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اتواروالے دن ضمنی الیکشن ہے، امید ہے شرقپورکے لوگ دوبارہ ہمیں جتوائیں گے، شرقپور جلسے میں خواتین کی شرکت پرخراج تحسین پیش کرتا ہوں،یہ الیکشن پاکستان کی حقیقی آزادی کی جنگ کا حصہ ہے،ہمارے ملک پربڑے بڑے مجرموں کومسلط کردیا گیا ہے، انہوں نے قوم کا پیسہ چوری کیا تھا اب این آر او لیکر پیسہ معاف کرا رہے ہیں، مجرم نیب کا قانون بدل کر 1100 ارب معاف کرا رہے ہیں، قوم کا پیسہ انہوں نے چوری کر کے باہر بھیج دیا۔ جن پیسوں سے ترقیاتی کام ہونا تھے اس کو چوری کرلیا گیا، کرپشن ملکوں کوتباہ کردیتی ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ 26سال سے کرپشن کے خلاف جہاد کر رہا ہوں،30 سال سے دو خاندان ملک میں چوری کررہے ہیں، یہ باہر بیٹھ کر این آراو لیتے ہیں، پہلے پرویز مشرف سے این آر او لیا پھرآ کر ملک لوٹا، مشرف کے این آراوکے بعد 6 ہزارارب سے پاکستان کا قرضہ 30 ہزارارب تک بڑھا،قرضوں کی قسطیں قوم اپنے خون سے ادا کرتی ہے، ہمارے دورمیں آدھا پیسہ ان کے لیے ہوئے قرضوں کی قسطوں پرچلا گیا تھا،یہ پیسہ چوری کرنے کے لیے ادارے بھی تباہ کرتے ہیں،اب انہوں نے نیب کے اوپر اپنا بندہ بٹھا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا انصاف کا نظام طاقتور ڈاکو کو نہیں پکڑسکتا، انصاف کا نظام سائیکل، بھینس چور کو پکڑسکتا ہے۔ ماضی میں انہوں نے ایماندارچیف جسٹس سجاد علی شاہ کو ڈنڈوں سے بھگایا تھا، یہ ماضی میں ٹیلی فون کر کے ججزسے فیصلے لیتے تھے،یہ اپنی چوری کوبچانے کے لیے نظام کو تباہ کرتے ہیں،اس طرح قومیں تباہ ہوتی ہیں،یہ سلیکشن میرٹ پر نہیں چوری بچانے والی کی سلیکشن کرتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ آئی جی وہ رکھتے ہیں جوان کی نوکری کرتا ہے، اسلام آباد کے آئی جی کو لاہورسیف سٹی کیس میں سزا ہونا تھی،اسی شخص کواسلام آباد کا آئی جی لگا دیا گیا، یہ نیب ،ایف آئی اے کے ہیڈ کو چوری روکنے کے لیے نہیں چوری سے بچانےکے لیے رکھتے ہیں،شہبازشریف، حمزہ شہبازکیس کے چار گواہ مر چکے ہیں، کیا ہوا چاروں گواہان کو ہارٹ اٹیک ہو گیا؟ ایف آئی اے کا تفتیشی افسرڈاکٹر رضوان کو بھی ہارٹ اٹیک ہو گیا تھا، شہبازشریف اوراس کے بیٹوں کی چوری پر پانی پھرگیا، یہ وہ لوگ ہے جوکبھی بھی اداروں کومضبوط نہیں ہونے دیں گے، یہ ہروہ آدمی کواوپرلگائیں گے جوان کی مدد کرے گا، ساڑھے تین سال حکومت کی ایک آدمی کا نام بتادیں جس کومیں نے سفارش پرلگوایا ہو،میں نے چوری نہیں کرنی نا کرپشن چھپانی ہے،مجھے اپنا جج اورنا مجھے اپنا آرمی چیف چاہیے،میں لوگوں کومیرٹ پرلانا چاہتا ہوں جواداروں کومضبوط کریں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے ایماندار امیدوار ابو بکر شرقپوری ہیں، دوسری طرف چوروں کی پارٹی کے امیدوارہیں،مریم نوازسے دس سال پہلے لندن فلیٹس کا پوچھا توکہا میری توپاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں،بیچاری مریم کی کوئی پراپرٹی نہیں ہے،چارسال بعد پاناما پیپرزکا انکشاف ہوا توپتا چلا لندن فلیٹس کی مالکہ مریم نوازہیں،مریم نوازکوتونہیں پتا تھا پاناما پیپرزکا انکشاف ہوجانا ہے،پاناما انکشاف کے بعد حسین نوازنے کہا لندن فلیٹس ہمارے ہیں،حسین نوازنے کہا مریم نوازلندن فلیٹس کی مالکہ ہیں،مریم نوازنے پاناما پیپرزکے بعد کہا دادا سے پیسہ منتقل ہوا،مریم نوازبڑے اعتماد کے ساتھ جھوٹ بولتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز دادا کو اربوں پتی کہتی ہیں، شہبازشریف کہتے ہیں والد کا غریب کسان گھرانے سے ہے،ایک جھوٹ بولنے کے لیے انہوں نے سو جھوٹ بولے، افسوس کی بات یہ ہے جب جج نے نیب سے پوچھا تو نیب نے کہا ثابت نہیں کر سکتے کیونکہ میچ تو فکس تھا، یہ پاکستان کا المیہ ہے، غریب آدمی کو چوری کرنے پر پولیس اتنا مارتی ہے وہ چوری مان لیتا ہے،میری قوم سن لے یہ پاکستان کی تباہی کا راستہ ہے،ہمارے نبی نے پہلے ہی کہہ دیا تھا جو قوم بڑے چور کو نہ پکڑے وہ قوم تباہ ہو جاتی ہے، پاکستانیوں سارے ڈاکو اقتدار میں آ کر ملک کو لوٹ رہے ہیں، ٹیپس بنائی جارہی ہیں، یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح مجھے نااہل کریں،میرا مقابلہ ایک چور، بزدل سے نہ کرو، میرا مقابلہ اس سے کرو جس میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہو۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ٹیپ میں کہہ رہا ہوں مراسلے کی تفتیش کی جائے، کیا ڈونلڈ لُو نے ہمارے سفیر کو نہیں کہا تھا عمران خان کو عدم اعتماد میں ہٹاؤ،جب بھی سائفر پر تفتیش ہو گی تو قوم کے سامنے سب کچھ آ جائے گا،سائفر کی تحقیقات ہو گی تو پتا چلے گا، غلامی نہیں کرنا چاہتا تھا،اس کو اس لیے لائے یہ غلامی کرنا چاہتا تھا،شہبازشریف اپنی آڈیو میں کہہ رہا ہے 70 کروڑکی مشینری بھارت سے درآمد کریں گے،شہباز شریف آڈیومیں کہتا ہے مشینری درآمد کرنے کا طریقہ تلاش کریں،واضح ہوگیا چیف الیکشن کمشنر(ن)لیگ کے لیے دھاندلی کررہا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ ڈیپ فیک آڈیوز، ویڈیو بنا رہے ہیں تاکہ ان کی چوریوں سے عوام کی نظریں ہٹ جائیں،آج ملک میں مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے،آج ملک کی انڈسٹریزبند ہورہی ہے،ہمارے دورمیں ریکارڈ ایکسپورٹ اور آج ایکسپورٹ بند ہو رہی ہے،ہمارے دورمیں17سال بعد معیشت 6 فیصد گروتھ کر رہی تھی، اس وقت انہوں نے حکومت گرائی اور چوروں کو لیکر آئے، شہبازشریف دنیا سے پیسے مانگ رہا ہے،چوری شہباز شریف اور محنت قوم کرتی ہے،شرقپور والو! آپ کا مقابلہ چوروں سے ہے،گھر، گھر جا کر تحریک انصاف کا پیغام پہنچائیں۔

انہوں نے کہا کہ جس نے بھی ان کومسلط کیا تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی،قوم ایسے لوگوں کو نہیں بھولے گی،اس سے زیادہ ملک کے ساتھ دشمنی کون کرسکتا ہے،چوروں کومسلط کر کے ان کی چوری معاف کرانا قوم نہیں بھولے گی۔ پچاس سالوں میں کبھی ایسا سلوک میرے ساتھ نہیں ہوا،جب وزیراعظم تھا تو میرے آفس اور گھر کے فون ٹیپ کیے جا رہے تھے، ایسے جیسے میں ملک کا دشمن ہوں،جن کا پیسہ سب کچھ باہر ان کے لیے آج ہماری ایجنسیز کھڑی ہیں، وزیراعظم آفس کی سکیورٹی لیپس کا کون ذمہ دارہے؟شرقپوروالوں ضمنی الیکشن حقیقی آزادی کی تحریک کا ایک حصہ ہے،میری کال اب زیادہ دور نہیں ہے، یہ سیاست نہیں جہاد ہے، ساری قوم نے ملک کے مستقبل اوراپنے بچوں کے لیے باہرنکلنا ہے۔