ملٹری ٹرائل کا کیس، فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ، آج (بدھ کو)سنایا جائے گا

میرے موکل کی ہدایت ہے عدالت میرے ساتھ خصوصی کی بجائے عام شہری کی طرح برتائو کرے، وکیل جواد ایس خواجہ

 ہم اسی وجہ سے ان کی عزت کرتے ہیں، جواد ایس خواجہ گوشہ نشین انسان ہیں، ان کی آئینی درخواست غیر سیاسی ہے،چیف جسٹس عمرعطابندیال

 پک اینڈ چوز کرنے کی قانون اجازت نہیں دیتا، اگر انکوائری ہوئی تو ریکارڈ پر کیوں نہیں؟،جسٹس مظاہرنقوی

پک اینڈ چوز نہیں کیا، بہت احتیاط برتی گئی، جو لوگ براہ راست ملوث تھے انہیں ہی ملٹری کورٹس بھیجا گیا،اٹارنی جنرل

 کسی فورم پر مواد ہوگا تو پتا چلے گا کہ آپ کا دعوی درست ہے یا نہیں،چیف جسٹس عمرعطابندیال

 عدالت کا سوال ہے کہ دیگر افراد کو کیوں چھوڑا، بہت سے لوگ ملوث تھے لیکن شواہد کی روشنی میں افراد کوگرفتار کیا گیا ،اٹارنی جنرل

 آپ کہنا چاہتے ہیں کہ صرف ان افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جنہوں نے فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا؟،چیف جسٹس

مجسٹریٹ کے آرڈ میں ملزمان کو ملٹری کورٹس بھیجنے کی وجوہات کا ذکر نہیں،جسٹس عائشہ ملک کے ریمارکس

 جب اداروں کے درمیان تصادم کا خطرہ ہو تو فل کورٹ بنانی چاہیے، فیصل صدیقی

 کچھ ججز نے کیس سننے سے معذرت کی ہے تو فل کورٹ کیسے بنائیں،چیف جسٹس عمرعطابندیال

 یہ سب میرے لیے حیران کن ہے کہ اس مرحلے پر آ کر بینچ کی تشکیل کو چیلنج کیا گیا،درخواست گزار اعتزازاحسن

 ہم نے بھی فل کورٹ کا کہا تھا مگر 2 ججز بینچ چھوڑ گئے اور ایک پر اعتراض کیا گیا،وکیل لطیف کھوسہ

اسلام آباد (ویب  نیوز)

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جوآج (بدھ کو)سنایا جائے گا ۔منگل کو چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل 6 رکنی لارجر بینچ نے عام شہریوں کے ملٹری ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ فیصل صدیقی صاحب نے ملٹری کورٹس کے معاملے پر فل کورٹ کا مطالبہ کیا ہے، ہم جواد ایس خواجہ کے وکیل کو سنیں گے۔جواد ایس خواجہ کے وکیل نے کہا کہ میرے موکل سابق چیف جسٹس ہیں، میرے موکل کی ہدایت ہے کہ عدالت میرے ساتھ خصوصی برتائوکی بجائے عام شہری کی طرح برتائو کرے، وہ چاہتے ہیں کہ ان کے نام کے ساتھ چیف جسٹس نہ لگایا جائے۔اس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ ہم اسی وجہ سے ان کی عزت کرتے ہیں، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ گوشہ نشین انسان ہیں، ان کی آئینی درخواست غیر سیاسی ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ کیا فیصل صدیقی صاحب چھپ رہے ہیں؟ وکیل شاہ فیصل نے بتایا کہ فیصل صدیقی کمرہ عدالت سے باہر ہیں، کچھ دیر میں آتے ہیں۔جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ پک اینڈ چوز کرنے کی قانون اجازت نہیں دیتا، اگر انکوائری ہوئی تو ریکارڈ پر کیوں نہیں؟۔اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پک اینڈ چوز نہیں کیا، بہت احتیاط برتی گئی، جو لوگ براہ راست ملوث تھے انہیں ہی ملٹری کورٹس بھیجا گیا، کور کمانڈر ہائوس میں جو لوگ داخل ہوئے انہیں ملٹری کورٹس بھیجا گیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسی فورم پر مواد ہوگا تو پتا چلے گا کہ آپ کا دعوی درست ہے یا نہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کا سوال ہے کہ دیگر افراد کو کیوں چھوڑا، بہت سے لوگ ملوث تھے لیکن شواہد کی روشنی میں افراد کو گرفتار کیا گیا۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ اگر کوئی انکوائری ہوئی ہے تو ریکارڈ پر کیوں نہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ انکوائری پر موجود ہے سر۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ صرف ان افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جنہوں نے فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کور کمانڈر ہائوس کو نقصان پہنچانے والوں کو بھی گرفتار کیا گیا ۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے فوج کی تحویل میں موجود 9 مئی واقعات میں ملوث 102 ملزمان کی فہرست عدالت میں پیش کردی۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ زیر حراست 7 ملزمان جی ایچ کیو حملے میں ملوث ہیں، 4 ملزمان نے آرمی انسٹی ٹیوٹ پر حملہ کیا، 28 ملزمان نے کور کمانڈر ہائوس لاہور میں حملہ کیا، 5 ملزمان ملتان، 10 ملزمان گوجرانوالہ گریژن حملے میں ملوث ہیں، 8 ملزمان آئی ایس آئی آفس فیصل آباد، 5 ملزمان پی ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث ہیں، 14 ملزمان چکدرہ حملے میں ملوث ہیں، 7 ملزمان نے پنجاب رجمنٹ سینٹر مردان میں حملہ کیا، 3 ملزمان ایبٹ آباد، 10 ملزمان بنوں گریژن حملے میں ملوث ہیں، ایک ملزم آئی ایس آئی حمزہ کیمپ حملے میں ملوث ہے۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ زیر حراست ملزمان کی گرفتاری سی سی ٹی وی کیمرے اوردیگر شواہد کی بنیاد پر کی گئی، فوجی ٹرائل کا سامنا کرنے والے زیر حراست افراد سے متعلق رپورٹ جمع کروا دی، تحریری جواب میں پورا چارٹ ہے کہ کتنی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، صرف 102 افراد کو گرفتار کیا گیا، بہت احتیاط برتی ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یعنی حکومت ان 102 افراد کا حکومت کورٹ مارشل کرنا چاہتی ہے؟۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ افراد کی گرفتاری کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا گیا ہے، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہم سی سی ٹی وی فوٹیج اور شواہد کی روشنی میں افراد کو حراست میں لیا، کور کمانڈر ہائوس لاہور میں داخل ہونے والے افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ مجسٹریٹ کے آرڈ میں ملزمان کو ملٹری کورٹس بھیجنے کی وجوہات کا ذکر نہیں ۔جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ بظاہر لگتا ہے ملزمان کے خلاف مواد کے نام پر صرف فوٹو گراف ہیں۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ ایسا لگتا آپ ان سوالات پر پوری طرح تیار نہیں، ہمارے سامنے ابھی وہ معاملہ ہے بھی نہیں، ہم نے معاملے کی آئینی حیثیت دیکھنا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وکیل فیصل صدیقی نے ایک درخواست اپنے موکل کی طرف سے فل کورٹ کی دی ہے، ہم پہلے فیصل صدیقی کو سن لیتے ہیں۔ فیصل صدیقی نے فل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی درخواست پر دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے بینچ پر جو اعتراضات اٹھائے گئے اس سے ہماری درخواست کا تعلق نہیں، پہلے میں واضح کروں گا کہ ہماری درخواست الگ کیوں ہے۔فیصل صدیقی نے مزید کہا کہ ہم نے فل کورٹ تشکیل دینے کی 3 وجوہات بیان کیں، فوجی آمر پرویز مشرف بھی فل کورٹ فیصلے کی مخالفت نہ کر سکا، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی فل کورٹ تشکیل دینے کی بات کی، اٹارنی جنرل بتا چکے ہیں کہ کسی شخص کو سزائے موت یا عمر قید نہیں ہو گی، اٹارنی جنرل یقین دہانی بھی کرا چکے ہیں کہ عدالت کے علم میں لائے بغیر ملٹری ٹرائل شروع نہیں ہو گا۔فیصل صدیقی نے کہا کہ سیاست دانوں اور وزراء کی جانب سے عدالتی فیصلوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے، جب اداروں کے درمیان تصادم کا خطرہ ہو تو فل کورٹ بنانی چاہیے، فل کورٹ کا بنایا جانا ضروری ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کچھ ججز نے کیس سننے سے معذرت کی ہے تو فل کورٹ کیسے بنائیں، اس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ اس کا جواب ایف بی علی کیس میں ہے، سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے اگر ایک جج کیس سننے سے انکار کرے تو اسے وہ کیس سننے کا نہیں کہا جاسکتا ہے، عدالتی تاریخ میں ملٹری کورٹس کیسز فل کورٹ نے ہی سنے ہیں، حکومت کا سپریم کورٹ کے لیے توہین آمیز رویہ ہے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ جن 3 ججز کی آپ بات کر رہے ہیں انہوں نے ملٹری کورٹس کیس سننے سے انکار نہیں کیا، جواب میں فیصل صدیقی نے کہا کہ جس انداز میں عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اس کا حل نکالنا چاہیے۔جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا دیگر درخواست گزاران کا بھی یہی موقف ہے؟ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ میں صرف اپنی بات کر رہا ہوں، اگر کچھ ماہ کی تاخیر ہوجائے تو مسئلہ نہیں، یہ مقدمہ بنیادی حقوق کی وجہ سے بہت اہم ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ کے لیے یہ پہلی درخواست آئی ہے، ہم باقی درخواست گزاروں کا موقف بھی سننا چاہتے ہیں۔دوران سماعت درخواست گزار اعتزاز احسن روسٹرم پر آ گئے اور عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ یہ سب میرے لیے حیران کن ہے کہ اس مرحلے پر آ کر بینچ کی تشکیل کو چیلنج کیا گیا، ہم سپریم کورٹ کی تکریم کے لئے جیلوں میں گئے، ہمیں اس بینچ پر مکمل اعتماد ہے، عدالت نے تمام دستیاب ججوں کو بینچ میں شامل کیا تھا، 2 ججوں کے اٹھ جانے کے بعد یہ ایک طرح کا فل کورٹ بینچ ہی ہے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ میں خود 1980 میں 80 دیگر وکلا کے ساتھ گرفتار ہور ہاتھا، ہم مارشل لا کے خلاف کھڑے ہوئے تھے، 2 ججز اٹھنے سے کوئی تنازع موجود نہیں، 102 افراد کو ملٹری کے بجائے جوڈیشل حراست میں رکھا جائے۔اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آئے اور عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہم نے بھی فل کورٹ کا کہا تھا مگر 2 ججز بینچ چھوڑ گئے اور ایک پر اعتراض کیا گیا۔ عدالت نے فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواستوں کو سننے کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپس میں مشاورت کے بعد اپنے فیصلے سے آگاہ کریں گے، اگر کیس میں جلد کسی رائے پر آجاتے ہیں تو 15 منٹ میں آگاہ کردیا جائے گا، اگر فیصلہ میں تاخیر ہوئی تو وکلا کو آگاہ کردیا جائے گا۔بعدازاں کورٹ ایسوسی ایٹ کی جانب سے جاری اعلان میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ محفوظ فیصلہ آج (بدھ کو) سنائے گی۔mk/nsr

#/S