Noam Sohlberg, the Chairman of the Central Elections Committee Justice, stands with members of the Central Elections Committee, on the day Israel's President receives the official results of the elections for the 26th Knesset, at the President's residence in Jerusalem, November 4, 2026. Olivier Fitoussi/Pool via REUTERS

اتحادی جماعت کا انکار، نیتن یاہو کے دوبارہ وزیراعظم بننے کے امکانات معدوم

اتحادی جماعت کا بھی حمایت سے انکار، نیتن یاہو کے دوبارہ وزیراعظم بننے کے امکانات معدوم ہوگئے
whatsapp sharing button
تل ابیب: (ما نیٹرنگ ڈیسک  ) اسرائیل میں حالیہ انتخابات کے بعد بنیامین نیتن یاہو کے دوبارہ وزیراعظم بننے کے امکانات انتہائی کم ہو گئے ہیں۔

نیتن یاہو کی اتحادی جماعت یونائیٹڈ توراہ جوڈازم نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے کسی بھی امیدوار کی حمایت سے انکار کر دیا ہے۔ جماعت قدامت پسند طلبہ کو فوجی سروس سے استثنیٰ دینے کا قانون منظور نہ ہونے پر ناراض ہے۔

یونائیٹڈ توراہ جوڈازم کے مطابق جماعت کے نمائندوں نے اسرائیلی صدر سے مشاورت کے دوران کسی امیدوار کا نام تجویز نہیں کیا، جبکہ مستقبل میں کسی بھی حکومت کی حمایت فوجی سروس سے استثنیٰ کے قانون سے مشروط ہوگی۔

انتخابات میں 11 نشستیں حاصل کرنے والے عرب سیاسی اتحاد جوائنٹ لسٹ اور 8 نشستیں حاصل کرنے والی عرب جماعت رام نے یشر پارٹی کے چیئرمین گادی آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

عرب جماعت رام کے سربراہ منصور عباس کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت سازی کے لیے گادی آئزن کوٹ کی حمایت اس لیے کی کیونکہ ان کے خیال میں آئزن کوٹ کے لیے حکومت بنانا ممکن ہے۔

جوائنٹ لسٹ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے وزیراعظم کے لیے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کو گادی آئزن کوٹ کا نام تجویز کرے گی۔

اس پیش رفت کے بعد گادی آئزن کوٹ کو کنیسٹ کے 67 ارکان کی حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے، جو حکومت سازی کے لیے درکار 61 ارکان کی اکثریت سے زیادہ ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ آئزن کوٹ کی حمایت کرنے والی جماعتوں کے اس فیصلے کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ وہ حتمی طور پر حکومتی اتحاد میں بھی شامل ہوں گی۔

جوائنٹ لسٹ کے مطابق اس کے تینوں دھڑوں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنے کے عوامی مطالبے کے جواب میں کیا ہے۔