(کوہاٹ دہشت گردی)  پولیس موبائل پر حملہ، 5 اہلکاروں سمیت 7 افراد شہید

دہشت گرد حملے میں ڈی ایس پی اسد محمود، ایس آئی انار گل سمیت 5 اہلکار شہید ہوئے، شہداء میں 2 شہری بھی شامل ہیں جبکہ 3 اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں

تحصیل برمل میں دھماکے سے گورنمنٹ مڈل سکول شریف خان کوٹ کے دو کمرے، باتھ رومز، مین گیٹ اور ایک طرف چار دیواری مکمل تباہ ہوگئی جب کہ قریبی گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔

کوہاٹ: دہشت گردوں کا پولیس موبائل پر حملہ، 5 اہلکاروں سمیت 7 افراد شہید

ڈی پی او شہباز الہٰی نے تصدیق کی کہ پولیس موبائل پر دہشت گرد حملے میں ڈی ایس پی اسد محمود، ایس آئی انار گل سمیت 5 اہلکار شہید ہوئے، شہداء میں 2 شہری بھی شامل ہیں جبکہ 3 اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق دہشت گردوں نے حملے کے بعد پولیس موبائل کو بھی آگ لگا دی اور موقع سے فرار ہوگئے جبکہ پولیس کی بھاری نفری موقع پر طلب کر لی گئی ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کوہاٹ کے علاقے میں پولیس گاڑی پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے حملے کی پرزور مذمت کی اور جام شہادت نوش کرنے والے ڈی ایس پی اسد محمود اور اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے شہید ڈی ایس پی اسد محمود اور شہداء کے خاندانوں سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ڈی ایس پی اسد محمود اور دونوں اہلکاروں نے شہادت کا عظیم رتبہ پایا، شہید ڈی ایس پی اسد محمود اور دونوں اہلکاروں نے اپنا آج قوم کے کل پر قربان کیا، شہداء کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ دکھ کی گھڑی میں شہید ڈی ایس پی اسد محمود اور شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے ڈی ایس پی او اہلکاروں کی شہادت پر خراج عقیدت پیش کیا گیا، انہوں نے آئی جی پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی اور کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی.

جنوبی وزیرستان: شرپسندوں نے سرکاری سکول بارودی مواد سے اُڑا دیا

جنوبی وزیرستان: شرپسندوں نے سرکاری سکول بارودی مواد سے اُڑا دیا

ذرائع نے مزید بتایا کہ بارودی مواد کے دھماکے میں جانی نقصان نہیں ہوا، اِس سے قبل بھی دہشتگردوں نے گورنمنٹ ہائی سکول اعظم ورسک کو بارودی مواد سے دھماکے کے ذریعے تباہ کر دیا تھا۔

فتنہ الخوارج نے زخمی ایف سی اہلکاروں کو لے جانیوالی ایمبولینس کو آگ لگا دی

فتنہ الخوارج نے زخمی ایف سی اہلکاروں کو لے جانیوالی ایمبولینس کو آگ لگا دی
whatsapp sharing button
facebook sharing button
twitter sharing button
email sharing button
sharethis sharing button

آگ میں جلا کے شہید کیے جانے والے فیڈرل کانسٹیبلری کے تمام اہلکار خیبر پختونخوا کے مقامی تھے۔

خوارج نے اس واقعے کی پوری فلم بندی کر کے اُس کو سوشل میڈیا پر ڈال دیا، اس طرح کی بربریت سے خوارجین کا ایک ہی مقصد ہے کہ عوام میں خوف و دہشت پھیلائی جا سکے، رمضان کے مقدس مہینے میں خوارج کی جانب سے ایک سافٹ ٹارگٹ کو چنا جانا اور زخمیوں کے ساتھ ظلم ایک کھلی بربریت اور اسلام کے منافی عمل ہے۔

تفصیلات کے مطابق 23 فروری 2026 کو کرک کے علاقے قلعہ شہیدان میں فیڈرل کانسٹیبلری کی پوسٹ پر فتنۃ الخوارج نے کواڈ کاپٹر سے حملہ کیا۔

حملے کے بعد ریسکیو 1122 کی دو ایمبولینس زخمیوں کو لینے پوسٹ پر پہنچیں لیکن واپسی پر دونوں ایمبولینس پر فتنہ الخوارج نے حملہ کر دیا جس میں ایک ایمبولینس کو آگ لگا کر مریضوں سمیت جلا دیا گیا جبکہ دوسری ایمبولینس زخمیوں کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہوگئی۔

آگ لگنے کی وجہ سے ایمبولینس کا ڈرائیور اور ریسکیو 1122 کا ایک اہلکار بھی جھلس گیا۔

آگ میں جل کے شہید ہونے والے زخمی اہل کاروں میں فیڈرل کانسٹیبلری کے سپاہی مراد گل، سپاہی ایان خان اور لانس نائیک عادل خان شامل ہیں۔

سپاہی مراد گل شہید اور سپاہی ایان خان شہید کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو سے تھا اور لانس نائیک عادل خان شہید کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے تھا جبکہ دیگر زخمیوں میں حوالدار صابر ولد حکیم شاہ، محمد یوسف ولد شربت خان، حنیف ولد گل زرین اور ایمبولینس ڈرائیور احمد حسین شامل ہیں جو سارے خیبرپختونخوا کے مقامی پختون ہیں جنہیں علاج کے لیے بنوں اور کرک کے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے اسلام میں جنگ کے دوران بھی زخمیوں پر حملہ کرنا اور انہیں نقصان پہنچانا حرام ہے۔

فتنہ الخوارج نے مقامی پختونوں کو نشانہ بنا کر ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ ان عناصر کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ جھنم کے کتے ہیں جن کا انسانیت اور مذہب سے کچھ لینا دینا نہیں، بے گناہوں اور زخمیوں کو نشانہ بنانا ظلم اور کھلی بربریت ہے، جس کی اسلام میں کوئی اجازت نہیں، ان جوانوں کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا، اور ان شاء اللہ آخری خوارجی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔