رواں مالی سال کیلئے 35 ارب 28 کروڑ ڈالر سے زائد برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کیلئے صرف ایک ماہ کے دوران ساڑھے 7 ارب ڈالر تک کی برآمدات کرنا ہوں گی۔ اگر رواں ماہ برآمدات کم رہیں تو سالانہ ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا۔ ادارہ شماریات
لیڈ ( تجارتی خسارہ 27-2026 )11 ماہ میں 17 فیصد بڑھ گیا (34 ارب ڈالر کا نقصان )
اڑان پلان کے تحت 5 برسوں میں برآمدات کا ہدف 60 ارب ڈالر ،رواں سال اضافے کی بجائے 5 فیصد سے زائد گراوٹ ہوگئی،درآمدات 5اعشاریہ 94 فیصد زیادہ رہیں 35ارب 28کروڑ ڈالر کا ہدف حاصل کرنے کیلئے رواں ماہ ساڑھے 7 ارب ڈالر کی برآمدات درکار ،سالانہ 5ارب ڈالر برآمدات بڑھانے کا ہدف اڑھائی ارب ڈالر تک محدود.
وزارت تجارت کے اعداد و شمار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 11 ماہ میں برآمدات 27 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زیادہ رہیں، جولائی سے مئی درآمدات 62 ارب 66 کروڑ ڈالر سے زیادہ رہیں۔ 11 ماہ میں برآمدات میں مجموعی طور پر 5.61 فیصد کی کمی اور درآمدات میں 5.94 فیصد اضافہ ہوا۔

اسلام آباد ( خصوصی رپورٹر )پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ رواں مالی سال کے 11 ماہ میں تجارتی خسارہ 34 ارب 75 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کیلئے 35 ارب 28 کروڑ ڈالر سے زائد برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کیلئے صرف ایک ماہ کے دوران ساڑھے 7 ارب ڈالر تک کی برآمدات کرنا ہوں گی۔ اگر رواں ماہ برآمدات کم رہیں تو سالانہ ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا۔ ادارہ شماریات کے مطابق وزارت تجارت کے اعداد و شمار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 11 ماہ میں برآمدات 27 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زیادہ رہیں، جولائی سے مئی درآمدات 62 ارب 66 کروڑ ڈالر سے زیادہ رہیں۔ 11 ماہ میں برآمدات میں مجموعی طور پر 5.61 فیصد کی کمی اور درآمدات میں 5.94 فیصد اضافہ ہوا۔
ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ مالی سال کے 11 ماہ میں برآمدات 29 ارب 56 کروڑ ڈالر سے زیادہ تھیں جبکہ گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں درآمدات 59 ارب 14 کروڑ ڈالر سے زیادہ تھیں۔ مئی کے دوران اپریل کی نسبت برآمدات میں 9.59 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مئی میں اپریل کی نسبت درآمدات میں 21.55 فیصد کی کمی ہوئی۔ ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال مئی میں گزشتہ مالی سال مئی کے مقابلے میں برآمدات میں صرف 1.26 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ مئی میں گزشتہ مالی سال مئی کے مقابلے میں درآمدات میں 6.63 فیصد کی کمی ہوئی۔ حکومت نے اڑان پلان کے تحت 5 برسوں میں برآمدات کا ہدف 60 ارب ڈالر رکھا ہے لیکن رواں مالی سال کیلئے برآمدات میں اضافے کی بجائے 5 فیصد سے زائد برآمدات گراوٹ کا شکار ہیں۔
وزارت منصوبہ بندی نے 5 برسوں میں برآمدات 60 ارب ڈالر تک پہنچانے کا پلان بھی بنایا ہے جہاں ایگریکلچر، صنعت، مینوفیکچرنگ، سروسز، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مائننگ اینڈ منرلز سمیت 8 سیکٹرز کی گروتھ برآمدات شامل ہیں لیکن جس تناسب سے برآمدات بڑھانے کی ضرورت ہے ، اس کے مقابلے میں رواں مالی سال مجموعی طور پر برآمدات میں کمی ریکارڈ ہوئی ہے ۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اے پی سی سی سے خطاب کے دوران کہا کہ دس برسوں میں برآمدات 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کی ضرورت ہے ۔
60 ارب ڈالر تک برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کیلئے رواں مالی سال سمیت 5 برسوں میں ہر سال تقریباً ساڑھے 5 ارب ڈالر کی برآمدات بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ رواں مالی سال کیلئے برآمدات کا ہدف 35 ارب 28 کروڑ ڈالر رکھا گیا ہے ۔ سالانہ برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کیلئے جون کے دوران ساڑھے 7 ارب ڈالر تک برآمدات کرنا ہوں گی۔ اگر یہ ٹارگٹ حاصل نہ ہوا تو سالانہ برآمدات کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکے گا۔ سالانہ بنیادوں پر 5 ارب ڈالر برآمدات بڑھانے کے ہدف کو حقیقی بنیادوں پر دیکھا جائے تو گزشتہ 5 برسوں میں برآمدات کا ہدف بڑھنے کا ٹرینڈ اڑھائی ارب ڈالر تک محدود رہا جبکہ رواں مالی سال برآمدات میں گزشتہ برسوں کی نسبت گراوٹ ہے ۔





