ایک ہزار ارب ڈالر سے زائد کی گلوبل منی لانڈرنگ کا انکشاف…ڈوئچے بینک کا بھی کلیدی کردار

ایک ہزار ارب ڈالر سے زائد کی گلوبل منی لانڈرنگ کا انکشاف

مشکوک مالی ادائیگیوں کی صورت میں کی جانے والی اس منی لانڈرنگ میں ڈوئچے بینک نے بھی کلیدی کردار ادا کیا

بہت سی ادائیگیاں ایران اور روس جیسے ممالک کے خلاف عائد کردہ بین الاقوامی پابندیوں اور ان کی شرائط پورا کرنے سے بچنے کے لیے کی گئیں

امریکی وزارت خزانہ کی خفیہ دستاویزات میں نئے انکشافات

واشنگٹن(ویب ڈیسک )امریکی وزارت خزانہ کی خفیہ دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر فعال بہت سے بڑے بڑے بینک اپنی ناقص کارکردگی اور لاپروائی کے باعث عالمی سطح پر ایک ٹریلین ڈالر سے زائد کی منی لانڈرنگ میں شریک رہے ہیں۔جرمن ٹی وی کے مطابق یہ پریشان کن انکشاف صحافیوں کے ایک انٹرنیشنل نیٹ ورک کی طرف  سے  کی گئی طویل چھان بین کے بعد ممکن ہوا۔ اس انکشاف کی بنیاد وہ خفیہ رپورٹیں بنیں، جو دنیا کے مختلف بینکوں نے مالیاتی جرائم کی روک تھام کے نیٹ ورک یا ‘فِن سین (FinCEN) کو جمع کرائیں۔فنانشل کرائمز انفورسمنٹ نیٹ ورک کی ان فائلز سے پتا چلا ہے کہ مشکوک مالی ادائیگیوں کی صورت میں کی جانے والی اس منی لانڈرنگ میں جرمنی کے سب سے بڑے اور دنیا کے بہت بڑے بڑے بینکوں میں شمار ہونے والے ڈوئچے بینک نے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ ان میں سے بہت سی ادائیگیاں ایران اور روس جیسے ممالک کے خلاف عائد کردہ بین الاقوامی پابندیوں اور ان کی شرائط پورا کرنے سے بچنے کے لیے کی گئیں۔فنانشل کرائمز انفورسمنٹ نیٹ ورک امریکی وزارت خزانہ کا ایک ذیلی دفتر ہے۔ اس دفتر کی اب منظر عام پر آ جانے والی بے تحاشا دستاویزات سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ جرمنی کا ڈوئچے بینک اس امر سے باخبر تھا کہ وہ ایک مالیاتی ادارے کے طور پر ایسی مشکوک ادائیگیوں کا حصہ بن رہا تھا، جن کی مجموعی مالیت ایک ٹریلین ڈالر سے بھی زیادہ تھی۔یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ اس بینک نے مبینہ طور پر ان ادائیگیوں کے لیے اپنی خدمات اس وقت بھی مہیا کیں، جب وہ پہلے ہی یہ وعدہ بھی کر چکا تھا کہ وہ آئندہ صرف رقوم کی شفاف اور غیر مشکوک منتقلی میں ہی حصہ لے گا۔اس انکشاف کی وجہ بننے والی فائلیں سب سے پہلے بز فیڈ نیوز نے حاصل کیں اور پھر انہیں تحقیقاتی صحافت کرنے والے صحافیوں کے ایک بین الاقوامی کنسورشیم کو مہیا کر دیا گیا۔ اس کنسورشیم ICIJ نے اس ڈیٹا کی گزشتہ 16 ماہ کے دوران 88 ممالک میں 400 صحافیوں کی مدد سے پوری چھان بین کرائی۔ پھر جو نتائج اخذ کیے گئے، انہوں نے بینکاری کے بین الاقوامی شعبے کی اصل کارکردگی کو بے نقاب کر دیا۔جہاں تک جرمنی کے ڈوئچے بینک کا تعلق ہے، تو اس ادارے نے اپنے ہاں سے رقوم کی مشکوک منتقلی کے جن واقعات کی امریکا میں فنانشل کرائمز انفورسمنٹ نیٹ ورک کو اطلاع دی، وہ FinCEN کو رپورٹ کیے گئے ایسے واقعات کا 62 فیصد بنتے ہیں۔ ایسی رپورٹوں کو بینکاری کی زبان میں Suspicious Activities Reports یا SARs کہتے ہیں اور ان کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ یہ رپورٹ مصدقہ طور پر کسی مالیاتی جرم کا ثبوت بھی ہے۔ان دستاویزات کے مطابق 1999 اور 2017 کے درمیان پوری دنیا میں مجموعی طور پر دو ٹریلین ڈالر (1.68 ٹریلین یورو) کی ٹرانزیکشنز ایسی تھیں، جنہیں مشکوک قرار دے کر فِن سین کو اطلاع کی گئی تھی۔ ایسی اطلاعات دیے جانے کی وجوہات اکثر یہ ہوتی ہیں کہ متعلقہ رقوم کی منتقلی شاید کالے دھن کو سفید بنانے، بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یا پھر مجرمانہ سرگرمیوں سے ہونے والی آمدنی پر پردہ ڈالنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ڈوئچے بینک رقوم کی اس عالمگیر منتقلی کے عمل میں اتنا زیادہ شامل رہا تھا کہ جن دو ٹریلین ڈالر کی ٹرانسفر کی کئی برسوں کے دوران FinCEN کو اطلاعات دی گئیں، ان میں سے 1.3 ٹریلین ڈالر یا تقریبا 1.1 ٹریلین یورو صرف جرمنی کے ڈوئچے بینک کے ذریعے منتقل کیے گئے تھے۔یورپ کے بہت بڑے بینکوں میں شمار ہونے والا ڈوئچے بینک ماضی میں بھی کئی ایسے معاملات میں ملوث رہا ہے، جن کی وجہ سے اسے بہت بڑے جرمانے بھی کیے گئے تھے۔اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ماضی میں اس ادارے نے جو مشکوک مالی ادائیگیاں کی تھیں، ان کے امریکی پابندیوں کے برخلاف ہونے اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے 2015 میں اس بینک کو 258 ملین ڈالر جرمانہ بھی کیا گیا تھا۔ تب اس بینک نے اس جرمانے کی ادائیگی پر اتفاق کیا تھا اور یہ ادا کر بھی دیا تھا۔ان خفیہ دستاویزات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایران کے خلاف عائد بین الاقوامی پابندیوں کے تحت جب ایرانی بینکوں کو SWIFT نامی گلوبل ٹرانزیکشن سسٹم سے خارج کر دیا گیا تھا، تو ایران کے لیے یہ ممکن نہیں رہا تھا کہ اسے اس کے برآمدی تیل اور گیس کے لیے ادائیگیاں انٹرنیشنل بینک ٹرانسفر کے ذریعے کی جا سکیں؟تب ان پابندیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے ایران نے کرنسی کے بجائے سونے کی شکل میں یہ ادائیگیاں قبول کرنا شروع کر دی تھیں۔اس کام میں ایرانی نژاد ترک شہری رضا ضراب نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔رضا ضراب سونے کا تاجر تھا اور اس کے ذریعے ایران کو اربوں ڈالر کی ادائیگیاں اسی قیمتی دھات کی شکل میں کی گئی تھیں۔رضا ضراب نے 2017 میں ایک امریکی عدالت میں یہ اعتراف کر لیا تھا کہ وہ اپنی سرگرمیوں کے ذریعے اس امر کا مرتکب ہوا تھا کہ امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے ایران کی مدد کرے۔ضراب کو دسمبر 2013 میں ترکی سے منی لانڈرنگ اور سونے کی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا۔فِن سین دستاویزات کے منظر عام پر آنے سے ہونے والے انکشافات نے واضح کر دیا ہے کہ کس طرح دنیا کے مختلف ممالک میں بظاہر بہت شفاف بینکاری کرنے والے بڑے بڑے نامی گرامی ادارے بھی عالمی سطح پر ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، جن کے ذریعے مروجہ قوانین اور ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رقوم کی مشکوک منتقلی کی گئی یا مالیاتی جرائم کا ارتکاب کیا گیا

#/S

Editor

Next Post

e-Paper – Daily Wifaq – Rawalpindi – 22-09-2020

منگل ستمبر 22 , 2020