نیب نے ملزمان کیساتھ6 کروڑ 26 لاکھ روپے کی پلی بارگین کرلی

طے ہو نیوالی رقم کی پہلی قسط1 کروڑ 86 لاکھ چیئرمین نیب کے اکائونٹ میں جمع کرا دئیے گئے

دیگر رقم 2 مساوی اقساط میں جمع کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی ،نیب حکام

اسلام آباد (ویب  نیوز) قومی احتساب بیورو(نیب)نے دھوکہ دہی سے لوگوں کو لوٹنے والے ملزمان کیساتھ 6 کروڑ 26 لاکھ روپے کی پلی بارگین کرلی ۔شمزید حسین نامی شخص نے اعتراف جرم کرتے ہوئے ڈی جی نیب کو پلی بارگین کی درخواست دی تھی۔ ملزم نے سادہ لوح شہریوں سے 4 کروڑ 83 لاکھ 59 ہزار 406 روپے ہتھیائے۔پلی بارگین میں طے ہونے والی رقم کی پہلی قسط ایک کروڑ 86 لاکھ چیئرمین نیب کے اکائونٹ میں جمع کرا دئیے گئے اور دیگر رقم 2 مساوی اقساط میں جمع کرانے کی یقین دہانی کرائی ۔نیب لاہور کو ملزم کیخلاف 78 متاثرہ افراد نے شکایات جمع کرائیں۔ حکام نے کہا کہ ملزم کیخلاف 5 کروڑ 64 لاکھ 45 ہزار 206 روپے کے کلیمز موصول ہوئے۔قومی احتساب بیورو کے مطابق ملزم کیخلاف 16 اپریل 2019 ء میں انکوائری کا آغاز کیا گیا تھا اور مزید 11 شکایات ویری فکیشن کے مرحلے میں ہیں۔پلی بارگین سے متعلق نیب آرڈیننس کی شق 25 دو حصوں پر مشتمل ہے جسے 2002 میں نیب آرڈیننس میں شامل کیا گیا تھا۔اس قانون کی شق25 اے رضاکارانہ واپسی سے متعلق ہے، جس کے تحت اگر کسی شخص کے خلاف بدعنوانی کے الزامات ہیں اور یہ معاملہ ابھی انکوائری تک ہی محدود ہے تو اس میں ملزم کے پاس آپشن ہے کہ وہ انکوائری کے دوران کسی بھی مرحلے میں رضاکارانہ طور پر رقم واپس کر سکتا ہے جس کے بعد اسے کسی قانونی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ تاہم اس کے لیے نیب کے چیئرمین کی منظوری لینا ضروری ہے۔شق 25 کا بی حصہ پلی بارگین سے متعلق ہے جس میں اگر کوئی معاملہ انکوائری سے تفتیش کے مرحلے تک پہنچ گیا ہے تو اس مرحلے میں کسی بھی موقع پر ملزم رقم واپس کرنے پر راضی ہو جاتا ہے۔چیئرمین نیب کی حتمی منظوری کے بعد یہ معاملہ عدالت میں بھجوایا جاتا ہے اور عدالتی منظوری کے بعد ملزم سے رقم کی ادائیگی کے لیے کہا جاتا ہے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.