کراچی :جنوری 2021 کے دوران جاری کھاتے کو 22 کروڑ 90 لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا

کراچی(ویب  نیوز)جنوری 2021 کے دوران جاری کھاتے کو 22 کروڑ 90 لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا رہا،اس طرح مسلسل دوسرے ماہ ملک کو تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق دسمبر 2020 کے مقابلے میں جنوری 2021 کا خسارہ 42 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کم رہا۔ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں کرنٹ اکانٹ بیلنس 91 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سرپلس رہا۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں جاری کھاتے کو 2 ارب 54 کروڑ 40 لاکھ ڈالر خسارہ ہوا تھا۔رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 13 ارب 74 کروڑ ڈالر رہا۔ تجارتی خسارہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 2 ارب 14 کروڑ ڈالر زائد ہے۔ اشیا و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 14 ارب  85 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہا۔گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں اشیا و خدمات کا مجموعی خسارہ 13 ارب 49 کروڑ ڈالر تھا۔ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران 16 ارب  47 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں ترسیلات کی مالیت 3 ارب 20 کروڑ ڈالر زائد رہیں۔مرکزی بینک کے مطابق جنوری کے مہینے میں معیشت کے مختلف شعبوں جیسے بجلی اور ٹیلی کام کے منصوبوں میں سرمایہ کاری 192.7 ملین ڈالر کی سطح پر رہی، جب کہ سال گذشتہ کے اسی مہینے میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 219.6 ملین ڈالر رہا تھا۔معاشی ماہرین کے مطابق تجارتی خسارے میں اضافے کی بنیادی وجہ اشیائے خوراک، صنعتی خام مال اور مشینری کی درآمدات میں اضافہ ہے۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔