ملائیشیا پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ اکرام بن محمد ابراہیم

ملائیشیا پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ اکرام بن محمد ابراہیم
سی ڈی اے کہوٹہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں جلد ترقیاتی کام شروع کرے۔ سردار یاسر الیاس خان
صنعتی ترقی کیلئے حکومت صنعتکاروں کے اہم مسائل حل کرنے پر توجہ دے۔ میاں اکرم فرید

اسلام آباد (ویب نیوز  ) پاکستان میں تعینات ملائیشیا کے ہائی کمشنر جناب اکرام بن محمد ابراہیم نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے کیونکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ متعدد اشیاء کی تجارت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوڈ پروسیسنگ مصنوعات ملائیشین مارکیٹ میں مقبولیت حاصل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا اور پاکستان کے نجی شعبوں کے مابین بہتر روابط کے فقدان کی وجہ سے دونوں کی باہمی تجارت اصل صلاحیت سے کم ہے لہذا دونوں ممالک نجی شعبوں کو قریب لانے پر خصوصی توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پیداواری شعبہ ان مصنوعات کو تیار کرنے پر زیادہ توجہ دے جن کی عالمی مارکیٹ میں اس وقت زیادہ مانگ ہے جس سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ملائشیا اور پاکستان نے ایک آزاد تجارت کا معاہدہ کر رکھا ہے لہذا دونوں ممالک کی تاجر برادری باہمی تجارت کو بہتر کرنے کیلئے اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کہوٹہ انڈسٹریل ٹرائینگل میں ایک استقبالیہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق ایگزیکٹو ممبر میاں عارف حسین نے کیا۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار یاسر الیاس خان، فاؤنڈر گروپ کے چیئرمین میاں اکرم فرید اور جڑواں شہروں کی تاجر برادری کی ایک کثیر تعداد تقریب میں موجود تھی۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار یاسر الیاس خان نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کی دوطرفہ تجارت دونوں ممالک کی اصل صلاحیت سے بہت کم ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک تجارتی وفود کا تبادلہ بڑھانے اور ایک دوسرے کے ملک میں تجارتی نمائشوں کا انعقاد کرنے کی حوصلہ افزائی کریں جس سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ چاول، گندم، آم، حلال فوڈ، سمندری غذا، گوشت کی مصنوعات، کٹلری اور کھیلوں کا سامان، مصالحہ جات، دستکاری، لائٹ انجینئرنگ کا سامان،میڈیکل اور سرجیکل سامان، دواسازی اور جواہرات و زیورات سمیت پاکستان کی متعدد مصنوعات ملائیشیا کی مارکیٹ میں بہتر مقام حاصل کر سکتی ہیں لہذا ملائیشیا پاکستان سے ان مصنوعات کو درآمد کرنے کی کوشش کرے۔
سردار یاسر الیاس خان نے کہا کہ کہوٹہ انڈسٹریل ٹرائینگل میں فارماسوٹیکلز سمیت اہم صنعتیں کام کر رہی ہیں لیکن یہ انڈسٹریل اسٹیٹ بنیادی سہولیات سے محروم ہے کیونکہ اس کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، سٹریٹ لائٹس کام نہیں کر رہیں جبکہ واٹر سپلائی اور سیویج کانظام خستہ حالت میں ہے لہذا انہوں نے سی ڈی اے پر زور دیا کہ وہ کہوٹہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں ترجیحی بنیادوں پر ترقیاتی کام شروع کرے تا کہ صنعتکاری کو بہتر فروغ ملے اور ہماری برآمدات میں اضافہ ہو۔
فاؤنڈر گروپ کے چیئرمین میاں اکرم فرید نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام کیلئے صنعتکاری کو فروغ دینا چاہتی ہے۔تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت صنعتی شعبے کے اہم مسائل کو جلد حل کرنے پر توجہ دے اور کہوٹہ انڈسٹریل اسٹیٹ سمیت تمام موجودہ انڈسٹریل اسٹیٹس کو جدید خطوط پر ترقی دینے کی کوشش کرے جس سے تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے گا اور معیشت مستحکم ہو گی۔
چیمبر کے سابق ایگزیکٹو ممبر میاں عارف حسین اور دیگر نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور سی ڈی اے سے مطالبہ کیا کہ کہوٹہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں سڑکوں کی کارپٹنگ کی جائے، تمام اسٹریٹ لائٹس بحال کی جائیں، پانی کی سپلائی یقینی بنائی جائے اور سیوریج کا نظام ٹھیک کیا جائے تاکہ یہ انڈسٹریل اسٹیٹ صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور برآمدات میں اضافہ کرنے میں موثر کردار ادا کر سکے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.