ایف پی سی سی آئی اور ایران کا اقتصادی تعاون کے فروغ پر زور

ایف پی سی سی آئی اور ایران کا اقتصادی تعاون کے فروغ پر زور
ایران اور پاکستان کا علاقائی، تجارتی اور اقتصادی تعاون ناگزیر ہے‘ ڈپٹی سفیر ایران
بہتر تجارتی تعلقات دونوں ممالک کے وسیع تر مفاد میں ہیں‘ چیئرمین ایف پی سی سی آئی کیپٹل آفس

اسلام آباد( ویب نیوز )ایران کے ڈپٹی سفیر محمد سرخابی اور کمرشل اتاشی محسن نے پاکستان اور ایران کے مابین معاشی تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کا علاقائی، تجارتی اور اقتصادی تعاون ناگزیر ہے۔ ایرانی اور پاکستانی تاجروں کے درمیان مضبوط رشتہ ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مستحکم ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران ہمسایہ ممالک ہیں اور ان کے درمیان برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قربان علی چیئرمین ایف پی سی سی آئی کی سربراہی میں ملاقات کیلئے آنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات میں دو طرفہ تجارت، اقتصادی تعاون بڑھانے اور دونوں ممالک کے تاجروں کو درپیش مشکلات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر قربان علی چیئرمین ایف پی سی سی آئی کیپٹل آفس نے کہا کہ یہ ملاقات دونوں طرف سے مطلوبہ تجارتی اہداف حاصل کرنے کے لیے نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت پر اثر انداز ہونے والی مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا تاکہ تجارت اور معاشی تعلقات کو فروغ مل سکے۔ہم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ٹھوس بینکاری چینلز کی کمی ہی کم تجارتی حجم کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ایران اور پاکستان دونوں کو تجارت کو بڑھانے کے لئے ایک خصوصی طریقہ کار وضع کرنے کے لئے باہمی تعاون کرنا چاہئے۔ دونوں ممالک کے لئے تجارت کی سہولت کے لئے بارٹر ٹریڈ میکانزم میں پیشرفت کرنے کا بھی یہ اعلی وقت ہے۔قربان علی نے مزید کہا کہ غیر منقولہ تجارت کی اسمگلنگ کے سلسلے میں دونوں طرف سے سخت مانیٹرنگ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم دوطرفہ تجارت کے اعداد و شمار کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ایک بار COVID کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد برآمد کنندگان پر مبنی وفد کا باقاعدہ تبادلہ کیا جائے گا۔ جو B2B میٹنگز کے ذریعے آپسی تعلقات بہتر بنائیں گے۔ اور اس سے دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کی منڈیوں کے بارے میں اپنے معلومات کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تجارتی تعلقات دونوں ممالک کے وسیع تر مفاد میں ہیں بلکہ یہ برادر اسلامی ممالک کے معاشی خوشحالی کی ضامن ہیں،دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان مقررہ تجارتی اہداف کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ دوطرفہ تجا رت میں درپیش مشکلات کاخا تمہ کیا جا ئے۔ قربان علی نے مزیدکہا کہ ایف پی سی سی آئی کہاکہ ایف پی سی سی آئی اور کاروباری برادری تجارت کے فروغ کے لئے ہر ممکن اقدامات کرنے کو تیار ہے۔جن شعبہ جات پر پابندیاں نہیں ہیں ان میں دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔پاکستان کے ایران کے ساتھ بہت پرانے تعلقات ہیں۔پاکستان کے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات بہت کم ہیں جن کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔تجارتی تعلقات میں جو مسائل ہیں ان کو حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے،ا یران کے ساتھ پاکستان کی تجارت کو بڑھانے کے لئے ہوائی، ریل، روڈ اور بحری ذریعے موجود ہیں۔ دونوں ممالک کو تجارت کے فروغ کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ڈپٹی سفیر محمد سرخابی اور کمرشل اتاشی محسن نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران کے مابین تعلقات خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ حکومتوں کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ایران کے عوام بھی قریبی تجارتی تعلقات سے مستفید ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس بڑی گھریلو مارکیٹیں اور جیو اسٹریٹجک مسابقتی فوائد ہیں لیکن ان مواقعوں کو بروئے کار لا کر ہمارے تجارتی حجم میں اضافہ کرنا باقی ہے۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات صرف پروٹوکول کی حد تک نہیں ہیں۔ایران کے ساتھ پاکستان تعلقات آج مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ایران پاکستان کے ساتھ تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو بڑھانے کو تیار ہے۔مشکلات پہلے بھی تھیں اور آج بھی ہیں لیکن کاروبار کاروبار ہے۔پاکستان کے نجی شعبے کو ایرانی سفارت خانہ اور قونصل خانے سرمایہ کاری اور تجارت کے فروغ کے لئے ہر ممکن تعاون کو تیار ہے۔مزید کہا کہ کورونا وائرس کے باعث ایران کے ثقافتی اور زیارات کا شعبہ متاثر ہوا۔کورونا وائرس کے اثرات موجود ہیں، ایران کے سیاحتی اور زیارتی شعبہ میں کمی ہوئی ہے۔ ایران پاکستان کے ساتھ دو طرفہ کے فروغ کے لیے تیار ہے۔