وزیراعظم عمران خان کی اپیل پراکبر ایس بابر کو نوٹس جاری ، جواب طلب

وزیراعظم عمران خان کی اپیل پراکبر ایس بابر کو نوٹس جاری ، جواب طلب
ہمیں اکبر بابر کی سکروٹنی کمیٹی کارروائی میں شرکت پر اعتراض ہے،وکیل انور منصور
آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اکبر ایس بابر درخواست دائر نہیں کرسکتا؟جسٹس مشیر عالم کا وکیل سے استفسار
پارٹی سے نکالے جانے کا نوٹس کسی فورم پر پیش نہیں کیا گیا،وکیل اکبر ایس بابر

اسلام آباد (ویب  نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں درخواست گزار اکبر ایس بابرکے خلاف وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اپیل ابتدائی سماعت کیلئے منظور کر لی سپریم کورٹ نے اکبر ایس بابر کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔ جمعرات کو جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کی ۔ عمران خان کے وکیل انور منصور خان کا کہنا تھاکہ عمران خان کو الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن کیس کرنے سے قبل اکبر بابر پی ٹی آئی سے نکالے جا چکے تھے،اور الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں تھا کہ اکبر ایس بابر کو پارٹی رکن قرار دے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا،کون پارٹی ممبر ہے کون نہیں یہ تعین کرنا سول کورٹ کا اختیار ہے، الیکشن کمیشن کوئی عدالت ہے نہ ہی ٹربیونل،ہمیں اکبر بابر کی سکروٹنی کمیٹی کارروائی میں شرکت پر اعتراض ہے،  سکروٹنی کمیٹی اپنا کام کر رہی ہے  پارٹی کواس پر کوئی اعتراض نہیں، ۔جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیاکہ اکبر ایس بابر کو پارٹی سے کب نکالا گیا؟اور آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اکبر ایس بابر درخواست دائر نہیں کرسکتا؟وکیل نے جواب دیا کہ اکبر بابر کو 26 ستمبر 2011 کو پی ٹی آئی سے نکالا گیا،اورالیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی ان کیمرا ہونی چاہیے،اس دوران اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہاکہ پارٹی سے نکالے جانے کا نوٹس کسی فورم پر پیش نہیں کیا گیا،اس پر جسٹس یحیی آفریدی نے کہاکہ آپکو نوٹس کر رہے ہیں تحریری جواب جمع کرائیں، بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی
#/S