مشترکہ مفادات کونسل کا فوری طور پر نئی مردم شماری کرانے کا فیصلہ

مشترکہ مفادات کونسل کا فوری طور پر نئی مردم شماری کرانے کا فیصلہ
اکتوبر 2021ء سے نئی مردم شماری شروع ہو گی اور یہ عمل مارچ 2023ء تک مکمل کر لیا جائے گا، اسد عمر
آئندہ چھ سے آٹھ ہفتوں میں فریم ورک طے کیا جائے
مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں گزشتہ مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کی منظوری دی گئی
عام انتخابات نئی مردم شماری پر ہونگے،وفاقی وزیر کی مشترکہ مفادات کونسل اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ

اسلام آباد(ویب  نیوز)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل نے متفقہ طور پر 2017 کی مردم شماری منظور کرتے ہوئے فوری طور پر نئی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔  آئندہ چھ سے آٹھ ہفتوں میں فریم ورک طے کیا جائے گا۔اکتوبر 2021ء سے نئی مردم شماری شروع ہو گی اور یہ عمل مارچ 2023ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں گزشتہ مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کی منظوری دی گئی ۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔عام انتخابات نئی مردم شماری پر ہونگے۔مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اسدعمر نے کہا کہ نومبر2017 میں مردم شماری ہوئی تھی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کا عمل مکمل کیا جاتا ہے اور مردم شماری کی بنیاد پر ہی حلقہ بندیاں کی جاتی ہیں۔ جبکہ 2018 کے الیکشن کو خاص آئینی ترمیم کے ذریعے خصوصی استثنی دیا گیا تھا۔، آبادی کے تناسب سے صوبوں میں وسائل تقسیم کیے جاتے ہیں۔ وسائل کی تقسیم کا فارمولا بھی آبادی کے تناسب کے حساب سے طے کیا جاتا ہے،ان کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات پرانی حلقہ بندیوں اور مردم شماری سے ہو سکتے ہیں لیکن مقامی حکومتوں کے انتخابات نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہی ہوں گے اور اس میں عدلیہ کی بھی بہت زیادہ دلچسپی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ 2023 الیکشن سے پہلے مردم شماری پر حتمی فیصلہ نہ ہو تو آئینی ترمیم کا استثنی ختم ہونے کے سبب اگلا الیکشن 1998 میں ہوئی مردم شماری کی بنیاد پر ہو گا جس کے نتیجے میں تینوں چھوٹے صوبوں کی اسمبلی میں نمائندگی کم ہو جائے گی اور پنجاب کی نمائندگی بڑھ جائے گی۔ ۔ 2017 کی مردم شماری پر ملک کے متعدد حصوں سے تحفظات سامنے آئے۔2017 کی مردم شماری پر سوالیہ نشان ہیں۔ مردم شماری  پر تمام صوبوں میں اتفاق رائے ہونا چاہیے۔مردم شماری کے حوالے سے کابینہ کی کمیٹی بھی بنا دی گئی تھی اور انہوں نے اس حوالے سے اپنی سفارشات بھی مرتب کی تھیں۔ مشترکہ  مفادات کونسل کے اجلاس میں اکثریتی رائے سے مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔  فیصلہ کیا گیا ہے کہ انتظار کے بجائے فوری اگلی مردم شماری کر ائی جائے۔ پنجاب خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ نے حق میں ووٹ دیا۔ جبکہ سندھ کے وزیراعلیٰ نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ اسد عمر نے کہا کہ دنیا بھر میں مردم شماری کیلئے ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے جو انتہائی آسان اور بہتر طریقہ ہے نئی مردم شماری کیلئے  بنیادی فریم ورک 6 سے8 ہفتے  میں طے کرلیا جائے گا ۔ ستمبر یا اکتوبر میں نئی مردم شماری کا عمل شروع ہوگا جو مارچ  2023 تک مکمل کرلیا جائے گا۔ نئی  مردم شماری پر آئندہ عام انتخابات ہوں گے۔ فیصلہ ہوا ہے کہ انتظار کے بجائے فوری اگلی مردم شماری کر انی جائے ، پنجاب ،خیبرپختونخوا اوربلوچستان کے وزرائے  اعلیٰ نے حق میں ووٹ دیا جبکہ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ مردم شماری نتائج جاری کرنے کے حق میں نہیں تھے جبکہ وفاق کے تمام ممبران نے بھی حق میں ووٹ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ مفادات میں مردم شماری کا آڈٹ وغیرہ کرنے کا طریقہ نہیں ہے، آپ اسے منظور کریں یا مسترد کردیں، اگر اہم ان دونوں میں سے کوئی بھی فیصلہ نہیں لیتے تو نئی مردم شماری کرانے سے ہم قاصر ہیں، پرانی مردم شماری ہمیں قبول نہیں ہے لہذا اسے منظور یا مسترد کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔اسد عمر نے کہا کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اکثریت رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ مردم شماری کے نتائج کی منظوری دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اگلی مردم شماری کے لیے 10سال انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس مردم شماری پر سوالیہ نشان موجود ہے لہذا فوری بنیاد پر نئی مردم شماری کرانی ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ہم نے چند ماہ قبل ڈپٹی کمشنر پلانگ کمیشن کی سربراہی میں ایک ٹیکنیکل ٹیم بنائی تھی جس میں سرکاری لوگ اور مردم شماری پر مہارت رکھنے والے ماہرین شماریات بھی موجود ہیں اور وہ کافی حد تک کام مکمل بھی کر چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگلے چھ سے 8 ہفتے کے اندر نئی مردم شماری کا فریم ورک تیار کر لیا جائے گا کیونکہ ہم نے پرانے طریقہ کار کے مطابق مردم شماری نہیں کرانی۔انہوں نے مزید کہا کہ جون کے وسط تک یہ عمل مکمل کر لیا جائے گا جس کے بعد ہم مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری لے لیں گے اور اس منظوری کے چار ماہ کے بعد اس پر کام شروع کیا جا سکتا ہے، اسی سال اکتوبر میں تک نئی مردم مشاری پر کام شروع ہو جائے گا اور 18 مہینے کا عمل 2023 کے ابتدائی چھ ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ مردم شماری کی  منظوری کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا گیا جس میں وفاق کے 7 اراکین، بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلی نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ وزیر اعلی سندھ نے اس کے خلاف ووٹ دیا،اسد عمر نے کہاکہ مردم شماری پر عوام کا اعتماد ہونا چاہیے ۔ مردم شماری  بڑا  ذمہ داری کا کام ہے ہماری کوشش ہے کہ اس فیصلہ سازی میں ملک کے تمام اسٹیک ہولڈر شامل ہوں۔ ہماری کوشش ہے کہ آئندہ اس پر کوئی  سوالیہ نشان باقی نہ رہے ۔ یہ ایک قومی کام ہے جس کی بنیادپر اسمبلیوں میں صوبوں کو نمائندگی ملتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا فیصلہ ان کا آئینی اختیار ہے ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔مردم شماری کا شفاف عمل قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے معاون ثابت ہوگا۔ مردم شماری کا صرف تکنیکی طور پر درست ہونا کافی نہیں بلکہ عوامی اعتماد بھی ضروری ہے۔میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم بہت ساری کورونا ویکسین خرید چکے ہیں ۔چین کی ویکسین دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہو رہی ہے۔دو دن میں پچاس سال سے زائد عمر  کے افراد کی ویکسینیشن کا اعلان کر دیا جائے گا۔بجٹ میں مردم شماری کے لیے رقم رکھی جائے گی۔
#/S