موجودہ پارلیمنٹ میں ان ہائوس تبدیلی کاکوئی آپشن نہیں،فضل لرحمان

موجودہ پارلیمنٹ میں ان ہائوس تبدیلی کاکوئی آپشن نہیں،فضل لرحمان

 پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے پی ڈی ایم سے استعفے منظور نہیں کئے گئے

اگر پیپلزپارٹی ہمارا موقف تسلیم کر لے تو ہم سینیٹ میں ان کے اپوزیشن لیڈر کو بھی تسلیم کر سکتے ہیں

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم اور صدر کا عہدوں پر رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں

کشمیر پر بھارت کے مقابلے میں ہمارے موقف میں مضبوطی تب ہی پیدا ہو گی جب ہم معاشی طور پر مضبوط ہوں گے، میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد(ویب  نیوز) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ میں ان ہائوس تبدیلی کاکوئی آپشن نہیں

اگر پیپلزپارٹی پی ڈی ایم میں واپس آ کرہمارا موقف تسلیم کر لے تو ہم سینیٹ میں ان کے اپوزیشن لیڈر کو بھی تسلیم کر سکتے ہیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم اور صدر کا عہدوں پر رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے پی ڈی ایم سے استعفے منظور نہیں کئے گئے، پیپلزپارٹی پی ڈی ایم اتحاد میں واپسی کی خواہشمند ہے، ہماری شرط پر سوچ بچار کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے، اے این پی اور پی پی دونوں کے لئے اتحاد میں شمولیت میں کوئی رکاوٹ نہیں۔انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی بھی باپ سے ووٹ لینے پر پیپلزپارٹی سے ناراض ہے، اے این پی کی قیادت کو کسی دبا ئوکی وجہ سے اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کرنا پڑا، اگر پیپلزپارٹی پی ڈی ایم میں واپس آ کرہمارا موقف تسلیم کر لے تو ہم سینیٹ میں ان کے اپوزیشن لیڈر کو بھی تسلیم کر سکتے ہیں۔ ہمارا اتحاد برقرار ہے اور عید کے بعد اس کا سربراہی اجلاس بلایا جائے، پی ڈی ایم میں اب ن لیگ کی قیادت شہباز شریف کریں گے، عید کے بعد بھرپورعوامی رابطہ مہم چلائی جائے گی۔ اپوزیشن جماعتوں نے میرا اسمبلیوں سے حلف نہ لینے کا مطالبہ نہ مان کر اپنا نقصان کیا، اگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کچھ عرصے کے لئے حلف نہ اٹھاتے تو معاملات کی نوعیت کچھ اور ہوتی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ میں ان ہائوس تبدیلی کاکوئی آپشن نہیں، انتخابی اصلاحات کے لئے ایسی قومی حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے جس میں اپوزیشن کا پلڑا بھاری ہو، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم اور صدر کا عہدوں پر رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارت کے ہم بھی حق میں ہیں لیکن اس سے قبل اقتصادی استحکام اور سیاسی مفاہمت بہت ضروری ہے، کشمیر پر بھارت کے مقابلے میں ہمارے موقف میں مضبوطی تب ہی پیدا ہو گی جب ہم معاشی طور پر مضبوط ہوں گے، کمزور معیشت کی وجہ سے ہماری خارجہ پالیسی اور دفاع میں بھی مشکلات پیدا ہوتی ہیں، ماضی میں جب ملک کی معیشت مضبوط تھی تو واجپائی بس میں کر بیٹھ کر لاہور آ گیا تھا، اس وقت بھی ہم ان کا استقبال کیا تھا، کمزور معیشت کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر پر ہمارا موقف تحلیل ہو رہا ہے، ہم بہت کمزور پوزیشن پر کھڑے ہیں، اس صورتحال سے نکلنے کے لئے ہمیں مفاہمت سے راستہ بنانا پڑے گا۔