کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کو جبر و استبداد سے نجات دلانے  کے لیے اتحاد امت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے،سردار مسعود خان

مظفرآباد (ویب ڈیسک)

آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کو جبر و استبداد سے نجات دلانے اور دونوں خطوں کی آزادی کے لیے اتحاد امت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ اور فلسطین کے دوسرے علاقوں میں اندھا دھند بمباری اور بے گناہ فلسطینی مسلمانوں کی شہادت اور بڑے پیمانے پر املاک کی تباہی پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ فلسطین اور جموں و کشمیر میں مسلمانوں کو ان کے دین اور عقیدہ کی بنیاد پر ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس ظلم و بربریت اور نا انصافی کا خاتمہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب پوری امت مسلمہ اپنے چھوٹے چھوٹے اختلافات کو ختم کر کے متحد و متفق ہو جائے اور دین اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھام لے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر مسلمان غیر قانونی اور ناجائز قبضہ کی وجہ سے گزشتہ 73 سال سے بد ترین مصائب جھیل رہے ہیں جس کی انسانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس طرح فلسطینی اور کشمیری مسلمان اپنی ہی سرزمین میں بے زمین اور بے گھر اور انہیں زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک کھلی ناانصافی ہے جس کا ازالہ کرنے کے لیے انصاف اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے تیار نظر نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا متنازعہ خطہ بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں ایک کھلے جیل میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں نوجوانوں کو ہر روز آزادی اور حق خود ارادیت مانگنے کے جرم میں قتل، معذور، زخمی اور بصارت سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اگست 2019 کے بعد جن ہزاروں سیاسی رہنماؤں اور سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا وہ اب بھی بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں قید ہیں جہاں انہیں بد ترین تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ علاج معالجے کی کوئی سہولت نہیں دی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ان میں سے سینکڑوں قیدیوں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارتی حکومت کے بد ترین کشمیر دشمن اقدامات اور اسکی فوج کے ظلم و جبر کے باوجود مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حوصلے بلند ہیں اور وہ یہ عزم کیے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے مادر وطن کی آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول تک ہر حال میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ دریں اثنائ  صدر آزاد کشمیر نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں فلسطینی شہریوں پر حملے کے خلاف احتجاج کرنے والے پچاس سے زیادہ نوجوانوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بھارتی حکومت کی بد ترین فسطائیت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا دعویدار بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی، حق خود ارادیت اور انسانی حقوق کے لیے بلند ہونے والی ہر آواز کو طاقت سے دبانا چاہتا ہے جس سے اسکی نام نہاد جمہوریت پسندی دنیا کے سامنے بری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔ انہوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پر امن مظاہرہ کرنے والے تمام نوجوانوں کو فی الفور رہا کیا جائے اور ان کے خلاف قائم کیے گئے جھوٹے مقدمات واپس لیے جائیں۔