کورونا کے وار تیز، ملک میں مزید131 جاں بحق،4207نئے کیسز رپورٹ

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

پاکستان میں عالمی وباء کوروناوائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں، گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران کوروناوائرس کے مزید 131مریض انتقال کر گئے جس کے بعد ملک میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی کل تعداد 19987تک پہنچ گئی جبکہ گذشتہ24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کوروناوائرس کے4207نئے کیسز رپورٹ ہوئے ۔ ملک میں کوروناوئرس کے کیسز کے مثبت آنے کی شرح8.22تک پہنچ گئی ۔اب تک جن افراد کو کوروناوائرس ایکسین کی ایک خوراک لگائی گئی ہے ان کی تعداد 24لاکھ91ہزار40تک پہنچ گئی ہے جبکہ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران ایک لاکھ74ہزار 680افراد کو کوروناوائرس ویکسین کی پہلی خوراک لگائی گئی۔ اب تک 11لاکھ56ہزار393افراد کو کوروناوائرس کی مکمل ویکسین لگائی جاچکی ہے جبکہ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران 37306افراد کو کوروناوائرس کی مکمل ویکیسن لگا دی گئی۔اب تک کوروناوائرس ویکسین کل 47لاکھ47ہزار33خورواکیں لگائی جاچکی ہیں جبکہ گذشتہ24گھنٹوں کے دوران دو لاکھ 11ہزار986خوراکیں لگائی گئیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی اوسی)کی جانب سے جمعرات کے  روز ملک میں کوروناوائرس کے حوالے سے جاری تازہ ترین اعدادوشمارکے مطابق پاکستان اب تک کورکوناوائرس کے کل رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 8لاکھ90ہزار391 تک پہنچ گئی ۔ اب تک ملک بھر میں کوروناوائرس کے8 لاکھ4ہزار122مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ ملک میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد66282تک پہنچ گئی ۔ اس وقت ملک میں کوروناوائرس تشویشناک حالت میں موجود مریضوں کی تعداد4517 تک پہنچ گئی۔ صوبہ پنجاب  ملک بھر میں کوروناوائرس کے کل رپورٹ ہونے والے کیسز، فعال کیسز، صحت یاب ہونے والے مریضوں  اور کوروناوائرس سے ہونے والی اموات کے اعتبار سے پہلے نمبر پر آگیا جبکہ صوبہ سندھ دوسرے نمبر پر ہے۔این سی اوسی کے مطابق پاکستان میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی شرح2.2فیصد جبکہ صحت یاب ہونے والے مریضوں کی شرح90.3   فیصد تک پہنچ چکی ہے۔گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کوروناوائرس کے4171مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو کر گھروں کو چلے گئے۔ این سی اوسی کے مطابق کوروناوائرس کے فعال کیسز کے اعتبار سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ملک بھر میں تیسرے نمبر پر آگیا ہے۔ اس وقت اسلام آبادکوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد8050تک پہنچ گئی۔خیبر پختونخوا میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد7002تک پہنچ گئی ۔صوبہ پنجاب میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد28181تک پہنچ گئی،صوبہ سندھ میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد 20189تک پہنچ گئی، صوبہ بلوچستان 1079،آزاد جموں وکشمیر1717جبکہ گلگت بلتستان میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد64رہ گئی ہے جو ملک بھر میں سب سے کم ہے۔ این سی اوسی کے مطابق اب تک صوبہ سندھ میں کوروناوائرس کے دو لاکھ78ہزار280 مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں، صوبہ پنجاب2 لاکھ93ہزار281،خیبر پختونخوا 117176،اسلام آباد70999،بلوچستان22874،آزاد جموں وکشمیر16231جبکہ گلگت بلتستان میں کوروناوائرس کے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد5281تک پہنچ گئی ہے۔ این سی اوسی کے مطابق اسلام آباد میں کورونا وائرس کے کل رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد79789 تک پہنچ گئی ہے،خیبر پختونخوا میں128033، سندھ میں3 لاکھ3ہزار323،پنجاب میں3 لاکھ31 ہزار102، بلوچستان میں24223، آزاد جموں و کشمیر میں 18469 اور گلگت بلتستان میں5452فرادکورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات صوبہ پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں9640افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں4854، خیبر پختونخوا میں3855، اسلام آباد میں740، گلگت بلتستان میں 107، بلوچستان میں270اور آزاد جموں و کشمیر میں521فراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔آزاد جموںوکشمیر میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی شرح تین فیصد، اسلام آباد ایک فیصد، گلگت بلتستان دو فیصد، بلوچستان ایک فیصد، خیبر پختونخوا تین فیصد، سندھ دو فیصد اور پنجاب میں تین فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔اب تک ملک بھر میں کوروناوائرس کے ایک کروڑ26لاکھ3 ہزار469ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں جبکہ گزشذہ24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کوروناوائرس کے51130نئے ٹیسٹ کئے گئے ۔کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں۔لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، بہاولپور، منڈی بہاالدین، ملتان، اوکاڑہ، رحیم یار خان، راولپنڈی، گجرات، شیخوپورہ، سرگودھا، سیالکوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ متاثر، مظفر آباد، میر پور، کوٹلی، پشاور، سوات، نوشہرہ ، دیر لوئر، مالاکنڈ، صوابی، چارسدہ اور ہری پور ہائی رسک اضلاع میں شامل ہیں۔پاکستان میں کورونا کی ویکسینیشن جاری ہے اور دوسرے مرحلے میں 60 سال سے بڑی عمر کے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ملک بھر میں ایڈلٹ ویکسینیشن مراکز قائم کیے جا چکے ہیں ۔