جانی نقصان میں 46 فیصد اضافہ ہوا سندھ اور گلگت بلتسان کے علاوہ ہر ریجن میں دہشت گردی بڑھی

سکیورٹی فورسز نے 188 دہشت گرد ہلاک 220 گرفتار کیے۔ پکس کے سالانہ اعداوشمار جاری

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس ) نے اعداوشمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں چھ سال تک دہشت گردی کے واقعات میں تسلسل سے کمی کے بعد 2021 میں ایک بار پھر جنگجو حملوں کی تعداد میں  اضافہ 2020 کے مقابلے میں 56 فیصد زیادہ حملے ہوئے ، دہشت گردی کے واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد میں 46 فیصد جبکہ سکیورٹی فورسز کے جانی نقصان میں 66 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ، بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا  سکیورٹی فورسز نے 188 جنگجو ہلاک  220گرفتار کر لیے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں قائم آزاد تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (PICSS ) نے 2021 کے مجموعی اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ختم ہونے والے ایک سال میں 2020 کے مقابلے میں دہشت گردی کے واقعات میں 56 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی طور پر 2021 میں ملک بھر میں 294 جنگجو حملے ہوئے جن میں 388 افراد مارے گئے جن میں 184 عام شہری اور 192   سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں جبکہ 606 افراد زخمی ہوئے جن میں 389 عام شہری اور 217 سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے  ملک بھر میں گذشتہ ایک سال کے دوران کم از کم 188 مشتبہ دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا جبکہ 220 کو گرفتار کیا۔ یاد رہے کہ 2020 میں 188 جنگجو حملے ریکارڈ کیے گئے تھے جن میں 266 افراد مارے گئے تھے جبکہ 595 زخمی ہوئے تھے۔ دونوں برسوں کا تقابلی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ 2020 کے مقابلے میں 2021 میں  جنگجو حملوں میں 56 فیصد  مجموعی جانی نقصان میں 46 فیصد جبکہ سکیورٹی فورسز کے جانی نقصان میں 66 فیصد اضافہ ہوا۔ 2021 میں ہونے والے جنگجو حملوں کی تعداد 2017  کے بعد کسی بھی سال میں سب سے زیادہ جبکہ جانی نقصان 2018 کے بعد کسی بھی سال میں سب سے زیادہ رہا ۔ پاکستان میں جنگجو حملوں میں اضافہ اتفاق سے عین انہی دنوں شروع ہوا جب مئی میں افغانستان میں طالبان نے اشرف غنی کی حکومت کے خلاف حملوں میں شدت لائی تھی اور علاقے فتح کرنے شروع کیے تھے اور جب اگست 2021 میں افغانستا ن میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو اس ماہ پاکستان میں  سال کے کسی ایک ماہ میں سب سے زیادہ حملے ریکارڈ کیے گئے جن کی تعداد 45 تھی۔ 10 نومبر سے 10 دسمبر تک تحریک طالبان پاکستان کی ایک ماہ کی جنگ بندی کے باوجود نومبر اور دسمبر میں جنگجو حملوں کی تعداد میں کمی واقع نہیں ہوئی ۔ پاکستان میں سال 2020 میں دہشت گرد حملوں کی ماہانہ اوسط 16 تھی جو 2021 میں بڑھ کر 25 ہوگئی جو کہ 2017 کے بعد کسی بھی سال میں ماہانہ سب سے زیادہ اوسط ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے ڈیٹا بیس کے مطابق سال 2021 میں بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا جہاں103 جنگجو حملوں میں   170 افراد مارے گئے  جبکہ 331 زخمی ہوئے جو کسی بھی صوبے میں سب سے  زیادہ جانی نقصان رہا ۔خیبر پختونخواہ کے قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا)میں بھی 103 جنگجو حملے ریکارڈ کئے گئے تاہم یہاں مرنے والے افراد کی تعداد 117 جبکہ زخمیوں کی تعداد 103 رہی۔ تیسرا سب سے زیادہ متاثر ہ ریجن صوبہ خیبر پختونخوا(قبائلی اضلاع کے علاوہ)رہا جہاں  56 جنگجو حملوں میں 63 افراد مارے گئے اور 59 زخمی ہوئے۔ سندھ میں 15 جنگجو حملوں میں 23 افراد مارے گئے اور 29 زخمی  ہوئے۔ پنجاب میں 10 جنگجو حملوں میں دس افراد مارے گئے جبکہ 87 زخمی ہوئے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں تین جنگجو حملوں میں تین افراد مارے گئے جبکہ آزاد کشمیر میں ہوئے واحد جنگجو حملے میں ایک فرد کی جان گئی۔  PICSS کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ 2021 میں سندھ اور گلگت بلتستان کے علاوہ ملک کی تقریبا تمام اکائیوں میں جنگجو حملوں میں اضافہ ہوا۔ بلوچستان میں جنگجو حملو ں کی تعداد  میں 110 فیصد خیبر پختونخوا(قبائلی اضلاع کے علاوہ)میں 111 فیصد جبکہ سابقہ فاٹا (خیبر پختونخواکے قبائلی اضلاع)میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں 27 فیصد اضافہ دیکھنے  میں آیا۔ ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے رجحان پر قابو پانے کے لیے پاکستانی قومی سلامتی کے اداروں نے بھی اپنی سرگرمیوں میں واضح اضافہ کیا۔ 2021 کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 40 فیصد اضافہ دیکھنے   میں آیا۔ مجموعی طور پر سکیورٹی فورسز کی   205 کارروائیاں رپورٹ ہوئیں جن میں کم از کم 188  جنگجو ہلاک  جبکہ 220 گرفتار ہوئے۔ سکیورٹی فورسز کی سب سے زیادہ کارروائیاں سندھ میں نوٹ کی گئیں جہاں 57 کارروائیوں میں مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار اور پانچ کو ہلاک کیا گیا۔ خیبر پختونخواہ کے  قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا)میں 48 کارروائیوں میں 72 مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ 13 کو گرفتار کیا گیا۔ خیبر پختونخوا(قبائلی اضلاع کے علاوہ)میں 38 کارروائیوں میں  21  جنگجوو ں کو ہلاک اور 43 کو گرفتار کیا گیا۔ سندھ کے بعد سکیورٹی فورسز نے سب سے زیادہ مشتبہ جنگجو پنجاب سے گرفتار کیے جہاں 32 کارروائیوں میں 56 مشتبہ جنگجووں کو گرفتار اور سات کو ہلاک کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں سب سے زیادہ  جنگجوئوں کی ہلاکتیں بلوچستان میں ہوئیں جہاں 29 کارروائیوں میں 83   جنگجو ہلاک اور 13 گرفتار ہوئے۔