کیف (ویب نیوز)

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے دعوی کیا ہے کہ یوکرین اور روس کے مابین جاری جنگ میں اب تک 23 ہزار روسی فوجی مارے جا چکے ہیں۔ جرمن ٹی وی کے مطابق انہوں نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں اس بات کا دعوی کیا کہ روسی افواج کو اس جانی نقصان کے علاوہ ہزاروں ٹینکوں اور 25 ہزار دیگر جنگی گاڑیوں کی تباہی بھی برداشت کرنا پڑی ہے۔روسی فوجیوں کی ہلاکتوں کے بارے میں کوئی مصدقہ تعداد سامنے نہیں آئی ہے۔ تاہم روس کی جانب سے یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ 24 فروری سے جاری اس جنگ میں ایک ہزار روسی فوجی مارے گئے ہیں۔ روسی حکام نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ اسی دوران یوکرین کے 23 ہزار سے زائد جنگجو مارے گئے۔ روسی وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کی فورسز کی طرف سے یوکرین کے 2600 سے زائد ٹینک اور 112 ہیلی کاپٹرز ناکارہ بنا دیے گیے ہیں۔روس اور یوکرین کی طرف سے اس وقت یہ جنگ بڑے پیمانے پر مشرقی علاقوں لوہانسک اور ڈونیٹسک میں لڑی جا رہی ہے۔ ان علاقوں کو اجتماعی طور پر ڈونباس ریجن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ علاقے زیادہ تر روس نواز علیحدگی پسندوں کے زیر کنٹرول ہیں۔ قوی خیال یہ ہے کہ روس اپنے جنگی وسیع تر منصوبے میں ناکام ہونے کے بعد اب اپنی طاقت یوکرین کے جنوب اور مشرق کے حصوں پر مرکوز کر رہا ہے۔یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اپنے ویڈیو خطاب میں مزید کہا ہے کہ ماسکو یوکرین کے مشرقی حصے پر حملہ آور ہونے کی غرض سے مزید فوجی یوکرین بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ”روس نے ڈونباس میں دبا بڑھانے کی کوشش کی خاطر خرکیف کے علاقے میں مزید فوج بھیجی ہے۔انہوں نے روسی فوج سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ”ہر روسی فوجی اب بھی اپنی جان بچا سکتا ہے۔ آپ ہماری سرزمین پر مرنے سے بہتر ہے کہ روس میں رہ کر  زندہ رہیں۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین روس کے خلاف پابندیوں کو مضبوط بنانے کے لیے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس سے تیل کی درآمد پر پابندیوں کا فیصلہ ‘مستقبل قریب میں متوقع ہے۔