امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر سخت موقف اختیار کیا اور کہا کہ امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے، کسی بھی وقت ضرورت پڑنے پر اسے اپنے قبضے میں لیا جاسکتا ہے۔ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے، شیریل ایٹکسن کو انٹرویو میں گفتگو  

صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کیلئے امریکی منصوبے پر ایران کا جواب مسترد کردیا
facebook sharing button

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا میں نے ابھی ایران کے نام نہاد نمائندوں کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہے، مجھے یہ بالکل پسند نہیں آیا، یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔ یاد رہے کہ ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کا جواب ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کے ذریعے پہنچایا گیا۔

دوسری جانب شیریل ایٹکسن کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر سخت موقف اختیار کیا اور کہا کہ امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے، کسی بھی وقت ضرورت پڑنے پر اسے اپنے قبضے میں لیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کا ذخیرہ جب چاہیں چھین سکتے ہیں، کوئی افزودہ یورینیم کے پاس بھی گیا تو ہمیں پتہ چل جائے گا اور ہم اسے نشانہ بنائیں گے ۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ہے، تاہم ایران کے خلاف عسکری کارروائیاں ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں ، ایرانی قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم کر دی گئی ہیں، جبکہ سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے۔

امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے، ایران معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں، امریکا یہ مشرق وسطی میں موجود اتحادیوں کے لیے کر رہا ہے۔

غیر معقول امریکی مطالبات قبول نہیں، ضرورت پڑنے پر بھرپور جواب دینگے: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
whatsapp sharing button

انہوں نے کہا ہے کہ امریکا غیر معقول مطالبات جاری رکھے ہوئے ہے، ایران نے امریکی صدر کی تجویز پر اپنا جواب گزشتہ روز پاکستان کے ذریعے بھجوا دیا تھا، امریکی تجویز پر ایرانی جواب متوازن ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پیشہ ورانہ انداز میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، تاہم خطے کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے امریکی تجاویز کا جواب دیا، چین کو آگاہ کر دیا کہ امریکی اقدامات سے عدم استحکام پیدا ہو گا، امریکی اقدامات سے خطے میں سلامتی سے متعلق مسائل پیدا ہوں گے۔

اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران نے امریکا کو منصفانہ اور ذمہ دارانہ پیشکش کی ہے، ایران نے جنگ کے خاتمے، پابندیوں کے خاتمے اور سمندری راستوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کو غیر قانونی طور پر امریکی دباؤ کے باعث منجمد کیا گیا ہے، تاہم ایرانی منجمد اثاثوں سے پابندیاں ہٹانا بھی مطالبات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ یورپی ممالک آبنائے ہرمز میں مداخلت سے گریز کریں، تاہم یورپی ممالک امریکا اور اسرائیل کے دباؤ کا شکار نہ ہوں، جنگ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر قانونی بھی ہے۔

اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز یا خلیج فارس میں کسی بھی مداخلت سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں یورپی مداخلت سے توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔

قبل ازیں غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی حکام نے کہا کہ اگر امریکی صدر ہمارے جواب سے مطمئن نہیں تو یہی بہتر ہے، ٹرمپ کا جواب ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، انہوں نے مذاکراتی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ مذاکرات کے دوران اپنی قوم کی بہتری کیلئے تجاویز دیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا تھا کہ میں نے ایران کے نام نہاد نمائندوں کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہے، مجھے یہ بالکل پسند نہیں آیا، یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔

 

وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو ملاقات کا پیغام بھجوادیا، وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کو وزیراعظم آفس یا ہاؤس میں ملاقات کی دعوت دی۔ اپوزیشن کی معزرت

سپر  (وزیراعظم  اپوزیشن رابطے )  غیر جانبدار مقام پر ملاقات کی تجویز

 محمود خان اچکزئی نے وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کی رہائشگاہ پر ملاقات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے مابین پیغام رسانی گزشتہ ہفتہ ہوئی، ملاقات میں سیاسی صورتحال سمیت چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تقرری پر بھی گفتگو ہوگی۔

حکومت اور اپوزیشن میں رابطے، وزیراعظم کی محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کی دعوت

اسلام آباد: (خصوصی  رپورٹر ) حکومت نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے دی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو ملاقات کا پیغام بھجوادیا، وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کو وزیراعظم آفس یا ہاؤس میں ملاقات کی دعوت دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم آفس یا ہاؤس میں ملاقات سے معذرت کرلی، تاہم اپوزیشن لیڈر نےغیر جانبدار مقام پر ملاقات کی تجویز دے دی۔
ابتدائی طور پر محمود خان اچکزئی نے وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کی رہائشگاہ پر ملاقات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے مابین پیغام رسانی گزشتہ ہفتہ ہوئی، ملاقات میں سیاسی صورتحال سمیت چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تقرری پر بھی گفتگو ہوگی۔