ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کا قانونی طور پر قبضہ حاصل کر لیا: محسن نقوی

ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کا قانونی طور پر قبضہ حاصل کر لیا: محسن نقوی

اُنہوں نے کہا کہ وہ کافی عرصے سے جے آئی ٹی رپورٹ کے منتظر تھے، آج کابینہ نے رپورٹ کی منظوری دے دی ہے، جس میں تمام تفصیلات درج ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر بے دردی سے سرکاری زمینوں پر قبضے کیے گئے، بعض علاقوں میں لوگوں نے گھروں کے لان تک پر قبضے کر رکھے ہیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کا قانونی طور پر قبضہ حاصل کر لیا گیا ہے، سی ڈی اے کا ممبر آج سے اس عمارت کے معاملات دیکھے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ عمارت کی مالیت کا تعین ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے کرایا جائے گا، جن افراد نے اس منصوبے میں رقم جمع کرائی ہے، انہیں ان کی ادا کردہ رقم واپس ملے گی، انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری اراضی واگزار کرانے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی، ای 12، سی 14 اور سی 15 کی زمین بھی جلد واگزار کرائی جائے گی، سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے والوں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ تجاوزات اور قبضوں کے خلاف آپریشن کے دوران مختلف مقامات سے دباؤ آتا ہے، تاہم قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی، ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے معاملے پر وزیراعظم کا مکمل تعاون حاصل رہا ہے۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمان سے متعلق سوال پر محسن نقوی نے کہا کہ اس حوالے سے سی ڈی اے سے سوال کرنا زیادہ بہتر ہوگا۔

ون کانسٹیٹیوشن منصوبے کے متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جائے گا: احسن اقبال

ون کانسٹیٹیوشن منصوبے کے متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جائے گا: احسن اقبال

انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں منصوبے کا نام تبدیل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے کیوں کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا نام بھی مبینہ طور پر جعل سازی کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ  ون کانسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے میں تمام قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا، بے ضابطگیوں کے معاملے میں سی ڈی اے نے بھی کوتاہی برتی۔

احسن اقبال نے کہا کہ منصوبے سے متعلق تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے، کانسٹیٹیوشن ایونیو پر پہلی عمارت وزارت خارجہ کی ہے، جبکہ ون کانسٹیٹیوشن منصوبے کے متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جائے گا۔

اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ سہولت کاری کے باعث لوگوں کو لوٹا گیا، نیب کوریفرنس لانے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا گیا ہے، جو لوگ لوٹے گئے اُن کا کوئی قصورنہیں۔

مزید برآں وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے نیب کو سفارشات بھجوانے کی سفارش کی ہے، نیب میرٹ پر تحقیقات کرے گی۔