
سفیر پاکستان کے مطابق وزیراعظم اس دورے کو ایک تاریخی موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور وہ روسی صدر سے ملاقات کے خواہاں ہیں، وزیراعظم شہباز شریف روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو ایک بااثر عالمی رہنما اور مدبر شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں اور ان سے ملاقات کے لیے پُرجوش ہیں۔
فیصل نیاز ترمذی نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے روس سے درخواست کی ہے کہ وہ اسرائیل پر اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان سفارتی چینلز ہمیشہ فعال رہے ہیں اور انہی کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا کہ ایران کے ساتھ جنگ اسرائیل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
سفیرِ پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا اور عالمی سطح پر سفارتی کوششوں میں بھرپور حصہ لیتا رہے گا۔





