کووڈ19-کے بحران …. حکومتیں لازماً بیلنس شیٹ طریقہ اپنائیں

لاہور،(سٹاف رپورٹ) کووِڈ-19

(COVID-19)کی وبا کے دوران سرکاری اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہو اہے اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف)کے ایک تخمینے کے مطابق یہ رقم 9 کھرب امریکی ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس
(اے سی سی اے)، عالمی بینک اور بین الاقوامی فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس(آئی ایف اے سی) کے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ سرکاری شعبے کی مالی
ذمہ داریاں اور دست اندازیاں حکومتوں کے محاسبہ کرنے کے طریقہ کار کی وجہ سے درست طور پر گرفت میں نہیں آ رہی ہیں۔
حال ہی میں ”کووِڈ19-کے دوران مستحکم سرکاری مالیات (Sustainable Public Finances through COVID-19)“کے نام سے شائع ہونے والی رپورٹ میں تینوں اداروں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ وبا کے دوران اپنے مالی معاملات کی صحیح دیکھ بھال کے لیے پبلک سیکٹر بیلنس شیٹ کا طریقہ استعمال کریں اور سرکاری شعبے کی خالص مالیت (worth net) پر توجہ دیں۔
اس بارے میں رپورٹ کے مصنف اور اے سی سی اے میں ہیڈ آف پبلک سیکٹر پالیسی، ایلیکس میٹ کاف(Alex Metcalfe) نے کہا:’عالمی وبا سے پیدا ہونے والا یہ بحران حکومتوں کے لیے یہ انداز فکر کو اپنانے کی غرض سے ایک تحریک ہے جس کے ذریعہ نہ صرف فیصلہ سازی کو بہتربنایا جا سکتا ہے بلکہ نئے مالی اہداف کے لیے ایک بینچ مار ک کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور زیادہ خوشحال اور شمولیتی معیشتوں کی تعمیر کے لیے حکومتوں کو مدد فراہم کر سکتا ہے۔‘
بیلنس شیٹ کا انداز فکر اپنانے سے حکومتوں کو جن انداز میں فائدہ پہنچ سکتا ہے اْن میں سرکاری مالیات کی حقیقی صورت حال کے بارے میں زیادہ وضاحت کے ساتھ مزید سرکاری کارروائی کے لیے زیادہ مالی گنجائش کے بارے میں سمجھداری؛رقم کے لیے زیادہ بہتر قدر اور مالی طور پر مستحکم فیصلہ سازی؛ اورعوامی لچک میں اضافہ کے لیے اہم مالی میٹرکس کا بہتر انتخاب تاکہ کارکردگی کا انتظام آگے بڑھایا جا سکے، شامل ہیں۔
رپورٹ اس بات کی بھی تصدیق کرتی ہے کہ حکومتوں کو غیر ضروری نجکاری سے بھی بچنا چاہیے جو نقدی کی فوری ضرورت تو پورا کر دیتی ہیں لیکن سرکاری شعبے کی خالص مالیت کم ہو جاتی ہے۔ حکومتوں ٹیکسوں میں اضافے یا سادگی پر بھی بھروسے کو کم کرنے کے لیے مستحکم سرکاری مالیات کو فروغ دینا چاہیے۔
اس بارے میں عالمی بینک گروپ کے ڈائریکٹرگورننس گلوبل پریکٹس،ایڈ اولوو-اوکیرے(Ed Olwo-Okere)کہتے ہیں:”وبا کا تقاضا ہے کہ حکومتیں جہاں، ایک جانب، معیاری مالی نظم و ضبط اور کنٹرول کے درمیان توازن قائم کریں وہیں، دوسری جانب، عوامی مالی دیکھ بھال میں تیزی اور لچک پیدا کریں۔ از سر نو بہتر تعمیر کے لیے، خزانے کی وزارتوں کو مختلف ٹولز کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کی بہتری اور بقا کے لیے سرکاری رقم کا بہت نظم و نسق کر سکیں۔“
بین الاقوامی فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس(آئی ایف اے سی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایلٹا پرنسلْو(Prinsloo Alta) نے کہا:”یہ ایک بہتر عالمی طریقہ ہے۔کوئی بھی حکومت تن تنہاایسا نہیں کر سکتی – وبا کی عالمی نوعیت نے یہ واضح کر دیا ہے۔ بہترین عالمی طریقوں کی جانب اِس مہم کا حصہ یہ بات یقینی بنانا ہے کہ، ایک پیشے کے طور پر، ہم اپنے دوستوں اور پالیسی سازوں کے ساتھ سرکاری شعبے کے لیے مستقبل میں مالی رپورٹنگ کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں۔ پیشہ ور اکاؤنٹنٹس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مالیات میں مہارت نہ رکھنے والے فیصلہ سازوں کے سامنے، مالی صورت حال پیش کرتے وقت ایک واضح قابل اعتماد نکتہ نظر پیش کریں۔“
دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس(اے سی سی اے) پاکستان کے ہیڈ، سجید اسلم کی رائے میں:”موجود بحران کی سنجیدگی کامطلب ہے کہ سرکاری شعبے میں غیر معیاری اکاؤنٹنگ ڈیٹا کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے۔وقت آ گیا ہے کہ ہم موجودہ اقتصادی فریم ورک کو دوبارہ ترتیب دیں اور ایسے مالی اصولوں پر غور کریں جو بحالی کے مرحلے میں سرکاری فیصلہ سازوں کی راہنمائی کر سکیں۔سرکاری اثاثوں اور خدمات کی نجکاری پر نہایت محتاط غور و فکرکی ضرورت ہے تاکہ وہ رقم کے لیے قدر کی فراہم کر سکیں اور حکومت کے مالی استحکام میں اضافہ کر سکیں۔ اور ہمیں مہارتوں کے حصول اور تربیت پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ اقتصادی ترقی کا باعث بننے والے عناصر میں اہم کردار ادا کر سکیں۔“
رپورٹ میں حکومتوں کے لیے درج ذیل سفارشات کی گئی ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیشنل پبلک سیکٹر اکاؤنٹنگ اسٹینڈرڈز(آئی پی ایس اے ایس) کو پوری طرح اختیار کریں یا اْس کا حوالہ دیں جو سرکاری شعبے میں عمومی مقاصد کے لیے مالی رپورٹس کی تیاری کے لیے اکاؤنٹنگ کے عالمی سطح پر قبول کردہ معیارات ہیں۔اسی کے ساتھ مالی پالیسی بنانے والے آزاداداروں کو ہدایات دینے کی بھی ضرورت ہے کہ وہ مستحکم مالی رپورٹنگ شروع کریں یا اس کی فریکوئنسی میں اضافہ کریں۔ وفاقی سرکاری محکموں کے لیے یہ بات ضروری قرار دی جائے کہ وہ مناسب انداز میں ان رپورٹوں کا عوامی سطح پر جواب دیں۔ علاوہ ازیں،آڈٹ کے اعلیٰ اداروں کو آزادی اور ضروری وسائل مہیا کیے جائیں تاکہ وہ پرفارمنس آڈٹ انجام دے سکیں اور ایسے معاملات کی نشاندہی ہو سکے جہاں COVID-19 کے بحران سے نمٹنے کے لیے سرکاری رقم مؤثر، عمدہ یا باکفایت انداز میں استعمال نہیں کی گئی۔
مالیات سے تعلق رکھنے والوں کے لیے عالمی بینک، آئی ایف اے سی اور اے سی سی اے سفارش کرتے ہیں کہ COVID-19 سے نمٹنے کے لیے وسائل کی نئی سمت معاشرتی بہتری اور استحکام کے میٹرکس پر اثر انداز ہوتی ہے۔وقتاً فوقتاً مالی دباؤکا ٹیسٹ کریں جس میں سرکاری بیلنس شیٹ پر منفی منظر نامے کے اثرات کی پیشگوئی کی گئی ہو۔ اِس میں کوروناوارئرس کی دوسری لہر یا توسیع شدہ اقتصادی زوال کے اثراتبھی شامل ہوں۔

Editor

Next Post

وزیراعظم کا معاون خصوصی دوہری شہریت پر نااہل نہیں ہو سکتا: اسلام آباد ہائیکورٹ

جمعرات جولائی 30 , 2020
وزیراعظم کا معاون خصوصی دوہری شہریت پر نااہل نہیں ہو سکتا: اسلام آباد ہائیکورٹ کافیصلہ دوہری شہریت والا شخص بھی پاکستانی ہے، اس کے محب وطن ہونے پر شک نہیں کیا جا سکتا معاونین خصوصی کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست مسترد اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم […]