کراچی (ویب ڈیسک)

پاکستان ٹیلی کمیونیکشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے رضاکار پروگرام کے تحت  ویب نارـفارـاےـکاز سیریزاختتام پذیر ہوگئی۔معاشی لحاظ اور مختلف پس منظر کے حامل طبقات سے تعلق رکھنے والے  160 سے زائدنوجوان گریجوایٹس نے ویب نار میں آن لائن شرکت کی۔ان سلسلوں میں سماعت اور قوت گویائی سے محروم طلبہ کیلئے ان کی مہارتوں اور استعدار کار میں اضافہ کیلئے دو خصوصی ویب نار بھی شامل تھے۔کمائی (Kamayi)،  ڈیف ٹاک(DeafTawk)   اور وائی ناٹ(Whynot)   جیسے ملازمتیں فراہم کرنے والے ابھرتے ہوئے مختلف اداروں کے ساتھ اشتراک سے ویب نار کا مقصد نوجوانوں کے ذاتی اور پیشہ ورانہ نیٹ ورک میں اضافہ،  زبانی اور غیر زبانی مواصلات کی اہمیت اور کیریئر کی ترقی کیلئے ان کی صلاحیتوں اور مہارتوں کو نکھار کر صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان خلا کو پْر کرنا ہے۔اس اقدام پر گفتگو کرتے ہوئے سید مظہر حسین، گروپ چیف ہیومن ریسورس آفیسر، پی ٹی سی ایل اوریوفون نے کہا  ”ہمیں فخر ہے ہمارے رضاکاروں پر جو پاکستان بھر میں مختلف سی ایس آر اقدامات اٹھانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔  ویب نارـفارـاےـکاز سیریز یقیناً ایک بڑی کامیابی ہے جس سے نوجوانوں کو کارپوریٹ دنیا میں قدم رکھنے سے قبل علم حاصل کرنے اور ہمارے ملازمین کے عملی تجربات سے سیکھنے کا موقع ملا۔”موضوعات میں انٹرویو میں کامیابی کے طریقے، لنکڈان کے ذریعے پیشہ ورانہ ترقی،  نیٹ ورک میں اضافہ اورڈیجیٹل لرننگ بھی شامل ہیں۔مقررین نے حاضرین کے ساتھ اپنے قیمتی علم اور تجربات کا رضاکارانہ طور پر تبادلہ خیال کیا۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔