کوکا۔کولا نے اپنی 135 ویں سالگرہ پر 5 ارب روپے فلاحی کاموں کے لئے مختص کرنے کا اعلان کردیا

کوکا۔کولا نے اپنی 135 ویں سالگرہ پر 5 ارب روپے فلاحی کاموں کے لئے مختص کرنے کا اعلان کردیا

لاہور(ویب نیوز ) کوکا۔کولا نے اپنی 135 ویں سالگرہ منانے کے سلسلے میں عالمی سطح پر فلاحی اقدامات کے لئے 5 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں اولین ترجیح کمپنی کے کرونا سے متعلق اقدام (Covid-19 Stop the Spread) پر دی جائے گی تاکہ اس مہلک وبا کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔ اس حوالے سے قابل اعتماد مقامی غیرمنافع بخش اداروں کے ساتھ الحاق کرکے 3 ارب روپے تک کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی تاکہ وبا سے متاثرین کی امداد ہوسکے۔کمپنی کی کرونا سے متعلق امدادی سرگرمیاں پاکستان میں جاری ہیں جن میں وینٹی لیٹرز کی بروقت فراہمی سے لیکر فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو حفاظتی سامان مہیا کرنے تک کوکا کولا ہر سطح پر بیماری سے بچاؤ کیلئے کوشاں اور سرگرم عمل ہے۔

کرونا کی تیسری مہلک لہر کے پیش نظر کوکا۔کولا فاؤنڈیشن امدادی سرگرمیوں کے دائرہ کار کو بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔ اسکے علاوہ، اس رمضان میں کوکا۔کولا نے پاکستان کے غیر منافع بخش اور خدمت خلق کے ادارے رزق کے ساتھ شراکت داری کر کے ماہ مقدس کے دوران 13 شہروں میں 6 لاکھ تیار کھانے کے ڈبے تقسیم کئے ہیں۔ پاکستان میں کرونا کے دوران ساڑھے 13 کروڑ افراد بھوک کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں اور اب ہمیں اپنی مہم بعنوان "آؤ مل کر بھوک مٹائیں ” کے تحت بھوک کا مقابلہ کرنا ہے۔

135 ویں سالگرہ کا سال حقیقتاََ انوکھا سال ہے، جس میں کمپنی بہترین ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے اپنے کاموں اور مواصلات کا ایک مکمل نیٹ ورک تشکیل دے رہی ہے تا کہ مارکیٹ سے متعلق تحقیق پر مسلسل نظر رکھے اور ان غیر معمولی حالات میں فعال رہ کر معیشت میں اپنا حصہ ڈالتی رہے۔اس اقدام کی بدولت کمپنی کے نیٹ ورک میں 10 ہزار افراد کے لئے ملازمت کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

ملک میں کمپنی کی تابندہ تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے دی کوکا۔کولا ایکسپورٹ کارپوریشن کے وائس پریذیڈنٹ اور جنرل منیجر برائے پاکستان اور افغانستان ریجن، فہد اشرف نے کہا” ہم تقریباََ اتنے ہی پرانے ہیں جتنا پاکستان۔ ہم اُن چند ملٹی نیشنل کمپنیوں میں شامل ہیں جنہوں نے ابتدائی دنوں میں پاکستان کو اپنا گھر بنایا۔ ہماری کامیابی قوم کی کامیابی سے منسلک ہے اور ہم ان غیر یقینی حالات میں پاکستان کے لوگوں کو ترجیح دیئے بغیر سالگرہ نہیں منا سکتے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ہیلتھ ایمرجنسی کی طرح فوڈ ایمرجنسی بھی ہو۔”

کمپنی کا کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے اسٹاپ دی اسپریڈ نامی اقدام (Covid-19 Stop the Spread) ایک پائیدا ر کوشش کا حصہ ہے جو خواتین کو بااختیار بنانے، صاف پانی کی فراہمی اور دنیا کو کچرے سے محفوظ (World Without Waste)بنانے کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں 1 ارب سے زائد روپے سماجی ترقیاتی پروگرامز پر خرچ ہوئے، 3.2 ارب لیٹر پانی قدرت کے نظام میں واپس گیا، اور 10 ہزار سے زائد خواتین کو چھوٹے قرضوں اور ووکیشنل ٹریننگ کے ذریعے با اختیار بنایا گیا جبکہ پاکستان کے انتہائی پسماندہ علاقوں میں 10 لاکھ سے زائد گھرانوں کی ترقی پر کام کیا گیا۔