50 ہزار سے ایک لاکھ تنخواہ پر صرف ایک فیصد ٹیکس ہے، مسلم لیگ ن نے مشکل معاشی حالات میں اقتدار سنبھالا ، پی ٹی آئی دور میں مہنگائی 38 فیصد پر تھی،وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
لیڈ ( غربت میں اضافہ) معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے. اپوزیشن
غربت میں اضافہ معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے، حکومت کے مطابق کروڑوں لوگ غربت کی سطح سے نیچے جا چکے ہیں، معاشی ترقی کا اصل پیمانہ عوام کی زندگیوں میں بہتری ہے، کم آمدن والے طبقے کیلئے زندگی گزارنا مشکل ہو گیا۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر
بانی پی ٹی آئی سے جیل مینول کے مطابق ملاقاتیں بند ہیں، علاج نہیں ہو رہا، عدالتوں کے دروازے بند ہوں گے تو ایک ہی راستہ ہوتا ہے وہ سڑکوں پر ہے۔ اسد قیصر. پی ٹی آئی دور میں اپوزیشن کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا، ان کی فسطائیت اور جمہوریت کا چہرہ پوری قوم نے دیکھا، وفاقی وزیر احسن اقبال

اسد قیصر نے کہا کہ تحریک انصاف نے آزاد عدلیہ، قانون کی حکمرانی کی بات کی،انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ حکومت کا نہیں آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، ملک میں بے روزگاری ہے، اس الیکشن کمیشن کو ایک دن بھی نہیں رہنا چاہئے، ٹیکس چوری پر موثر اقدام ہونا چاہئے، بانی پی ٹی آئی سے جیل مینول کے مطابق ملاقاتیں بند ہیں، علاج نہیں ہو رہا، عدالتوں کے دروازے بند ہوں گے تو ایک ہی راستہ ہوتا ہے وہ سڑکوں پر ہے۔
پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ کریڈٹ کاردڑ ہولڈرز، فرسٹ کلاس سفر کرنے والوں کو ریلیف دیا گیا، 2050میں 390ملین ابادی ہو جائے گی، یہ سوشو اکنامک ڈیزاسٹر ہے، ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی اور پٹرول کی قیمتیں پورے خطے سے زیادہ ہیں، وزرا کو میڈل دیے جارہے ہیں، کیا 8000 روپے کمانے والا شخص گھر چلا سکتا ہے، خط غربت کی تعریف کا طریقہ کار تبدیل ہونا چاہئے، 8000 روپے والی خط غربت کی تعریف تبدیل ہونی چاہئے، نوجوان کی قیمت 32 روپے لگا دی ہے جبکہ اسلام آباد میں سموسہ چالیس روپے کا ملتا ہے۔ رکن اسمبلی جمال خان کاکڑ نے کہا کہ موجودہ حالات میں بہترین بجٹ ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں جو بڑی کامیابی ہے، بجٹ میں بلوچستان کے لیے زیادہ فنڈز مختص کیے جائیں، کوئٹہ میں پینے کے پانی کا مسئلہ ہے اسے فوری حل کیا جانا چاہئے۔
پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی حسین طارق نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں بی بی فریال تالپور کو گرفتار کیا گیا، پی ٹی آئی کے شکوے نہیں بنتے، ہر دفعہ ایف بی آر ٹارگٹ پورے نہیں کرتا، ٹیکس کلیکشن کا ٹارگٹ صوبوں کو دے دیا جائے، لگتا ہے ایف بی آر اب بھی ٹیکس کلیکشن ٹارگٹ پورا نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بے یارو مدد گار نہیں چھوڑ سکتے، بجٹ میں صرف اخراجات ہی اخراجات نظر آ رہے ہیں، نوجوان بے روزگار ہیں، لوگوں کو نوکریاں کیسے دیں گے؟وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ غربت میں اضافہ معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے، حکومت کے مطابق کروڑوں لوگ غربت کی سطح سے نیچے جا چکے ہیں، معاشی ترقی کا اصل پیمانہ عوام کی زندگیوں میں بہتری ہے، کم آمدن والے طبقے کیلئے زندگی گزارنا مشکل ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے ساتھ عوام کو سہولیات کی واپسی ضروری ہے، ریاستی خدمات کے بغیر ٹیکس نظام مؤثر نہیں ہو سکتا، عوام سے وصولی کے ساتھ سہولتیں دینا ہوں گی، حکومت اپنے اخراجات کم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ 50 ہزار سے ایک لاکھ تنخواہ پر صرف ایک فیصد ٹیکس ہے، مسلم لیگ ن نے مشکل معاشی حالات میں اقتدار سنبھالا ، پی ٹی آئی دور میں مہنگائی 38 فیصد پر تھی، ٓج سفارشاتی کلچر ختم کر دیا گیاہے،کوئی سفارش کرتا ہے تو معطل کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی کوششوں سے مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آئی، معاشی استحکام میں فیلڈ مارشل سمیت اداروں کا بھی کردار ہے، ماضی میں دوپہر،شام اور رات میں ڈالرکا ریٹ مختلف ہوتا تھا، مڈل کلاس کیلئے پراپرٹی خریدوفروخت پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔
اسد قیصر نے کہا کہ تحریک انصاف نے آزاد عدلیہ، قانون کی حکمرانی کی بات کی، آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا کہا گیا، کیا اپ نے وہ خط پڑھا، اس میں کوئی ایسا لفظ ہے جس میں پاکستان کے نقصان کی بات ہو، ہمارے وقت میں اکانومی کیا تھی اج کیا ہے، ٹیکس کلیکشن تب کیا تھی اور اج کیا حالات ہیں، اس پر بحث کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ حکومت کا نہیں آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، ملک میں بے روزگاری ہے، اس الیکشن کمیشن کو ایک دن بھی نہیں رہنا چاہئے، ٹیکس چوری پر موثر اقدام ہونا چاہئے، بانی پی ٹی آئی سے جیل مینول کے مطابق ملاقاتیں بند ہیں، علاج نہیں ہو رہا، عدالتوں کے دروازے بند ہوں گے تو ایک ہی راستہ ہوتا ہے وہ سڑکوں پر ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ 9ماہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل نہیں کیا گیا، یہ اب فسطائیت کی بات کرتے ہیں،ہم نے جیلیں دیکھیں، خواجہ آصف، شہباز شریف، نواز شریف، مریم نواز نے جیل دیکھی، حمزہ شہباز، سعد رفیق، رانا ثنا اللہ نے بھی جیل دیکھی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں اپوزیشن کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا، ان کی فسطائیت اور جمہوریت کا چہرہ پوری قوم نے دیکھا، ہم بجٹ پر تقریر کر رہے ہیں بات حقائق پر ہونی چاہئے، ایک وہ وقت تھا جب یہ آپ کی سیٹ پر بیٹھے ہوتے تھے، ہم ان کے پاس پروڈکشن آرڈر کے لئے جاتے تھے، پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوتے تھے۔ اس پر اسد قیصر نے کہا کہ میں نے آپ کا بھی پروڈکشن آرڈر جاری کیا ، خواجہ آصف کا بھی کیا، کسی سے ڈکٹیشن نہیں لی۔
عامر ڈوگر نے کہا کہ ہم مانتے ہیں ہر دور میں مداخلت ہوتی رہی ہے ، اب وقت آگیا ہم اپنی سپیس واپس لیں اور آگے بڑھیں، ہمارے دور میں کتنے پروڈکشن ارڈر جاری ہوئے اور اس دور میں کتنے پروڈکشن ارڈر جاری ہوئے، اس کی وضاحت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم کی حالیہ قیمتوں سے ایک غریب ادمی ذہنی مریض بن گیا ہے، 4365 ارب کی لیوی عوام کی جیبوں سے ڈاکا ڈال کر لیا گیا ہے، سیاسی استحکام سے معاشی استحکام اتا ہے پھر سرمایہ کاری اتی ہے، زراعت کو تباہی سے بچانے کے لیے حکومت سولر ٹیوب ویل لائے۔ عامر ڈوگر نے جنوبی پنجاب کے منصوبوں کے حوالے سے گلے شکوے کیے جس پر احسن اقبال نے جنوبی پنجاب کے منصوبے گنوا دیئے۔





