گورنر پنجاب سعودی سفیرنواف المالکی ملاقات.. تعلقات سمیت مختلف امور پر بات چیت

گور نر پنجاب سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات، دورہ سعودی عرب کی دعوت

ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سمیت مختلف امور پر بات چیت

 خادمین حرمین شریفین کا احترام ہر مسلمان پر لازم ہے، پاک سعودیہ دو طرفہ تعلقات گہرے اور تاریخی نوعیت کے ہیںـچوہدری محمد سرور

لاہور (ویب ڈیسک ) گور نر پنجاب چوہدری محمد سرور اور سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات جبکہ چوہدری محمدسرورنے سعودی سفیر نواف المالکی کی دورہ سعودی عرب کی دعوت قبول کر لی۔تفصیلات کے مطابق گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور اور سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سمیت مختلف امور پر بات چیت کی گئی ۔ گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے دونوں ممالک کے تعلقات کو چٹان سے مضبوط قرار دیدیتے ہوئے کہا کہ خادمین حرمین شریفین کا احترام ہر مسلمان پر لازم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاک سعودیہ دو طرفہ تعلقات گہرے اور تاریخی نوعیت کے ہیںاور دونوں ممالک کے عوام کے دل آج بھی ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔چوہدری محمدسرور نے کہا کہ دونوں ممالک کے مثالی تعلقات 22کروڑ پاکستانیوں کیلئے قابل فخر ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر چلتا ہے اورپاکستان کی تعمیرو ترقی میں سعودی حکومت کا تعاون لائق تحسین ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے کیونکہ پاکستان کے عوام سعودی عرب کے ساتھ دلی اور روحانی وابستگی رکھتے ہیں۔گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ سعودی عرب کی علاقائی سا  لمیت کے تحفظ کے لیے پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا دکھائی دے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیرا عظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کے سعودی عرب کیساتھ جتنے تعلقات آج مضبوط ہوئے ہیں ماضی میں انکی کوئی اور مثال نہیں ملتی ۔ اُنہوں نے کہا کہ انشاء اللہ دونوں ممالک ہر محاذ پر ایک دوسرے کیساتھ کھڑے ہوں گے۔سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے کہا کہ پاکستان کو پہلے کبھی تنہا نہیں چھوڑا ہے اورنہ ہی آئندہ چھوڑیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو اپنا گھر سمجھتے ہیںاور اسکی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔ سعودی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات دو بھائیوں جیسے ہیں۔

#/S

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.