”رینٹل مارچ“ اور ”عورت مارچ“ والے سینٹ میں”کوئیک مارچ“ ہوگئے: حافظ حسین احمد

رینٹل مارچ“ اور ”عورت مارچ“ والے سینٹ میں”کوئیک مارچ“ ہوگئے: حافظ حسین احمد

میاں نواز شریف اور آصف زرداری کی چپقلش کی وجہ سے اب پی ڈی ایم میں ”رواداری“ نہیں رہی

نام نہاد پی ڈی ایم کی بوسیدہ گدڑی چھلنی ہوتی جارہی ہے، پی ڈی ایم سربراہ کی رفوگری بھی کارگر ثابت نہیں ہورہی

جے یو آئی (ایف) نے مسلم لیگ ن کے اعظم تارڑ کو ووٹ نہ دیکر ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی شکست کا بدلہ لے لیا

یوسف رضا گیلانی کی یہ بات سچ ثابت ہوگئی کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے بارے میں ”نیوٹرل“ ہے

مولانا فضل الرحمن کی حالت اس وقت انتہائی قابل رحم ہے البتہ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں

موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم کے بجائے جمعیت علماء اسلام پاکستان میں آجائیں

 اسلام آباد(ویب نیوز  ) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف اور آصف زرداری کی چپقلش کی وجہ سے اب پی ڈی ایم میں ”رواداری“ نہیں رہی، 26مارچ کو نہ”رینٹل مارچ“ ہوسکا اور نہ نیب کے خلاف ”عورت مارچ“ البتہ سینٹ میں پی ڈی ایم ”کوئیک مارچ“ ہوگئی ہے۔وہ جمعہ کے روزکوئٹہ سے اسلام آباد پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ اس موقع پر مولانا احمد شیرانی، مولوی محمد رمضان، مولوی عبدالکریم، ظفر حسین بلوچ بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ نام نہاد پی ڈی ایم اتحاد کی بوسیدہ گدڑی کوشش کے باوجود چھلنی ہوتی جارہی ہے اس سلسلے میں پی ڈی ایم کے سربراہ کی رفوگری بھی کارگر ثابت نہیں ہورہی،انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ جے یو آئی (ایف) نے مسلم لیگ ن کے اعظم نذیر تارڑکو ووٹ نہ دیکر ایم ایم اے کی یاد تازہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیا یا سینٹ میں ڈپٹی چیئرمین کی شکست کا بدلہ مسلم لیگ ن سے لیا کیوں کہ سینٹ کی شکست کا بدلہ سینٹ میں ہی لیا جاسکتا ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کی یہ بات سچ ثابت ہوئی کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے بارے میں ”نیوٹرل“ہے، انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی حالت اس وقت انتہائی قابل رحم ہے البتہ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں کاش وہ اپنے مخلصین کے مشوروں پر عمل پیرا ہوتے اب بھی وقت ہے کہ مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم کے بجائے جمعیت علماء اسلام پاکستان میں آجائیں، حافظ حسین احمد نے کہا کہ اب عوام خصوصاً جے یو آئی (ایف) کے کارکنوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ جن خدشات کا اظہار پارٹی کے اجلاسوں میں گذشتہ ڈھائی سال سے جو بانی ارکان کرتے رہے ہیں نہ صرف ان کو نظر اندازکیااور اداروں کے فیصلوں سے انحراف کیا گیا بلکہ ان مخلص ترین شخصیات کو  اسٹیبلشمنٹ اور یہودی لابی کا ایجنٹ قرار دیکر ان کے لیے گڑھا کھودنے کی کوشش کی گئی اس کا انجام اب سب کے سامنے ہے۔