سپریم کورٹ کاسوئی ناردرن کے تمام زیرالتوا مقدمات کے فرانزک آڈٹ کا حکم

سیکرٹری توانائی کو دو ماہ میں آڈٹ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

سپریم کورٹ نے سوئی ناردرن کے تمام زیرالتوا مقدمات کے فرانزک آڈٹ کا حکم دیتے  ہوئے سیکرٹری توانائی کو دو ماہ میں آڈٹ رپورٹ پیش کرنے  کی ہدایت کی ہے ۔ چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس میں قراردیا ہے کہ مقدمات کی عدم پیروی سے قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان ہو رہا، سوئی ناردرن تو وکیلوں کی فیسیں دے دے کر ہی کنگال ہوجائے گی،عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ سوئی ناردرن کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات میں کوئی دلچسپی نہیں اور سوئی ناردرن کے وکلا عدالتوں میں پیش ہی نہیں ہوتے۔چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں  تین رکنی بینچ نے سوئی نادرن گیس ملازمین بحالی کے خلاف کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو عدالت نے فوری طور پر سیکرٹری توانائی کو  طلب کرلیا ، چیف جسٹس نے ایم ڈی سوئی نادرن کی لیگل ٹیم پراظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ کیوں نہ  لیگل ٹیم کا لائسنس منسوخ کردیں،سوئی گیس کمپنی کے تین وکیل ہیں لیکن عدالت میں پیش نہیں ہوتے، سب آپس پہلے سے ملے ہوئے ہیں، چیف جسٹس نے یم ڈی سوئی گیس علی ہمدانی سے مکالمہ کے دوران کہاکہ سوئی گیس کمپنی کی لیگل ٹیم بیکار ہے، اس پرایم ڈی سوئی گیس علی ہمدانی نے درخواست کی کہ عدالت مجھے کچھ کہنے کی اجازت دے،میری کچھ روز قبل کمپنی میں تعیناتی ہوئی ہے ،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے پانچ منٹ پہلے بھی جوائن کیا ہے تو آپ کی ذمہ داری بنتی ہے، عدالت میں پیش نہ ہونے سے نقصان تو ریاست کا ہوگا،ساری لیگل ٹیم فارغ کرنا ہے،عدالت نے سیکرٹری توانائی کو طلب کرتے ہوئے سماعت میں وقفہ کردیامختصر وقفہ کے بعد سماعت دوبارہ ہوئی ۔تو عدالت نے سوئی ناردرن گیس کے تمام زیرالتوا مقدمات کے فرانزک آڈٹ کا حکم دے دیا عدالت نے سیکرٹری توانائی کو دو ماہ میں آڈٹ رپورٹ پیش کرنے کا حکم  دیتے ہوئے قراردیا کہ سوئی ناردرن کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات میں کوئی دلچسپی نہیں، سوئی ناردرن کے وکلا عدالتوں میں پیش ہی نہیں ہوتے، عدالت نے قراردیا کہ ایم ڈی سوئی ناردرن عدالت آئے تو بالکل کورے تھے، ایم ڈی سوئی ناردرن نے عدالت آنے سے پہلے حقائق جاننے کی زحمت تک نہ کی،جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ عوام کا پیسہ بے احتیاطی سے ضائع کیا جا رہا ہے، سوئی ناردرن کی لیگل ٹیم میں پہلے ہی 12 افراد ہیں، لیگل ٹیم کے ہوتے ہوئے بھی 3 وکلا کو فیسیں دی جا رہی ہیں،چیف جسٹس گلزارااحمد نے کہاکہ سوئی ناردرن تو وکیلوں کی فیسیں دے دے کر ہی کنگال ہوجائے گی،مقدمات کی عدم پیروی سے کروڑوں کا نقصان ہو رہا،اس دوران سیکرٹری توانائی نے یقین دہانی کرائی کہ وہ تحقیقات کرکے عدالت کو رپورٹ پیش کرینگے، سوئی ناردرن کے بورڈ کو تحقیقات کی ہدایت کروں گا،، دریں اثنا عدالت نے برطرف میٹر ریڈر کی بحالی کے حوالے سے ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔ ہائی کورٹ نے میٹر ریڈر کو 1998 سے بحال کرکے تنخواہیں ادا کرنے کا حکم دیا تھا سوئی ناردرن کی اپیل پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیا اور کیس کی سماعت دو ماہ کیلئے ملتوی کردی۔