چھوٹا سا طبقہ ملک کے وسائل پر قبضہ کر کے بیٹھا ہے، وزیراعظم

کوئٹہ (ویب ڈیسک)

وزیراعظم نے کہا ہے کہ ملک میں ایک طبقہ امیر ہوگیا، ہمارے حکمرانوں نے لندن کے امیر ترین علاقوں میں جائیدادیں بنائیں، ان کے لندن میں ان علاقوں میں محلات ہیں جہاں برطانیہ کا وزیراعظم بھی جائیداد نہیں خرید سکتا، مائنڈ سیٹ ہی نہیں تھا کہ بلوچستان کو ترقی دینی ہے، پاکستان جب ترقی کرے گا جب نچلہ طبقہ اوپر آئے گا۔

شاہراہوں کی سنگ بنیاد کی تقریب سے وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بلوچستان میں منصوبوں کا آغاز کیا، بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر خوشی ہے، کامیابی اور عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ تعالیٰ اس کو عزت دیتا ہے جو اس کی مخلوق کیلئے کام کرتا ہے، لاہور میں ہسپتال بنانے پر لوگوں نے گنگا رام کی تعریف کی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پختونخوا میں حکومت سنبھالی تو صوبے کو دہشتگردی کا سامنا تھا، مخالفین کہتےتھے کدھر ہے نیا پاکستان، کہاں ہے نیا خیبرپختونخوا ؟ سیاسی دوست نے مشورہ دیا پنجاب پر توجہ دیں، خیبرپختونخوا میں جیت کا چانس نہیں، 2018 کے انتخابات میں خیبرپختونخوا سے دو تہائی اکثریت ملی، خیبرپختونخوا میں انسانوں پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی گئی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ تمام صوبوں کو ہیلتھ انشورنس دے رہے ہیں، ہیلتھ کارڈ کے ذریعے کسی بھی ہسپتال سے علاج کرایا جاسکتا ہے، جن صوبوں میں پی ٹی آئی حکومت ہے وہاں شہریوں کو صحت کارڈ دیں گے، بلوچستان میں بھی ہر خاندان کو صحت انصاف کارڈ دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں کسان کارڈ کیلئے رجسٹریشن شروع کر دی گئی ہے، کسانوں کو کسان کارڈ کے تحت براہ راست سبسڈی دیں گے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ریاست مدینہ کے سربراہ مہنگے محلات میں نہیں رہتے تھے، ریاست مدینہ میں سربراہ مہنگے کپڑے نہیں بناتے تھے، پیسہ عوام پر خرچ ہوتا تھا، پاکستان کا مغربی روٹ بھی ترقی میں پیچھے رہ گیا، پاکستان کے حکمرانوں نے ماضی میں مغربی روٹ کو نظرانداز کیا، چین نے پسماندہ علاقوں کو ترقی دی، چین نے 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا۔

قبل ازیں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا تھا کہ سابق حکومت سے زیادہ کام کر رہے ہیں لیکن چرچہ نہیں ہے، چرچہ نہ ہو تو لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید کام ہی نہیں ہو رہا، سی پیک کی بنیاد رکھی گئی اور اس کا افتتاح بھی ہوا، تحریک انصاف کی حکومت نے ماضی کی نسبت زیادہ کام کیے، صوبے میں ترقیاتی منصوبے معاشی بہتری لائیں گے، نصیرآباد سے کوئٹہ کو منسلک کرنے کیلئے جدید شاہراہ کی ضرورت ہے۔