منگل یا  بدھ تک کالعدم تنظیم کے خلاف کیسز واپس لیں گے .پیر کو صبح 10 بجے کالعدم تنظیم کے لوگ وزارت داخلہ میں آئیں گے.شیخ رشید احمد

کل کالعدم تنظیم کے نمائندوں سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے، سعد رضوی سے ون ٹو ون اور میٹنگ میں بات چیت ہوئی،

کالعدم ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدے پر میں نے اور نورالحق قادری نے دستخط کئے ہوئے ہیں اور اس وقت فرانس کا سفیر موجود نہیں ہے

مذہبی لوگوں سے ٹکرائو نہیں ہونا چاہیئے،ہم ناموس رسالتۖ کے بھی سپاہی ہیں اور ختم نبوتۖ کے بھی سپاہی ہیں،

راولپنڈی اسلام آباد کی انتظامیہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ کنٹینر سڑکوں سے ہٹا کر سائیڈ پر رکھ دیں اور بے شک جی ٹی روڈ پر مووجود رہیں

ا سلام آباد (ویب  نیوز)

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منگل یا  بدھ تک کالعدم تنظیم کے خلاف کیسز واپس لیں گے۔اتوار کے روز وزارت داخلہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب  میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ کل کالعدم تنظیم کے نمائندوں سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے، سعد رضوی سے ون ٹو ون اور میٹنگ میں بات چیت ہوئی، پیر کو صبح 10 بجے کالعدم تنظیم کے لوگ وزارت داخلہ میں آئیں گے۔ کالعدم ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدے پر میں نے اور نورالحق قادری نے دستخط کئے ہوئے ہیں اور اس وقت فرانس کا سفیر موجود نہیں ہے، ناظم الامور موجود ہے، اسمبلی میں لے کر جائیں گے اور اسپیکر قومی اسمبلی سے اس کمیٹی کی تشکیل کے لئے درخواست کریں گے تاکہ جلد ازجلداس پر کام ہوسکے۔میں راولپنڈی اسلام آباد کی انتظامیہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ کنٹینر سڑکوں سے ہٹا کر سائیڈ پر رکھ دیں اور بے شک جی ٹی روڈ پر مووجود رہیں کیونکہ ٹی ایل پی نے بدھ تک انہوں نے مریدکے میں ہی پڑائو کرنا ہے، کوشش کریں گے اس وقت تک کچھ ہو جائے۔ میں بطور سیاسی کارکن تمام پاکستانی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیارہوں۔۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ایل پی کے ساتھ آٹھ گھنٹے تک طویل مذاکرات ہوئے۔  ہم ان کے کیسز واپس بھی لیں گے اور شیڈول فور کو بھی دیکھیں گے، میں نے دو روز فرانسیسی سفارتخانے کے حوالہ سے جوبات کی تھی اس پر ان کا اعتراض تھا لیکن میں یہ بات ان کے سامنے دہرائی کہ پاکستان دنیا کے مسلم ممالک میں واحد ایٹمی طاقت ہے اوراس پر عالمی دبائو ہے اور کابل کے حالات کے بعد اللہ تعالیٰ نے کرم کیااور ہماری حکومت نے ہینڈلنگ بہتر کی اور کسی قسم کی معاشی پابندیوں سے بھی محفوظ رہا، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف)میں بھی ہمارا ایک پوائنٹ رہتا ہے۔ ہماری معاشی صورتحال بڑی خراب ہے،جو عالمی مہنگائی ہے ہمیں اس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو ہمارے عام عادمی کو متاثر کررہاہے۔ کالعدم ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدے پر میں نے اور نورالحق قادری نے دستخط کئے ہوئے ہیں اور اس وقت فرانس کا سفیر موجود نہیں ہے، ناظم الامور موجود ہے، اسمبلی میں لے کر جائیں گے اور اسپیکر قومی اسمبلی سے اس کمیٹی کی تشکیل کے لئے درخواست کریں گے تاکہ جلد ازجلداس پر کام ہوسکے۔ ہماری یہ خواہش ہے کہ جو امن وامان کا مسئلہ ہے اس کو بہتر کیا جائے، معاملات کو بہتر کیا جائے،ہماری ان کے ساتھ میٹنگ کافی بہتر رہی۔ یہ ان کا اعتراض تھا اور درست اعتراض تھا کہ ہماری طرف سے چھ ماہ تک کوئی مثبت کاروائی نہیں ہوئی اور شیڈول فور کو بھی دیکھیں گے اور آج (پیر)کے روزان کے لوگ عنایت اللہ شاہ صاحب کے ساتھ وزارت داخلہ آئیں گے،کوشش کریں گے کہ سارے مسئلوں کو جلد ازجلد پایا تکمیل تک پہنچائیں۔ ایک سوال پر شیخ رشید کا کہنا تھ اکہ مذاکرات میں تاخیر کیوں ہوئی یہ ایک مشکل سوال ہے،

میری سعد رضوی سے میٹننگ میں بھی ملاقات ہوئی اور ون ٹوون بھی ہوئی، مذاکرات جب ہوتے ہیں تو ٹی ایل پی کے مذاکرات ویسے ہی لمبا وقت لیتے ہیں اور دو راست سے ویسے ہی میں جاگا ہوا ہوں، ساری رات سفر کیا اورپھر کل ساری رات اورصبح تین، چار بجے یہ میٹنگ ختم ہوئی اور مجھے سفر کرکے آنا پڑا اور میں نے کبھی بھارت کے ساتھ میچ آج تک مس نہیں کیا اس مرتبہ کیونکہ پاکستان پہلے ہے اور پاکستان مسائل کی خاطر مجھے وزیر اعظم نے ہدایت کی اورپھر میں واپس آیا۔ پچھلی مرتبہ ٹی ایل پی کے سات ہزار لوگ گرفتار ہوئے تھے جن میں سے 176اس وقت جیلوں میں باقی کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی سے متاثرہ عوام نے اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج میں شرکت نہیں کی، اس وقت آئندہ انتخابات کے حوالہ سے مہم شروع ہوچکی ہے اور انتخابات میں22یا23ماہ رہ گئے ہیں اور پی ٹی آئی حکومت آئندہ بجٹ الیکشن بجٹ دے گی، لوگ ابھی سے الیکشن مہم پر نکل آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی لوگوں سے ٹکرائو نہیں ہونا چاہیئے،ہم ناموس رسالتۖ کے بھی سپاہی ہیں اور ختم نبوتۖ کے بھی سپاہی ہیں، جس ملک کا وزیر داخلہ وزیر اعظم عمران خان نے شیخ رشید کو بنایا ہو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ختم نبوت پر کوئی آنچ آسکے۔ وزیر داخلہ ختم نبوت کاسپاہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا احتجاج ان کا حق ہے کوئی ٹکرائو نہیں ہونا چاہیئے، اتنا مضبوط میڈیا ہے میں سارے میڈیا سے بھی صلح کا حامی ہوں، میں اس میں رائے رکھتا ہوں کہ حکومت کا کام یہ ہے کہ وہ لچک رکھے، حکومت کا کام نہیں ہے کہ وہ جوڈوکراٹے کرے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ آئندہ الیکشن تک ملک کو بہتری کے راستے پر لے کر جایا جائے۔ ہم نے ابھی تک ٹی ایل پی کو بین نہیں کیا ہو اور وہ ہر جگہ الیکشن لڑ رہے ہیں اور اپنے نشان پر لڑ رہے ہیں،

ہم ان کے خلاف سپریم کورٹ میں نہیں گئے، ہمیں بہتری کی فضاء کی طرف جانا چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا کام ہے کہ وہ صلح کا راستہ اختیار کرے، ریاست کا کام ڈنڈا چلانا نہیں، اتنے کیمروں کے آگے کیا ڈنڈا چل سکتا ہے۔ ہم راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ کو ایک کمیٹی بنانے لگے ہیں اور وہ دونوں مل کر کام کریں گی۔ ۔ دنیا میں سیاستدان کا کام ہے کہ وہ درمیانی راستہ نکالے، لڑائی کرنا تو ایک منٹ کا کام ہے اگر وہ آئیں گے تو بدھ کے دن پھر جھگڑا شروع ہوجائے گا۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ جو لوگ مریدکے میں بیٹھے ہیں وہ بدھ کے روز اپنے، اپنے گھروں کو واپس جائیں اور ان کے مطالبہ کو ہم سنجیدگی سے لیں۔  ایک سوال  کے جواب میںوفاقی وزیر برائے داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ اس وقت تک جنرل فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا معاملہ کب تک حل ہو گا اس حوالہ مجھے کچھ پتہ نہیں ۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ  میں نے پہلے میڈیا کو کہا تھا اور میرا خیال تھا ہو جائے گا، اب میڈیا  وزیر اعظم  عمران خان سے پوچھے، ان کے ترجمان سے پوچھے، وزیر خارجہ سے پوچھے یا وزیر دفاع سے پوچھے۔ میری میڈیا سے درخواست ہے کہ مجھ سے وہ سوال پوچھیں جو میرے دائرہ اختیار میں آتا ہو۔  منگل اور بدھ تک ہم  کالعدم ٹی ایل پی کے کیسز واپس بھی لیں گے اور شیڈول فور کو بھی دیکھیں گے۔۔ انہوں نے کہا کہ  میری ہمدردی عمران خان کے ساتھ ہے اسی کے ساتھ آیا ہوں اسی کے ساتھ جائوں گا ، 100دفعہ نہیں کہہ سکتا ایک دفعہ یہ ریکارڈ رکھ لیں ، اسی کے ساتھ آیا ہوں اسی کے ساتھ جائوں گا۔ عزتوں کے فیصلے آسمانوں پر ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیئے ، ہم ناچیز ہیں، ناقص ہیں ، کمزور ہیں، اللہ ہماری معافی رکھے اور انشاء االلہ تعالیٰ مجھے اللہ تعالیٰ سے پوری امید ہے کہ عمران خان پانچ سال پورے کرے گا اور اگلے الیکشن میں جو نئی صورتحال پیدا ہو گی اس میں ہم بات کریں گے۔ شیخ کی میچ کی ٹکٹ ضائع ہو گئی جو کہ معمولی خبر نہیں ہے، اپنی جیب سے لے کر گیا تھا اور ہوٹل میں گیا سامان ہی رکھا تو واپسی شروع ہو گئی۔ پی ڈی ایم احتجاج سے کیا فائدہ لے لے گی، پی ڈی ایم ہرسال نومبر ، دسمبر میں تھوڑی بہت ایکسرسائز کرتی ہے اور ٹریلر چلاتی ہے چلائے۔ میں 14ماہ میں بھی بطور وزیر گھر گیا ہوں، 20ماہ میں بھی بطور وزیر گھر گیا ہوں اور اب سواتین سال ہو گئے ہیں، انشاء اللہ پانچ سال پورے کریں گے۔