• وفاقی کابینہ کا بجلی کے تعطل جیسے واقعات کے تدارک کے لئے جامع حکمت عملی کی تیاری کا حکم،
  • توانائی بچت کی ملک گیر عوامی آگہی مہم کی منظوری، رائج طریقوں کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ
  • مستقبل میں بجلی کے کسی بریک ڈاؤن کو برداشت نہیں کروں گا۔ شہبازشریف
  • عوام اور کاروباری برادری کو مشکل و پریشانی میں مبتلا کرنے کے ذمہ داروں کے تعین کی ہدایت
  • اعلی سطح کی کمیٹی نے تحقیقات کا آغاز کردیا، تمام حقائق کا جائزہ لے کر جامع کمیٹی رپورٹ پیش کرے گی
  • خیبر پختونخواہ اور پنجاب کی نگران حکومتوں کو بھی توانائی بچت منصوبوں کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے
  • توشہ خانہ کی معلومات مشتہر کرنے کی منظوری ،نئی پالیسی کے مطابق تحفہ حاصل کرنے والی شخصیت اصل قیمت ادا کر کے تحفہ حاصل کر سکے گی

اسلام آباد (ویب نیوز)

وفاقی کابینہ نے  بجلی کے تعطل جیسے واقعات کے تدارک کے لئے جامع حکمت عملی کی تیاری کا حکم  دیتے ہوئے توانائی کی بچت کی عادتیں اپنانے کے لئے اپنی نوعیت کی پہلی ملک گیر عوامی آگہی مہم کی منظوری دے دی،  توانائی کی بچت کوعام اور عالمی سطح پر رائج طریقوں کو تعلیمی نصاب میں شامل کیاجائے گا ، توشہ خانہ کی معلومات مشتہر کرنے کی منظوری دی گئی ہے  نئی پالیسی کے مطابق متعلقہ شخصیت اصل قیمت ادا کر کے تحفہ حاصل کر سکے گی،وزیر اعظم  نے بجلی بریک ڈائون پر سخت برہمی کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی۔منگل کو وزیراعظم شہبازشریف کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ گزشتہ 7 سال میں پٹرولیم مصنوعات سے متعلق امپورٹ بل دوگنا ہوچکا ہے، توانائی کی بچت کے قومی رویے میں تبدیلی سے نہ صرف اربوں روپے کا غیرملکی زرمبادلہ بچے گا بلکہ انفرادی سطح پر عوام کے بل میں 30 سے 40 فیصد کی نمایاں کمی بھی ہوگی۔وزیراعظم نے بجلی کے تعطل پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے  عوام اور کاروباری برادری کی پریشانی کا باعث بننے والوں کا تعین کرنے کی ہدایت کی  ہے ۔ وزیراعظم آفس کے مطابق کابینہ نے ملک میں بجلی کے نظام میں آنے والے بڑے تعطل کو مستقبل میں رونما ہونے سے روکنے اور اس کی وجہ بننے والے عوامل کے مستقل تدارک کے لئے جامع حکمت عملی کی تیاری کا حکم دیا ہے جبکہ عوام کو بجلی، پانی ، گیس سمیت دیگر وسائل کی بچت کی عادت ڈالنے اور اس کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لئے اپنی نوعیت کی پہلی ملک گیر عوامی آگہی مہم کی منظوری دے دی ہے، توانائی کی بچت کی عادتوں کوعام کیاجائے گا اور عالمی سطح پر رائج طریقوں کو تعلیمی نصاب میں شامل کیاجائے گا، سرکاری، نجی ، گھریلو اور تجارتی مقامات پر بجلی، گیس، پانی کی بچت سے پٹرولیم مصنوعات سے متعلق امپورٹ بل میں نمایاں کمی ہوگی جو گزشتہ 7 سال میں دوگنا ہوچکا ہے۔ توانائی کی بچت کے قومی رویے میں تبدیلی سے نہ صرف اربوں روپے کا غیرملکی زرمبادلہ بچے گا بلکہ انفرادی سطح پر عوام کے بل میں 30 سے 40 فیصد کی نمایاں کمی بھی ہوگی۔ وزیراعظم نے گزشتہ روز ( 23 جنوری 2023) کو ملک میں بجلی کے تعطل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور کاروباری برادری کو جس تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہ ناقابل قبول ہے۔ مستقبل میں ایسے کسی واقعے کو برداشت نہیں کروں گا۔ وزیراعظم نے سخت ہدایت کی کہ عوام اور کاروباری برادری کو مشکل اور پریشانی میں مبتلا کرنے کے ذمہ داروں کاواضح تعین کیا جائے ۔ وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ بجلی تعطل کی وجہ بننے والے عوامل کا بھی تعین کیاجائے اور ایسے اقدامات کو یقینی بنایا جایا جن سے مستقبل میں ایسی کسی صورتحال پیدا نہ ہو۔ کابینہ کو بتایاگیا کہ بجلی کے تعطل پروزیراعظم کی تشکیل کردہ اعلی سطح کی کمیٹی نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ کمیٹی تمام حقائق کا جائزہ لے کر جامع رپورٹ پیش کرے گی۔ وزیر توانائی نے کابینہ کو بتایا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ صبح 7بج کر 34 منٹ پر نارتھ ساتھ ٹرانسمیشن لائن میں فنی خرابی، برقی رو میں اچانک آنے والے اتارچڑھاؤاورفریکوئنسی میں تعطل  کے نتیجے میں ہوا جس کے بعد بجلی کا ترسیلی نظام خودکارحفاظتی نظام کے تحت  ٹرپ (Trip) بند ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کے فوری نوٹس اور ہدایات کے بعد ملک بھر میں بجلی کی بحالی کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا گیا اور 23 جنوری کی شب 10 بجے تک تمام بڑے شہروں میں بجلی بحال کردی گئی ہے۔ ملک میں تمام 1112 گرڈاسٹیشنز کو منگل کی) صبح 5 بجے تک بحال کردیا گیا ہے اور بجلی کی فراہمی صارفین تک یقینی بنا ئی جارہی ہے۔ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر گیس سے بجلی بنانے والے پاور پلانٹس کو فوری طور پر چلایاگیا ہے اور ان سے بجلی کی پیداوار شروع کردی گئی ہے تاکہ بجلی کے تعطل سے آنے والے شارٹ فال کو پورا کیاجاسکے۔ نیوکلیئر اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر وں کو مروجہ طریقہ کار کے مطابق دوبارہ چلانے میں مزید ایک سے دو دن درکار ہیں، بجلی کے ان کارخانوں کے سوا دیگر تمام پاور پلانٹس سے معمول کے مطابق بجلی کی بلا تعطل پیداوار جاری ہے۔              وزیر اطلاعات ونشریات محترمہ مریم اورنگزیب نے کابینہ کو توانائی کی بچت کے لئے قومی آگہی کی مہم پر تفصیلی بریفنگ دی۔ جس کے تحت ملک میں ایک ہمہ گیر اور طویل دورانیے کی مہم شروع کی جار ہی ہے۔ اِس مہم سے پہلے وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک جامع سروے کیا جس کے تحت لوگوں میں توانائی کی بچت کے اقدامات سے آگاہی کے بارے میںرائے حاصل کی گئی۔ سروے کے نتائج اور لوگوں کے رحجانات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزرات کی طرف سے ایک خصوصی طویل مدتی آگاہی مہم تیار کی گئی جس میں لوگوں کی عادات، طرز زندگی، سوچ اور رویوں کو بدلنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس سلسلے میں پرنٹ، الیکٹرانک، آوٹ ڈور، سوشل میڈیا اور رائے عامہ بنانے والے افراد اور ماہرین کی مدد لی جائے گی۔ یہ مہم ہر شعبے ، طبقے اور عمر کے افراد کے رجحانات ، دلچسپی اور میڈیا کے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاری کی جارہی ہے۔ یہ مہم سرکاری و نجی اداروں کے اشتراک عمل سے چلائی جائے گی۔ اس مہم کا بنیادی تصور یہ ہے کہ بطور پاکستانی ہر شہری کو یہ احساس دلایا جائے گا کہ وہ بجلی، گیس اور پانی کی بچت کرے جس سے نہ صرف اس کا ذاتی طور پر فائدہ ہوگا بلکہ مجموعی طور پر پاکستان پر معاشی دبا کم کرنے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں مسلسل اضافے کی وجہ سے امپورٹ بل بڑھ رہا ہے ۔ 2017 میں پٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 18 فیصد تھا جو 2022 میں بڑھ کر 29 فیصد پر جا پہنچا ہے۔ پاکستان کو معاشی دبا سے نکالنے اور قیمتی غیرملکی زرمبادلہ بچانے کے لئے توانائی کی بچت نہایت اہم ہے۔ پاکستان کو معاشی طورپر دبا سے نکالنے کا ایک حل رویوں میں تبدیلی ہے۔کابینہ نے وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے پیش کی گئی بریفنگ کو سراہتے ہوئے اس کی منظوری دی اور اس ملک گیر مہم کو جلد ازجلد چلانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے دیگر وزارتوںکو اس مہم میں وزارت اطلاعات کی بھرپور معاونت کی بھی ہدایت کی۔  وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبہ خیبر پختونخواہ اور صوبہ پنجاب میں نگران حکومتوں کو بھی توانائی بچت منصوبوں کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے تاکہ تمام صوبائی حکومتوں کے اشتراک عمل سے توانائی کی بچت کے مختلف اقدامات پر ملک بھر میں سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔ وفاقی کابینہ کو توشہ خانہ کے حوالے سے بنائی گئی بین الوزارتی کمیٹی کی سفارشات پر مبنی جامع رپورٹ پیش کی گئی۔ کمیٹی نے توشہ خانہ کی نئی پالیسی کا مسودہ بھی کابینہ اجلاس میں پیش کیا ۔ وفاقی کابینہ نے کمیٹی کی سفارشات اور نئی توشہ خانہ پالیسی پر اپنی تجاویز پیش کیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ان تجاویز کی روشنی میں بین الوزارتی کمیٹی اپنی رپورٹ میں ترامیم کرکے آئندہ کابینہ کے اجلاس میں منظوری کے لئے پیش کرے۔وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 3 جنوری 2023 اور 11 جنوری 2023 میں منعقد ہونے والے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔ وفاقی کابینہ نے قانون سازی ( CCLC )کے 6 جنوری 2023 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔