بنگلہ دیش میں مودی مخالف احتجاج پر پولیس کا ربر کی گولیاں، آنسو گیس کا استعمال

ڈھاکہ  (ویب ڈیسک)

بنگلہ دیش میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورے کے خلاف طلبہ سمیت شہریوں کے شدید احتجاج پر پولیس کی جانب سے ربر کی گولیاں اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔  پولیس کا کہنا تھا کہ مظاہرین قابو سے باہر ہوگئے اور دارالحکومت ڈھاکا میں مارچ کے دوران افسران پر پتھرا وکیا گیا جس کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہوئے۔پولیس افسر سید نورالاسلام کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے ربر کی گولیاں اور آنسو گیس کا استعمال مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے استعمال کیا، 300 مظاہرین تھے جن میں سے 33 افراد کو کشیدگی پھیلانے پر گرفتار کرلیا ہے’۔مظاہرین کے ترجمان کا کہنا تھا کہ احتجاج میں 2 ہزار طلبہ بھی شامل ہوگئے تھے۔احتجاج میں شریک افراد کا موقف ہے کہ مودی نے 2002 میں بھارتی ریاست گجرات میں مذہبی منافرت پھیلائی اور مسلمانوں کے خلاف کشیدگی کو ہوا دی جس کے نتیجے میں تقریبا ایک ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔نریندر مودی 2002 میں ریاست گجرات کے وزیر اعلی تھے اور ان کے دور حکومت میں بدترین مذہبی فسادات ہوئے تھے۔اسٹوڈنٹس رائٹس کونسل کے سینئر عہدیدار اور احتجاج کے منتظم بن یامین مولا کا کہنا تھا کہ ‘تقریبا 40 مظاہرین زخمی ہوئے اورپولیس کے تشدد اور ربر کی گولیوں سے زخمی ہونے والے 18 افراد کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے’۔ڈھاکا میں ہی ایک اور مقام پر   مظاہرین نے گائے کو ذبح کیا جس کے باعث ہندوں میں خوف پھیل گیا۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی دو روزہ دورہ بنگلہ دیش پر جمعہ کو ڈھاکا پہنچ گئے جس کا مقصد بنگلہ دیش کی آزادی کی گولڈن جوبلی کے موقع پر 10 روزہ جشن میں شرکت کرنا ہے۔بنگلہ دیش میں اس جشن کے موقع پر وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے والد شیخ مجیب الرحمن کی سالگرہ بھی منائی جائے گی۔رپورٹ کے مطابق سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ سے بھی قائدین جشن میں شرکت کے لیے پہلے ہی بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں جو 17 مارچ کو شروع ہوا تھا۔بنگلہ دیش میں مودی مخالف احتجاج گزشتہ ہفتے شروع ہوا تھا جب ڈھاکا یونیورسٹی کے طلبہ سمیت ہزاروں افراد نے مظاہرے میں شرکت کی تھی۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ مودی اور ان کی ہندو قوم پرست جماعت بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کر رہی ہے اور اسی طرح سرحد پر بھارتی فورسز کی جانب سے بنگلہ دیش کے شہریوں کو بھی مارا جاتا ہے، جس کے بارے میں بھارت کا مقف ہے کہ سرحد میں اسمگلنگ میں ملوث افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ڈھاکا کی بیت المکرم مسجد کے سامنے مظاہرے میں شامل حسین محمد انور کا کہنا تھا کہ بھارت کی حامی حسینہ حکومت نے مودی کو دعوت دی ہے اور ہم یہاں اس کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے موجود ہیں.