غزہ: اسرائیل کا مہاجر کیمپ پر حملہ، 8 بچوں سمیت 2 خواتین شہید، تعداد 140 ہو گئی، ی ۔ 1200سے زائد فلسطینی زخمی

غزہ  (ویب ڈیسک)

غزہ: (دنیا نیوز) اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں، 40 بچوں سمیت شہدا کی تعداد 140ہوگئی ۔ 1200سے زائد فلسطینی زخمی ہیں، مہاجر کیمپ پر ہونے والے حملے میں 8 بچے اور دو خواتین شہید ہوگئیں۔ مغربی کنارےمیں ہونے والی جھڑپوں میں 13 فلسطینی شہید ہو گئے۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے میں 160 جہاز، ٹینک اور آرٹلری حصہ لے رہی ہے۔ اسرائیلی فوج نے بھاری ہتھیاروں سے رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا، غزہ کا شمالی علاقہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ جنوبی شہر خان یونس پر بھی حملہ کیا گیا

اسرائیلی فوج مہاجر کیمپوں پر بھی گولے برسا رہی ہے، مہاجر کیمپ پر ہونے والے حملے میں بچے اور خواتین شہید ہوگئیں، یہ 2014 کے بعد اسرائیلی کی طرف سے کئے گئے شدید ترین حملے ہیں۔ مغربی کنارے میں ہونے والی جھڑپوں میں متعدد فلسطینی شہید اور زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے آنسو گیس کے شیل پھینکے ، ربڑ کی گولیاں اور براہ راست فائرنگ کی۔

غزہ کے محکمہ صحت کے ترجمان نے کہا ہے کہ شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، عالمی برادری فوری طور پر اسرائیلی حملے رکوائے۔ اقوام متحدہ کے مطابق خطرناک صورتحال کے باعث دس ہزار سے زائد فلسطینی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

اسرائیل دہشتگرد ریاست ہے: ترک صدر

ادھر ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے دہشت گرد ریاست اسرائیل نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ عالمی برادری کی بے حسی پرافسوس کااظہار کیا۔

اردن میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے

اردن میں مغربی کنارے کی سرحد کے قریب فلسطینیوں کے حق میں ہونےو الے مظاہرے میں پولیس نے ہوائی فائرنگ کی اور آنسو گیس کے شیل پھینکے۔ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔۔

وائٹ ہاوس کی ترجمان جین ساکی نے کہا ہے امریکا سنگین صو رت حال میں کمی کی کوششیں کر رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بڑی ڈھٹائی سے اسرائیل کی کارروائی کو سیلف ڈیفنس قرار دیا۔

دنیا کے کئی مسلم اکثریت والے ممالک میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں جن میں بنگلا دیش، اردن، کوسوو اور ترکی شامل ہیں۔جرمنی میں مظاہرین کی جانب سے اسرائیلی پرچم نذرِ آتش کر دیا گیا۔ امریکا میں بھی انسانی حقوق کی تنظیموں نے فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کیا اور جنگ رکوانے کا مطالبہ کیا
فلسطینی وزارت صحت نے کہاکہ مغربی کنارے کے علاقے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے متعدد شہروں اوردیہات میں پرتشددکارروائیوں کے باعث گیارہ فلسطینی شہید اورچھ سوزخمی ہوئے ہیں۔اسرائیلی فوج نے ان کارروائیوں میں براہ راست فائرنگ ،گولیوں کے علاوہ گیس بم سمیت ربڑ کی گولیاں استعمال کی ہیں۔مقامی افراد نے کہا کہ اسرائیلی بحریہ نے بحیرہ روم سے شیلز فائر کیے تاہم کوئی بھی محصور پٹی پر نہیں لگا۔فلسطینی وزارت مذہبی امور نے کہا کہ اسرائیلی جہازوں کی بمباری سے مسجد تباہ ہوگئی، ملٹری ترجمان کا کہنا تھا کہ آرمی رپورٹ کا جائزہ لے رہی ہے۔فلسطین کے طبی حکام کا کہنا تھا کہ غزہ میں پیر سے اب تک 37 بچوں اور 21 خواتین سمیت 137 افرادشہید اور 950 زخمی ہو چکے ہیں۔فلسطینی حکومت نے اسرائیل کی طرف سے کشیدگی میں اضافے اورپرامن مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کی مذمت کی۔فلسطینی حکومت نے اسرائیل کو کشیدگی میں اضافے کاذمہ دارٹھہرایا اورامریکی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ ان حملوں کورکوانے کے لئے اسرائیل پردبائوڈالے۔فلسطین کی وزارت صحت نے ہسپتالوں اورمراکزصحت میں ہنگامی حالت نافذکردی ہے اور نابلوس شہرمیں خون کے عطیات کی اپیل کی ہے ،دوسری جانب حماس کا اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں راکٹ حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔اسرائیل کے دو اہم جنوبی شہروں میں غزہ سے راکٹ حملوں کے انتباہ کے لیے سائرن بجائے گئے۔اسرائیلی حکام نے کہا کہ راکٹ حملوں سے ہلاک ہونے والے 8 افراد میں 2 بچوں سمیت 6 شہری بھی شامل ہیں۔اتوار کو اس تمام صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل بائیڈن انتظامیہ کے ایلچی ہادی امر اسرائیل روانہ ہوئے۔اسرائیل میں امریکی سفارتخانے نے بیان میں کہا کہ تمام کوششوں کا مقصد پائیدار امن کے لیے کام کرنے کی ضرورت پر زور دینا ہے۔مصر سیز فائر کی کوششوں میں خطے کی قیادت کر رہا ہے۔مصری سیکیورٹی کے دو ذرائع نے کہا کہ قاہرہ مزید مذاکرات سے قبل دونوں فریقین سے سیز فائر پر زور دے رہا ہے۔مصر کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ مصر اور اردن کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں محاذ آرائی کو ختم کرنے اور مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں ‘اشتعال انگیزی’ کو روکنے کے لیے کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ غزہ سے اسرائیل کی جانب 2 ہزار سے زائد راکٹ فائر کیے جاچکے ہیں، جن میں سے تقریبا نصف کو میزائل ڈیفنس سسٹم نے ناکارہ بنا دیا جبکہ 350 غزہ کی پٹی میں گرے۔خیال رہے کہ رمضان المبارک کے آغاز سے ہی مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم)میں اسرائیلیوں کی جانب سے فلسطینیوں پر حملوں اور دیگر پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جبکہ اس دوران دنیا کے 3 بڑے مذاہب کے لیے انتہائی مقدس شہر میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس پر پاکستان نے شدید مذمت بھی کی ہے۔مشرق وسطی میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملوں اور حماس کے راکٹ کی وجہ سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال ‘وسیع پیمانے پر جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے’۔اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر پرتشدد کارروائیوں کے بعد عالمی برداری کی جانب سے ان حملوں کی نہ صرف مذمت کی گئی بلکہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔مشرق وسطی میں سب سے زیادہ حساس تصور کیے جانے والی مسجد الاقصی اس وقت سے تنازع کی زد میں ہے جب 1967 میں اسرائیل نے بیت المقدس کے مشرقی حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور اسے بعد میں اسرائیل کا حصہ بنا لیا تھا، اسرائیلی پورے بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت اور یہودیوں کے عقائد کا مرکز قرار دیتے ہیں لیکن فلسطینی اسے اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔