پنجشیر میں طالبان کیخلاف مزاحمتی تحریک جڑ پکڑ رہی ہے، روس
افغانستان میں نئی جنگ کا آغاز؟ احمد مسعود نے طالبان کیخلاف امریکا سے مدد مانگ لی
امریکا ہماری ملیشیا کو اسلحہ فراہم کرکے اب بھی ‘جمہوریت کا عظیم ہتھیار’ ثابت ہوسکتا ہے، احمد مسعود ،

کابل (ویب  نیوز )

مرحوم افغان کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے طالبان کے خلاف مزاحمتی تحریک شروع کرنے کیلئے امریکا سے مدد مانگ لی ۔فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق طالبان مخالف معروف مزاحمتی کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے نے امریکا سے ہتھیاروں کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔احمد مسعود کا کہنا ہےکہ اس کے پاس طالبان کا مقابلہ کرنے کےلیے مؤثر قوت موجود ہے لیکن ان کی ملیشیا کو امریکا کی جانب سے اسلحہ اور بارود فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں لکھے گئے کالم میں احمد مسعود کا کہنا تھا کہ امریکا اس کی ملیشیا کو اسلحہ فراہم کرکے اب بھی ‘جمہوریت کا عظیم ہتھیار’ ثابت ہوسکتا ہے۔احمد مسعود کا کہنا تھا کہ ’میں یہ کالم وادی پنجشیر سے لکھ رہا ہوں اور اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کے لیے تیار ہوں، میرے ساتھ مجاہدین بھی ہیں جو کہ ایک بار پھر طالبان کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن ہمیں مزید اسلحہ اور گولہ بارود درکار ہے۔طالبان کے پہلے دور اقتدار میں بھی پنجشیر کا علاقہ طالبان مخالف شمالی اتحاد کا اہم گڑھ تھا اور ایک بار پھر یہ مزاحمت کی آخری سب سے بڑی امید بنتا جارہا ہے۔ ‘ہمارے ساتھ افغان فوج کے اہلکاروں کی بڑی تعداد شامل ہے’احمد مسعود کا اپنے مبینہ مضمون میں مزید کہنا ہے کہ ’ہمارے ساتھ افغان فوج اور اسپیشل فورسز کے اہلکاروں کی بڑی تعداد شامل ہوئی ہے جو کہ اپنے کمانڈرز کی جانب سے ہتھیار ڈالنے پر نالاں ہیں۔‘

پنجشیر میں طالبان کیخلاف مزاحمتی تحریک جڑ پکڑ رہی ہے، روس

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہےکہ طالبان کے خلاف مزاحم افغان نائب صدر امراللہ صالح، احمد مسعود سے ملاقات کررہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ دونوں طالبان کے خلاف گوریلا جنگ کی تیاریاں کررہے ہیں۔
خیال رہےکہ 20 سال بعد کابل پر ایک بار پھر طالبان کے قبضے کے بعد سے ہزاروں افراد ملک سے انخلا کرنےکی کوشش کررہے ہیں، حالیہ چند دنوں میں امریکی شہریوں اور سفارتی عملے سمیت 6 ہزار سے زائد افراد کو امریکی فوج نے افغانستان سے نکالا ہے۔
احمد مسعود کا کہنا ہے کہ طالبان افغان بارڈر سے باہر بھی دنیا کے لیے خطرہ ہیں، طالبان کے زیر انتظام افغانستان ایک بار پھر دہشت گردوں کی آماجگاہ بن جائے گا جس سے جمہوری سوچ رکھنے والوں کے لیے یہاں ایک بار پھر کوئی جگہ نہیں رہےگی۔’جنگجو لڑنےکیلئے تیار ہیں تاہم انہیں امریکی مدد کی ضرورت ہے’احمد مسعود نے بارہا کہا کہ ان کے جنگجو طالبان سے لڑنے کے لیے تیار ہیں تاہم انہیں امریکا کی مدد کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر بہت سی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں طالبان کو افغان اور امریکی فورسز کے چھوڑے ہوئے جدید اسلحے کو تحویل میں لیتے دیکھا جاسکتا ہے۔احمد مسعود کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اور افغانستان نے 20 سال میں بہترین مشترکہ جدوجہد کی ہے اور اب افغانستان امریکا سے درخواست کررہا ہے کہ وہ اس کی مدد جاری رکھے تاکہ اس کی آزادی برقرار رہ سکے ،کیونکہ امریکا ہی اب ہماری آخری امید ہے۔