قانون سازی معاملے پر حکومت اپوزیشن کی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس بغیر کسی نتیجہ پرختم

قانون سازی معاملے پر حکومت اپوزیشن کی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس بغیر کسی نتیجہ پرختم
تیسرا اجلاس بھی ضابطہ کار کی منظوری تک محدود رہا
انتخابی اصلاحات کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، پیپلزپارٹی
مشترکہ کمیٹی کا کام بھی صرف مشق ثابت ہوسکتا ہے ہماری تجاویز کے حوالے سے قوانین پر کوئی فرق نہیں پڑے گا،پاکستان مسلم لیگ ن کا خدشہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

قانون سازی  کے  معاملے  پر حکومت اپوزیشن کی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوگیا،  تیسرا اجلاس بھی ضابطہ کار کی منظوری تک محدود رہا جبکہ پیپلزپارٹی کی طرف سے اجلاس میں واضح کردیا گیا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ پاکستان مسلم لیگ ن نے  خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس مشترکہ کمیٹی کا کام بھی صرف مشق ثابت ہوسکتا ہے ہماری تجاویز کے حوالے سے قوانین پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ حکومت اپوزیشن ارکان پر مشتمل متنازع قانون سازی سے متعلق  امور کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی کا اجلاس  چیئرپرسن شاہدہ اختر علی کی صدارت میں  آئینی روم میں ہوا۔ سید نوید قمر اور بابراعوان  کی طرف سے  مشترکہ طورپر بنائے گئے   ٹی او آرز پیش کیے گئے ، ضابطہ کار کی منظوری دیدی گئی ہے، مختلف مراحل میں قوانین کے بلز کا جائزہ لیا جائے گا۔ یاد رہے کہ قائمہ کمیٹیوں کو نظر انداز کرنے ، بحث نہ کروانے، ترامیم کا موقع دئیے بغیر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی طرف سے 21بلز کی منظوری کے معاملے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا تھا ۔ مالیاتی امورپر بھی حکومت آرڈیننس لے آئی تھی جس کی نشاندہی احسن اقبال کی طرف سے کی گئی تھی اور الزام عائد کیا گیا تھا کہ حکومت نے آئین و قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ اپوزیشن کے شدید احتجاج پر اسپیکر اسد قیصر نے  مشترکہ کمیٹی قائم کی۔ تیسرا اجلاس ہوا اجلاس میں وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا مسلم لیگ ن کے ارکان شاہد خاقان عباسی ، محسن شاہ نواز رانجھا، خالد مگسی،آغا حسن بلوچ  اور مشیر پارلیمانی امورشریک ہوئے۔وفاقی وزراء پرویز خٹک، اسد عمر، طارق بشیر چیمہ، سید امین الحق اور اپوزیشن کے ارکان سردار ایاز صادق، رانا ثناء اللہ،شازیہ مری شریک نہ ہوسکے۔ اجلاس میں پہلے مرحلے میں وزارت خزانہ سے متعلق عجلت میں منظور کروائے گئے بل کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ کو طلب کرلیا گیا ہے۔ وزارت قانون کو خصوصی تیاری کی ہدایت کی گئی ہے۔ خالد مگسی نے  سوال اٹھایا ہے کہ اس مشق کا کوئی فائدہ ہوگا شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ انہیں بھی صرف مشق نظر آرہی ہے۔ واضح کیا گیا ہے کہ قوانین پر اس کمیٹی کی ورکنگ کا کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا اور چیئرپرسن کمیٹی نے بھی کہا ہے کہ ہماری ورکنگ ہوگی اور تجاویز سے آگاہی دیں گے۔ حکومت کو تحفظات کا علم ہوجائے گا جو آئین و قانون کے منافی کام کیا گیا ہے۔ سیکرٹریز کو بھی آگاہی ہوگی۔ بابر اعوان نے کہاکہ انتخابی اصلاحات کے معاملے پر بھی بلز کا جائزہ لیں۔ سید نوید قمر نے کہاکہ اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ مشیر پارلیمانی امور نے بتایا کہ سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی بھی تاحال کوئی فیصلہ نہیں کرسکی ہے۔