اسلام آباد (ویب ڈیسک)

اقوام متحدہ میں متعین پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ  افغانستان میں امداد کی فراہمی کیلئے کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے، اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے افغان عوام کی امداد کے حوالہ سے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے اور پورے15ارکان نے اس کی حمایت کی ہے۔ اس قراردادکی منظوری سے افغانستان کو امداد دینے کے لئے راستہ کھل گیاہے اوراس میں میں کو کوئی شک اورشبہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ امداد افغان عوام کو پہنچے گی اور انہی کے لئے ہے اوراس میں ابھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے نئی اپیل جاری کی ہے اورانہوں نے4.3ڈالرز کی رقم افغان عوام کی امداد کے لئے فراہم کرنے اپیل کی ہے اوریہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رقم کی فراہمی کے لئے کی جانے والی سب سے بڑی اپیل ہے اورتوقع ہے کہ اس اپیل کے تحت اچھا ریسپانس آئے گا۔ ہم بھی اسلامی دنیا سے امداد جمع کرنے کی کوشش کررہے ہیں اوراوآئی سی کے تحت جو کانفرنس ہوئی ہے اس کے تحت کافی موبیلائزیشن ہوئی ہے۔ ان خیالات کااظہار منیر اکرم نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ ہمارا شروع دن سے کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے طالبان پر جو پابندیاں لگائی ہیں وہ کوئی150کے قریب لوگ ہیں اوروہ لسٹ پر ہیں، ان افراد کے اثاثے منجمد کئے گئے ہیں اوریہ اس بات کابہانہ نہیں بننا چاہئے کہ افغانستان کے چار کروڑ لوگوں کو امداد نہ پہنچ سکے اوران کو سپورٹ نہ مل سکے، ان کے حالات جتنے نازک ہیں اورانسانی بحران جنم لے رہا ہے ان حالات میں ان کو امداد دینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔اوآئی سی وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں وزیر اعظم عمران خان نے بھی یہ ذکر کیا ، اسی پوزیشن کو ہم نے سکیورٹی کونسل میں دیگر اہم ممالک امریکہ، روس اورچین سب کے ساتھ مل کر ہم نے سکیورٹی کونسل کی قرارداد نکالی اوروہ گذشتہ روز متفقہ طور پر منظورہو گئی اورپورے15ارکان نے اس کی حمایت کی ہے۔ اس قراردادکی منظوری سے افغانستان کو امداد دینے کے لئے راستہ کھل گیا اوراس میں کیس کو کوئی شک اورشبہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ امداد افغان عوام کو پہنچے گی اور انہیں کے لئے ہے اوراس میں ابھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ منیر اکرم نے کہا کہ افغان عوام کو کافی سارے اداروں کے ذریعے امداد دی جائے گی، اقوام متحدہ نے ایک ٹرسٹ فنڈ بنایا ہے اور اس کے ذریعے اقوام متحدہ کے سیکرٹری کے پاس جو پیسہ ہے وہ وہاں سے افغان عوام کے لئے این جی اوز ، انسانی فلاح وبہبود کے لئے کام کرنے والے اداروں ور اقوام متحدہ کے اداروں کے ذریعے چینل ہوگا  اوران کو یہ پیسہ جائے گا ۔ امریکہ نے بھی منظوری دے دی ہے اور عالمی بینک بھی280ملین ڈالرز دے گا اور یہ رقم یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت کے زریعہ افغانستان کو امداد کے لئے دیا جائے گا تاہم یہ پیسہ کافی نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اوآئی سی اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے ایک پوزیشن لی کہ افغان عوام کی امداد میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے اوراوآئی سی کی جانب سے اس مئوقف کی حمایت کے بعد یہاں پر ہمارے ہاتھ بھی مضبوط ہو گئے اورہماری بات چیت مضبوط ہو گئی ۔