اسلام آباد (ویب ڈیسک)

لاہور دھماکا: نئی تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی..سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مددسے مبینہ دہشت گرد کی شناخت

لاہور دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش

لاہور کے علاقے انارکلی بازار میںہونے والے دھماکے کی ذمہ داری نئی بننے والی بلوچ عسکریت تنظیم نے قبول کر لی۔سابق وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ نیشنلسٹ آرمی نیآج لاہورحملیکی ذمیداری قبول کی ہے یہ تنظیم 10دن پہلے بنی ہے۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ کالعدم یوبی اے اور کالعدم بلوچ ریپبلکن آرمی نے مل کر یہ تنظیم بنائی ہے۔دوسری جانب انارکلی دھماکے سے متعلق پولیس اورحساس اداروں کی تفتیش جاری ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مددسے مبینہ دہشت گرد کی شناخت کرلی گئی۔تفتیشی ذرائع کے مطابق مبینہ دہشت گرد موٹرسائیکل پر جا ئے وقوعہ تک آیا، مبینہ دہشت گرد  نے جائے وقوعہ پر ایک بیگ رکھا اور مبینہ دہشت گردکے جانے کے 4 منٹ بعد دھماکا ہوا۔مبینہ دہشت گرد کے فرارہونیکی مزیدفوٹیجزحاصل کی جارہی ہیں جب کہ دھماکے میں استعمال ہونیوالے بارودی مواد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکا 2013کے انارکلی دھماکے سے مماثلت رکھتاہے۔دھماکے میں قوی امکان ہے کہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کااستعمال کیاگیاہو۔جائے وقوعہ سے ملنے والی مشکوک موٹرسائیکلوں کا ریکارڈحاصل کر لیا گیا ہے۔ جائے وقوعہ سے5 مشکوک موٹرسائیکلیں تحویل میں لی گئی ہیں،علاوہ ازیں لاہور دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کردی گئی،آئی جی پنجاب نے وزیراعلی پنجاب کو ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کردی جس کے مطابق لاہور دھماکا پلانٹڈ ڈیوائس سے کیا گیا۔ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھماکے میں ڈیڑھ کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا، دھماکے میں ایک عمارت اور 8 موٹرسائیکلوں کو نقصان پہنچا۔ ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھماکے میں 29 افراد زخمی اور 2 جاں بحق ہوئے، جاں بحق افراد میں رمضان اورابصار شامل ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق  دھماکا ایک بج کر 40منٹ پر ہوا، 1بجکر 44منٹ پر نامعلوم شخص کی کال آئی، کال میں بتایا گیا نیو انار کلی میں دھماکا ہوا۔ ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اطلاع ملتے ہی لاہور پولیس سمیت انتظامیہ فوری پہنچی، پولیس، فارنزک ایجنسیاں اور دیگر تحققیاتی ادارے جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بارودی مواد کی تنصیب سے متعلق سی سی ٹی وی کیمروں سے مدد لی جارہی ہے، بعض مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا جن سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں انار کلی بم دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب حکومت سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔  وزیراعظم عمران خان نے انار کلی دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور پنجاب حکومت سے فوری اور جامع رپورٹ طلب کرلی ہے۔اپنے بیان میںوزیراعظم عمران خان نے کہا کہ زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔سابق صدر آصف علی زرداری نے انارکلی بازار میں ہوئے ٹائم ڈیوائس دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت دہشتگردوں کو قانون کی گرفت میں لائے، انہوں نے جانبحق افراد کے لواحقین سے ہمدردی اور دھماکے کے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا بھی کی۔نائب صدر مسلم لیگ(ن) مریم نواز نے بھی لاہور کے قدیم انار کلی بازار میں ہوئے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، ٹوئٹر پر جاری بیان میں مریم نواز نے دھماکے میں جاں بحق افراد کے ورثا سے اظہار ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔وزیر داخلہ شیخ رشید نے لاہور دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے پنجاب حکومت سیرپورٹ طلب کرلی ہے، شیخ رشید نے کہا کہ دھماکے سے انسانی جانوں کے ضیاع پر انتہائی دکھ ہوا، زخمی افراد کی جلد صحتیابی کے لییدعاگو ہوں۔ ایک نجی ٹی وی  سے خصوصی گفتگو میں وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا خدشہ تھا، کافی دنوں سے پشاور، اسلام آباد اور کراچی میں بھی تھریٹ موجود تھے۔امن کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے وا لے ناکام ہونگے، دھماکیسے متعلق مزیدتفصیلات لیکر میڈیا کو بتاوں گا۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے بھی لاہور دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے، صادق سنجرانی نے جاں بحق افرادکی مغفرت اورزخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔واضح رہے کہ اب سے تھوڑی دیر قبل لاہور کے مصروف اور قدیم بازار انار کلی میں خوفناک بم دھماکا ہوا تھا ، دھماکے کے نتیجے میں 9 سالہ بچے سمیت 2 افراد جاں بحق جبکہ 28 افراد زخمی ہوگئے ہیں